لاہور دھماکہ، مذموم سازش

لاہور دھماکہ، مذموم سازش
لاہور دھماکہ، مذموم سازش

  

لاہور میں شہر کے بارونق ترین علاقے انارکلی میں بم دھماکہ خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے۔یہ سیدھی سادی دہشت گردی کی واردات ہے اور اس کا مقصد وطن ِ عزیز میں عدم تحفظ پیدا کرنا اور خوف وہراس پھیلانا ہے۔یہ دھماکہ اس فیصلے کے دو روز بعد ہوا جو جوہر ٹاؤن بم دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو کیفردار تک پہنچانے کے لئے سنایا گیا۔کیا یہ ایک پیغام ہے کہ دہشت گرد زندہ ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے رہیں گے۔اس سے پہلے کوئٹہ  دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے۔ایک عام خیال یہ ہے کہ کوئٹہ چونکہ افغان بارڈر کے قریب ہے اور وہاں بیرونی مداخلت زیادہ ہے،اس لئے دہشت گردی کے واقعات اس کا نتیجہ ہیں،مگر چند روز  پہلے اسلام آباد میں پولیس ملازمین پر فائرنگ اور اس کے بعد جوابی فائرنگ میں دو دہشت گردوں کا مارا جانا اور اب لاہور میں یہ بم دھماکہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک ایک بار پھر منظم ہو رہا ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے تسلیم کیا ہے کہ سیکیورٹی خطرات موجود تھے اور ریڈ الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا، چار بڑے شہروں میں لاہور بھی شامل تھا، جہاں دہشت گردی کا خطرہ تھا،اس کے باوجود دہشت گرد اپنا وار کرنے میں کامیاب رہے۔لاہور پاکستان کا دِل ہے اور اسی دِل میں نقب لگانا  دہشت گردوں کی بڑی ازلی خواہش رہی ہے،کیونکہ یہاں اگر خدانخواستہ کوئی بڑا سانحہ ہو جائے تو اُس کے اثرات پورے صوبے ہی نہیں،بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور افغانستان میں حکومتی سیٹ اپ کی تبدیلی کے اثرات بہرحال پاکستان پر آئیں گے،جب تحریک طالبان پاکستان سے حکومت نے مذاکرات کی بات کی تھی، تب بھی سنجیدہ حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اگرچہ لاہور دھماکے کی ذمہ داری ایک دوسری تنظیم نے قبول کی ہے،جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ چند روز پہلے ہی وجود میں آئی ے تاہم جیسا کہ  وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے ہم نے سیز فائز ختم کر دیا ہے اور اب دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دہشت گرد مختلف شکلوں میں اپنا مذموم کردارا دا کر رہے ہیں اور اس وقت اُن سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔لاہور دھماکہ بڑے منظم انداز میں کیا گیا ہے۔بم کو عین بارونق جگہ تک پہنچایا گیا اور پھر ذرائع کے مطابق ٹائم ڈیوائیس سے اُسے اڑا دیا گیا۔بم زیادہ وزنی نہیں تھا، وگرنہ زیادہ تباہی پھیلنے کا باعث بنتا۔ تاہم گنجان آباد جگہ ہونے کی وجہ سے اس بم دھماکے نے بھی اردگرد کی ہر شے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ایسے دھماکوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ(دہشت گرد) ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔اب یہ قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی پر مامور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دھماکے میں ملوث عناصر تک پہنچیں،جس طرح جوہر ٹاؤن دھماکے کی بڑے منظم اور سائنسی انداز سے انکوائری کر کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اُسی طرح اس واردات کے ملزم بھی جلد قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

پنجاب پولیس کا اس حوالے سے ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ابھی حال ہی میں ایم پی اے  بلال یاسین پر حملے کی و اردات کو جس طرح پنجاب پولیس نے بڑے سائنسی انداز سے حل کیا اور ملزموں تک پہنچی، اس نے پولیس کے پروفیشنل ازم کو ثابت کیا ہے۔لاہور ویسے بھی ایک ایسا شہر ہے،جہاں سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک جال بچھایا گیا ہے، ہر واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ جاتی ہے۔لاہور دھماکے میں ملوث دہشت گرد کو بھی پہچان لیا گیا ہے جو بم لے کر موقع پر آتا ہے۔امید کی جانی چاہیے جلد ہی وہ،اُس کا نیٹ ورک پولیس کی گرفت میں آ جائے گا،جس کے بعد اندازہ ہو گا یہ کام کس کا ہے اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ اور تنظیمیں ملوث ہیں۔پنجاب پولیس اگر اس بم دھماکے کی تفتیش میں دہشت گردوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے میں آسانی ہو گی۔اسلام آباد اور لاہور کے واقعہ میں کیا ایک ہی تنظیم یا ہاتھ ملوث ہے؟ یا مختلف گروہ کام کر رہے ہیں،اس کا گھوچ لگانا بھی ضروری ہے۔

یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ افغانستان و پاکستان کی سرحد پر جو باڑ لگائی گئی تھی،وہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد کئی جگہوں سے ہٹا لی گئی ہے،بہت سا علاقہ تو ایسا ہے جہاں ابھی تک باڑ لگائی بھی نہیں جا سکی۔اس حوالے سے افغان حکومت کے ساتھ اس معاملے کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔طالبان کی حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔اگر تفتیش میں ایسے حقائق سامنے آتے ہیں کہ در اندازی افغانستان سے ہو رہی ہے تو پھر اس بات کو سفارتی سطح پر اٹھانا ضروری ہے۔پاکستان نے امن کے لئے بڑی قیمت ادا کی ہے،ہزاروں جانیں قربان کی ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان کیا ہے۔ ایک مضبوط اور مستحکم افغانستان پاکستان کی خواہش رہی ہے۔اب بھی پاکستان ہی دنیا کو افغانستان کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ اسلامی کانفرنس میں بارہا متحدہ افغانستان کے لئے پاکستان نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔اس کے علاوہ افغانستان کو امداد اور خوراک کے ضمن میں ہمیشہ پاکستان نے ہی عملی تعاون کا یقین دلایا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے۔

ایک طویل عرصے بعد دہشت گردی کے یہ واقعات ہمارے داخلی امن کو تباہ کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہیں،جس کا ہمیں بحیثیت قوم مقابلہ کرنا ہے۔ دہشت گرد پہلے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل کر سکے ہیں اور نہ اب کر سکیں گے،پہلے بھی دہشت گردی کو ہم نے شکست دی ہے اور اب بھی دیں گے،تاہم اس کے لئے جہاں عوام کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے وہیں سیکیورٹی پر مامور اداروں کو بھی پہلے سے زیادہ چوکنا رہنا پڑے گا۔ہمارا انٹیلی جنس نیٹ ورک بہت مضبوط ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے ہم نے ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کا عذب بھگتا ہے، لاشیں اٹھائی ہیں،اور ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے اپنے ہوش و حوس کو قائم رکھا ہے۔لاہور دھماکے میں ایک9سالہ معصوم بچہ بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کا دُکھ پوری قوم نے محسوس کیا،اللہ اس کے والدین کو یہ بڑا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ ہمارے شہروں کو آباد و شاد رہنا چاہیے۔امن کے دشمنوں کو ہم اپنی یکجہتی اور قومی جذبے سے شکست دیں گے، دہشت گردوں کے بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں،اُن میں اتنا دم خم نہیں کہ ہمارے آہنی عزم و کاز والی استقامت کو متزلزل کر سکیں۔لاہور دھماکہ خطرے کی گھنٹی ضروری ہے،مگر یہ ہمارے داخلی امن کو خراب کرنے کی ایک ناکام اور مذموم سازش کے سوا کچھ نہیں،ہم اس بار بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے اور دہشت گردی کی ہر سازش کو شکست دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -