صدارتی نظام قبول نہیں: احسن اقبال، پی پی اور پی ڈی ایم ملکر اسلام آباد آئیں: شیخ رشید

صدارتی نظام قبول نہیں: احسن اقبال، پی پی اور پی ڈی ایم ملکر اسلام آباد آئیں: ...

  

       اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں  حکومت اور اپوزیشن ایک بار پھر آمنے سامنے آگئیں اور ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا چیلنج اپوزیشن نہیں مہنگائی ہے، جب ہماری حکومت آئی  دو سال میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے بہت مشکل فیصلے کئے، اپوزیشن ضرور تنقید کرے ہم سنیں گے، جب ہم کہتے ہیں کہ ریکارڈ برآمدات ہوئی ہیں اس کا یہ ذکر نہیں کریں گے، جب کہتے ہیں ٹیکس کلیکشن  میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے اس کا یہ ذکر نہیں کریں گے، پاکستان کے عوام سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، اس وقت مہنگائی ہمارا چیلنج ہے کون مہنگائی سے غافل ہو گا،اس کا ہمیں تدارک کرنا ہے،  میں نے ایک خط شہباز شر یف اور بلاول بھٹو کو لکھا ہے خط کاجواب تو دے دو، گفتگو توکرو۔ مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کا وزیر خارجہ اتنا غیر سنجیدہ ہو گا تو خارجہ پالیسی کا کیا حال  ہوگا، پتہ نہیں کون بار بار یہ بحث  چھیڑ دیتا ہے کہ صدارتی نظام لے کر آنا چاہیئے، جو صدارتی نظام کی بات کرتے  ہیں وہ بتائیں کہ جتنا صدارتی نظام  پاکستان نے بھگتا ہے،شاید اس خطے میں کسی اور ملک نے نہیں بھگتا ہے،  آج پاکستان کی فیڈریشن کے حوالے سے یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کی خبریں چلاتے ہیں، ہم پاکستان کے آئین میں  پاکستان کے فیڈرل پارلیمانی نظام میں کسی قسم کی مداخلت اور ردوبدل کو قبول نہیں کریں گے  اور پاکستان کا ہر شہری اپنے اس آئین اور اپنے اس  وفاقی پارلیمانی نظام کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار بنے گا۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف  چیئر کے رکن امجد علی خان کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس  میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے22اور 23مارچ کو او آئی سی وزرائے خارجہ  کے اجلاس کے لئے  قومی اسمبلی کا   چیمبر استعمال کرنے  کے لئے قواعد کو معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ اس موقع پر اپوزیشن کے رکن برجیس طاہر نے کورم کی نشاندہی کر دی، کورم پورا نہ ہونے پر امجد علی خان نے اجلاس کی کاروائی کورم پورا ہونے تک ملتوی کر دی،  بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر نے دوبارہ گنتی کرائی اور کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کاروئی دوبارہ شروع کی۔ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن کشور زہرا نے کراچی میں گیس کی قلت  سے متعلق  توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا  جس کا جواب دیتے ہوئے  وفاقی وزیر برائے توانائی  حماد اظہر نے ایوان کو بتایا کہ کراچی 99 فیصدسسٹم گیس پر ہے ایل این جی پر نہیں، انہوں نے کہا کہ سب سے تیزی سے سندھ میں گیس کم ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ فروری میں گیس کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، حماد اظہر نے کہا کہ کچی بستیوں میں بلنگ کے بڑے مسائل آتے ہیں،  جہاں چوری زیادہ ہے ایف آئی آر کا فوکس بھی وہیں زیادہ ہوگا، گیس کی چوری پاکستان کے کسی بھی حصے میں ہو اس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا  وزیر خارجہ کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رکن احسن اقبال نے کہا کہ آج  وزیر خارجہ کی گفتگو میں کبھی مجھے  شہزاد اکبر، کبھی  فروغ نسیم  اور کبھی شہباز گل کا چہرہ نظر آتا تھا، آج تو شاید انہوں نے اپنی رونمائی کی ہے پی ٹی آئی کی متبادل قیادت کی حیثیت سے بھی، شاید  یہ انٹرویو دینا چاہ رہے تھے کسی کو کہ عمران خان کے بعد میں بھی ہوں میرے پر توجہ کر لیں،  میں بھی وزیراعظم کا امیدوار بن سکتا ہوں،اگر کسی ملک کا وزیر خارجہ اتنا غیر سنجیدہ ہو گا تو خارجہ پالیسی کا کیا حال  ہوگا، احسن اقبال نے کہا کہ ان کی نگرانی میں کھاد ملک سے اسمگلنگ ہوئی ہے، وہ یوریا جو ہمارے دور میں 1400کی  ملتی تھی آج 2900میں بھی نہیں مل رہی،کون ہے اسمگلنگ کا ذمہ دار؟  پنجاب کی حکومت بھی ان کی ہے وفاق کی حکومت بھی ان کی ہے لیکن  یہ بے بس نظر آتے ہیں ،ہم نے آخری سال چھ فیصد کی گروتھ دکھائی، انہوں نے معیشت کا حجم سکیڑدیا ہے،  ووٹر  جب سبزی لینے جاتا ہے تو سبزی کی قیمت سن کر  اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں، چینی  آٹا لینے جاتا ہے اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں، جب گیس کا بل آتا ہے بل کو دیکھ کر اسے غشی کادورہ پڑ جاتا ہے، ہم تو ان لوگوں کی بات کریں گے جومہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں،  ہمارے ہاں مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں کیوں ہے، انہوں نے پاکستان کو قرضوں کے جال میں دھکیل دیا ہے،  احسن اقبال نے کہا کہ پتہ نہیں کون بار بار یہ بحث  چھیڑ دیتا ہے کہ صدارتی نظام  لے کر آنا چاہیئے، جو صدارتی نظام کی بات کرتے  ہیں وہ بتائیں کہ جتنا صدارتی نظام  پاکستان نے بھگتا ہے،شاید اس خطے میں کسی اور ملک نے نہیں بھگتا ہے  احسن اقبال نے کہا کہ  آج پاکستان کی فیڈریشن کے حوالے سے یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کی خبریں چلاتے ہیں ہم پاکستان کے آئین میں  پاکستان کے فیڈرل پارلیمانی نظام میں کسی قسم کی مداخلت اور ردوبدل کو قبول نہیں کریں گے  اور پاکستان کا ہر شہری اپنے اس آئین  اور اپنے اس  وفاقی پارلیمانی نظام کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار بنے گا۔ احسن اقبال کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ جب معیشت  پر دلائل ختم ہو جائیں تو اس طرح کی روایتی تقریریں کی جاتی ہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے احسن اقبال کے مناظرہ چیلنج پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن میں پارلیمنٹ میں بات سننے کا حوصلہ نہیں، جب ان کے پاس بولنے کیلئے کچھ نہ ہو تو مطالعہ پاکستان کا لیکچر دیتے ہیں۔قومی اسمبلی میں احسن اقبال اور حماد اظہر میں جوڑ پڑ گیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت برباد کر دی، ٹی وی پر مناظرہ کر لیں، ہر ناکام وزیر کا لیکچر نہ سنایا جائے، جو گیس نہیں دے سکا وہ اقتصادیات پر تقریر کرتا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے اس موقع پرپوچھا کہ حماد اظہر آپ کو ٹی وی چیلنج کیا گیا ہے، کیا آپ جواب دیں گے؟ جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ میں ٹی وی کیا اس ایوان میں ان کو ان کے چیلنج کا جواب دونگا، ان کے پاس معیشت کے حوالے سے بات کرنے کے لئے کوئی بات نہیں تھی اور اسی وجہ سے ہمیں ساتویں جماعت کے مطالعے پاکستان کا لیکچر دے رہے تھے، ملک کو دیوالیہ کیا پھر پانچ اعشاریہ چار فیصد گروتھ ظاہر کی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں گیس کی قلت پر ایم کیو ایم اراکین کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے ختم ہورہے ہیں، سب سے زیادہ تیزی سے سندھ میں گیس کم ہورہی ہے، سندھ چند سال میں گیس برآمد سے گیس درآمد والا صوبہ ہوگا، انڈسٹری کی طرف سے گیس کاٹنے پر حکم امتناع لے لیا گیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایک سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس انڈسٹری سے کراچی کوموسم سرما میں دی جاتی تھی، حکم امتناع ختم ہوجائے تو کراچی میں گیس سپلائی بہتر ہوجائے گی۔ قومی اسمبلی میں ”پرائیویٹ پاور  اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (ترمیمی) بل 2022پیش کر دیا گیا۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں حکومت کی جانب سے دو آرڈیننسوں  میں مزید 120دن کی توسیع کی قراردادیں  پیش کی گئیں جنہیں ایوان نے منظور کر لیا۔ وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے پرائیویٹ پاور  اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ ایکٹ 2012میں مزید ترمیم کرنے کا بل ”پرائیویٹ پاور  اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (ترمیمی) بل 2022“پیش کیا۔او آئی سی وزرائے خارجہ کے 48 ویں اجلاس کیلئے قومی اسمبلی کا ایوان استعمال کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے 48ویں اجلاس کیلئے قومی اسمبلی ایوان استعمال کرنے کی تحریک پیش کی جس میں کہاگیاکہ او ائی سی وزرائے خارجہ لے 48ویں اجلاس کیلئے قومی اسمبلی ایوان استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، 22، 23مارچ یا کسی بھی اور دن او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس منعقد کیا جائے گی

قومی اسمبلی اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سینیٹ نے ملک میں دہشتگردی کی بڑتی ہوئی ورداتوں پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے ملک میں امن وامان کے حالات پر بحث کرانے کامطالبہ کردیا،ایوان بالا میں لاہوردھماکہ ودیگر دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے لیے دعاکرائی گئی۔اپوزیشن رہنماؤں نے کہاکہ حالیہ دہشت گرد حملوں بالخصوص لاہوردھماکہ پر وزیر داخلہ ایوان میں آکر تفصیل بتائیں،دہشت  گردی  کی وارداتیں بڑھ رہی  ہیں حکومت مہنگائی کی طرح دہشتگردی کوبھی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے  دہشت گرد شہروں میں گھس گئے ہیں۔حکومتی اتحادی سینیٹرسرفراز بگٹی نے کہاکہ لاہور میں دودہشتگرد تنظیموں نے بلوچ نیشنل آرمی بناکر دس دن میں حملہ کیا ہے قوم پرستی کے نام پر دہشتگردی ہورہی ہے۔ہم دہشتگردوں کو ناراض بلوچ کہتے ہیں بے گناؤں کوقتل کرنے سے ناراض بلوچوں کی تسکین ہوتی ہے،لاہوردھماکہ کی ذمہ دای بلوچ نیشنل آرمی کی اور وزیر داخلہ ٹی ٹی پی کہے رہے ہیں جس پر حیران ہوں۔وزیرداخلہ شیخ رشیداحمدنے کہاہے کہ  اسلام آباد میں پولیس پر حملے میں ملوث دہشت گردوں تک پہنچ گئے ہیں 6سہولت کاروں کوگرفتارکرلیاہے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں نے جہاں رات گزاری کھاناکھایاسب پتہ چل گیاہے۔لاہور دھماکہ اور ملک میں امن امان کی صورت حال پرسوموار کوایوان میں بحث کرائی جائے گی۔جمعہ کوسینیٹ کااجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سراہی  میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس شروع ہواتو سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹررضا ربانی نے کہاکہ ملک میں دہشت گردی کی وارد تیں  بڑھ گئی ہیں پہلے اسلام آباد میں دہشت گردی کاواقعہ  ہوا اور اب لاہور میں دھماکہ ہواہے انارکلی دھماکے  میں دو متضاد باتیں سامنے آ رہی ہیں ایک اس واقع کی ذمہ داری بی ایل نے قبول کی وزیر داخلہ  اس کا الزام ٹی ٹی پی پر عائد کر رہے ہیں وزیر داخلہ ایوان میں آکر واضاحت کریں  وارداتیں بڑھ رہی ہیں جو ثابت کر رہی ہیں کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی غلط ہے۔قائدحزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اس سے سیکورٹی کے لوگ بھی محفوظ نہیں وزیر داخلہ ایوان میں آکر ملک میں دہشت گردی کی لہر پر بریفنگ دیں۔وزیرریلوے سینیٹراعظم سواتی نے کہاکہ پاکستان کے دشمن ملک کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی ہیں حکومت جواب دہ ہوتی ہے وزیر داخلہ ایون میں آکر  دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی وضاحت کریں گے بتائیں گے کہ جو واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہے وزیر داخلہ کی امن و امان کی  صورت حال کے حوالے سے کلیدی ذمہ دارے ہے۔سینیٹراعظم نذیر تاررڑ نے کہاکہ ہماری شہروں تک دوبارہ دہشت گرد گھس آئے ہیں وزیر داخلہ ایوان میں آکر بریفنگ دیں کہ مستقبل کا ہمارا کیا لائحہ عمل ہے۔سینیٹرمشاق احمد نے کہاکہ گذشتہ ایک ہفتہ میں 7دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں۔وزیر داخلہ کہے رہاہے  کہ ملک میں دہشت گردوں کے سلیپر سیل ہیں  اس کا وہ جواب دیں۔سینیٹرسعدیہ عباسی نے کہاکہ ایوان کے ایجنڈے کو موخر کرکے امن وامان کے معاملہ پر بحث کرائی جائے وزیر داخلہ ایوان میں آئیں۔کامران مرتضی نے کہاکہ ہاتھ اور پاں پر روز حملے ہوتے ہیں کل دل پر حملہ ہوا ہے کن پالیسیوں کی وجہ سے یہ حملہ ہوتے ہیں ان کا پتہ کرایا جائے پالیسیوں کو ٹھیک کیا جائے ؎بعد ازاں سینیٹ مین کظاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن کو مل کر اسلام آباد آنے کا مشورہ دے دیا، وزیر داخلہ بولے مولانا فضل الرحمان اکیلے اسلام آباد نہ آئیں بلکہ بلاول کو بھی ساتھ لائیں۔ اپوزیشن کی جانب سے اعتراضات پر قانون سازی سے متلعق چار بلوں کی منظوری موخر کردی گئی۔سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے نکتہ اعتراض پرکہا کہ لاہور دہشتگردی واقعے کے بعد جب ہمارے لوگ ہسپتال خون دینے پہنچے تو ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ خون دینے اور خبر بنانے میں فرق ہوتا ہے تاہم اگر آپ لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس پر ایکشن ہوگا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم کمربستہ ہیں آپ سب ملکر اسلام آباد آئیں، مولانا فضل الرحمان اکیلے اسلام آباد نہ آئیں بلکہ بلاول کو بھی ساتھ لائیں۔ آپ سب مل کر آئیں گے تو پولیس اور انتظامیہ کی توانائی بھی ضائع نہیں ہوگی۔انہوں نے بتایا 18 تاریخ کو اسلام آباد میں وفاقی پولیس کا اہلکار شہید ہوا جس کی ذمے داری ٹی ٹی پی نے قبول کی، ٹی ٹی پی کے دو لوگ کہاں سے کہاں ٹھہرے اور کھانا کہاں کھایا یہ نہیں بتا سکتا۔وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران خلیج اور دیگر ممالک میں ملازمت کے لئے گیارہ لاکھ انتالیس ہزار سے زائد پاکستانی ملازمت کیلئے بیرون ملک جاچکے، وزارت سمندرپار پاکستانیز نے بیرون ملک ملازمت کیلئے جانے والوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔سینٹ اجلاس میں صدر مملکت کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر بحث پر ہوئی۔ سینٹرفیصل جاوید نے کہا کہ معاشی گروتھ 5.37 فیصد تک پہنچ گئی، کل کے پاکستان میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔آج ورلڈ بینک، بلوم برگ، اکانومسٹ کی رپورٹس معاشی بہتری کی تصدیق کر رہی ہیں۔قرۃ العین مری اور دیگر نے کہا کہ حکومت کہتی ہے ملک میں کوئی مہنگائی نہیں ہے، سروے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ سینٹر فیصل جاوید نے کہا کہ کورونا کے باوجود آج پاکستان کی معیشت کی بہتری عالمی ادارے بھی تسلیم کر تے ہیں۔ سرے محل اور بیرون ملک اپارٹمنٹس بنائے گئے، شہباز شریف کی منی لانڈرنگ پر ایف آئی اے کی رپورٹ موجود ہے۔ایوان بالا میں دارالخلافہ لوکل گورنمنٹ آرڈینس 2021 ایوان میں پیش کیا گیا، وزیر داخلہ شیخ رشید نے بل ایوان میں پیش کیا جبکہ پاکستان نرسنگ کونسل ایمرجنسی مینجمنٹ آرڈیننس بل وفاقی وزیر سینٹر شبلی فراز نے پیش کیا، سینیٹ اجلاس پیر کی سہ پہر اڑھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -