پی آئی سی میں بغیر آپریشن دل کا والوتبدیل کرنا بڑی کامیابی ہے: بیر سٹر محمد علی سیف

پی آئی سی میں بغیر آپریشن دل کا والوتبدیل کرنا بڑی کامیابی ہے: بیر سٹر محمد ...

  

        پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ کی بدولت صوبے میں صحت کے نظام نے ترقی کی ہے۔ وزیراعلیٰ کی قیادت میں صحت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور صوبے میں صحت نظام نے ترقی کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے صحت کے شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے کئی دیگر اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز کا قیام، ہسپتالوں میں صحت سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبے شامل ہیں۔ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بغیر سینہ چاک کیے دل کا والو تبدیل کرنا بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے اور وزیراعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں صحت کے شعبہ میں کی جانے والی اصلاحات میں سے ایک ہے۔ پی آئی سی میں ماہر ڈاکٹرز موجود ہیں اور اس طرح کے پیچیدہ آپریشنز کامیابی سے سرانجام دینا ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر سیف نے یہاں اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہنا تھا کہ بغیر سینہ چاک کیے مریض کے دل کا وال تبدیل کرنے کا آپریشن خیبر پختونخوا میں پہلی بار سرانجام دیا گیا جس کے لیے پی آئی سی کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر علی رضا سمیت پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے دور دراز علاقوں میں بہترین صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کر رہی ہے تاکہ نجی شعبہ کے ساتھ مل کر ان علاقوں کے رہائشیوں کو صحت کی وہ تمام سہولیات مہیا کی جا سکیں جو شہری علاقوں کے لوگوں کو میسر ہیں۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبے میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سوات میں ڈینٹل کالج کا سنگ بنیاد رکھا جبکہ اس سے قبل وہ مانسہرہ، بونیر، دیر، چارسدہ اور کرم میں بھی میڈیکل کالجز تعمیر کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاون طبی عملے کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی خیبر پختونخوا میں کئی ادارے فعال ہیں۔ صوبائی حکومت پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جس کے تحت دیہاتوں میں قائم بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز میں ڈاکٹرز، طبی عملے اور تمام صحت سہولیات کی فراہمی سمیت انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا رہا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -