خریدار کے شناختی کارڈ کی شرط، کاروباری برادری ہراساں، معیشت متاثر ہوگی 

خریدار کے شناختی کارڈ کی شرط، کاروباری برادری ہراساں، معیشت متاثر ہوگی 

  

 ملتان (نیوز   رپورٹر)ایوان تجارت وصنعت ملتان کے سابق صدور نے منی بجٹ میں ریٹیلرز اور مینوفیکچررز سمیت تمام فروخت کنندگان پر نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرتے وقت شناختی کارڈ کے اندراج کی شرط کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہیاور کہا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری برادری میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان کے سابق صدرو میاں تنویر اے شیخ،فرید مغیث  شیخ،(بقیہ نمبر15صفحہ6پر)

خواجہ محمد یوسف،خواجہ جلال الدین رومی،محمد خان سدوزئی اور شیخ فضل الٰہی نے کہا کہ حالیہ منی بجٹ میں ریٹیلرز اور مینوفیکچررز سمیت تمام فروخت کنندگان پر ایک مرتبہ پھر نان رجسٹرڈ  خریدار کو مال فروخت کرتے وقت شناختی کارڈ کے اندراج کی سخت شرط لاگو کر دی گئی ہے جو کہ کاروباری برادری کیلئے ہراسمنٹ کا سبب بنے گی۔ کاروباری برادری اسکی شدید مذمت کرتی ہے اور اس شرط کو مسترد کرتی ہے۔ ماضی میں کاروباری برادری کی پر زور اپیل پر حکومت نے نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں شناختی کارڈ کی تصدیق نہ ہونے پر فروخت کنندگان کی ذمہ داری کو ختم کر دیا تھاجبکہ حالیہ منی بجٹ میں نان رجسٹرڈ خریدار کی شناختی کارڈ کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری فروخت کنندگان پر ڈال دی گئی ہے اور اس صورت میں فروخت کنندگان کو جرمانہ اور قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جو کہ سراسر نا انصافی ہے کیونکہ ایسی صورت میں کاروباری برادری پر مزید بوجھ پڑے گا اور لوگ ہراساں ہونگے جس سے کاروبار کی بندش میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گی۔ سابق صدورنے کہا کہ ماضی میں اس شرط کے اطلاق کی وجہ سے بہت سے کاروبار بند ہوئے اور ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔  ملک کی موجودہ معاشی و کاروباری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس شرط کو ختم نہ کیا گیا تو وہی صورتحال دوبارہ رونما ہو سکتی ہے جس کاہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی جانب سے پہلے ہی نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں  20%  سیلز ٹیکس کی ادائیگی ہو رہی ہے جبکہ رجسٹرڈ خریدار کی صورت میں  17%  سیلزٹیکس کی ادائیگی ہوتی ہے۔ لہذا فروخت کنندگان کی جانب سے نان رجسٹرڈ خریدار کو مال فروخت کرنے کی صورت میں حکومت کو ٹیکس محاصل میں کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر سے حکومت کو  17%  کے علاوہ مزید   3% سیلز ٹیکس کی ادائیگی کی جا رہی ہے جو کہ اس سیکٹر پر ایک الگ اضافی بوجھ ہے۔ ملک کی موجودہ کاروباری صورتحال، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری برادری حکومت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ منی بجٹ میں فروخت کنندگان پر ڈالی گئی بے جا ذمہ داری کو فوری طور پرختم کیاجائے۔ اس ذمہ داری کے عائد کرنے سے مصنوعات کی پیداواری لاگت اور قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کاروباری حلقوں میں بدامنی بڑھے گی جس سے ملکی معیشت مزید شدید بحران کا شکار ہو گی۔

شناختی کارڈشرط

مزید :

ملتان صفحہ آخر -