لندن سے علیحدگی کے بعد کچھ لوگ ڈمی سربراہ بنانا چاہتے تھے: فاروق ستار

لندن سے علیحدگی کے بعد کچھ لوگ ڈمی سربراہ بنانا چاہتے تھے: فاروق ستار

  

      کراچی (سٹاف رپورٹر)سربراہ تنظیم ایم کیو ایم بحالی کمیٹی ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا ہے کہ  لندن سے علیحدگی کے بعد کچھ لوگ مجھے ڈمی سربراہ بنانا چاہتے تھے جیسا کہ اب خالد مقبول ہیں۔خوشی فہمی تھی کہ لندن سے علیحدگی کے بعد مڈل کلاس جماعت بنالوں گا، پارٹی کو جگاڑ والے اور خرابیوں والوں سے صاف کرنا چاہتا تھا مگر خرابی اتنی سرائیت کرگئی کہ وہ میرے ہی پیچھے پڑگئے۔کرپشن کرنے میں پیپلزپارٹی اے ٹیم تو ایم کیوایم کے کچھ لوگ بی ٹیم ہیں۔سانحہ 12مئی میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث تھیں۔بانی ایم کیو ایم سے رابطہ کمیٹی نے بھی منتیں کیں کہ ریلی نہ نکالیں مگر انہوں نے کہا کہ ریلی ضرور نکلے گی۔خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لندن سے علیحدگی کے بعد کچھ لوگ مجھے ڈمی سربراہ بنانا چاہتے تھے جیسا کہ اب خالد مقبول ہیں، میں ان کی دکانوں کو بند کرنیجارہا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سب میریخلاف ہوگئے، میں نے ان سب کو بچایا لیکن انہوں نے مجھے یہ صلہ دیا۔متحدہ پاکستان کے سربراہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کے موجودہ سربراہ خالد مقبول کا بلدیاتی دور بدترین تھا، کرپشن کرنے میں پیپلزپارٹی اے ٹیم تو ایم کیوایم کے کچھ لوگ بی ٹیم ہیں۔ایم کیوایم بحالی کے سربراہ فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ 22 اگست واقعے کے اگلے روز ندیم نصرت نے مجھے فون کیا اور کہا کہ بانی ایم کیوایم معافی مانگ رہے ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ ان کا معافی نامہ پریس کانفرنس میں دکھائیں، میں نے کہا کہ نہیں دکھاؤں گا اب میں علیحدہ ہوں، یہی نہیں ایم کیوایم بانی کے بہنوئی یونس بھائی نے ملنے کا کہا تو میں نے انکار کردیا۔فاروق ستار نے بتایا کہ اس کے باوجود ایم کیوایم، پی ایس پی نے پروپیگنڈا کیا کہ میرا لندن سے رابطہ ہے، پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا لندن سے رابطہ ہوتا تو کیا انٹیلی جنس اداروں سے چھپ سکتا ہے؟ میں امریکا بھی جاؤں تو یہاں تاثر دیاجاتاہے کہ لندن سے رابطہ کیا ہے، واضح طور پر بتادوں کہ گذشتہ 6 سالوں سے میرا لندن سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ایم کیو ایم میں عسکری ونگ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر فاروق ستار نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ ایم کیوایم کا عسکری ونگ تھا تو اس کا ہیڈ کون تھا؟ وہ عسکری ونگ باقاعدہ تھا یا کچھ لڑکے اس کام میں لگیتھے یہ بھی ضرور دیکھا جائے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے تصدیق کی کہ 22 اگست واقعے کے بعد مجھے ن لیگ سے اچھے پیکج کی ساتھ شمولیت کی دعوت دی گئی، پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی نے بھی آفرز کیں، مگر میں نہیں گیا۔بارہ مئی 2007 سے متعلق فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ اس روز ساری پارٹیاں ملوث تھی، اعتراف کرتا ہوں کہ ایم کیوایم کو ریلی نہیں نکالنی چاہیے تھی، بانی ایم کیو ایم سے رابطہ کمیٹی نے بھی منتیں کیں کہ ریلی نہ نکالیں مگر انہوں نے کہا کہ ریلی ضرور نکلے گی۔

مزید :

صفحہ اول -