رستم ٹائپ ڈی ہسپتال میں ڈاکٹر کی غیر حاضری، بچی جاں بحق، وزیر صحت کا نوٹس

رستم ٹائپ ڈی ہسپتال میں ڈاکٹر کی غیر حاضری، بچی جاں بحق، وزیر صحت کا نوٹس

  

       پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے رستم ٹاپ ڈی ہسپتال میں ڈاکٹر کی مبینہ غیر حاضری کے باعث جاں بحق ہونے والی بچی کے والدین کیساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں، جاں بحق بچی کے والدین کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ان جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت میں اصلاحات جاری ہیں۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر صحت کے عملے کیلئے محکمے میں کوئی جگہ نہیں۔ ہم نے دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ان کی ُپرکشش تنخواہیں مقرر کی ہیں۔واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تیمور جھگڑا نے بتایا کہ ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر کچکول کو فی الفور اس سلسلے میں انکوائری بٹھانے اور پانچ دن کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سوگوار خاندان کی شنوائی ہوگی اور انہیں انصاف ضرور فراہم کیا جائے گا۔ اس مد میں ڈاکٹر کا بیان پہلے ہی سامنے آچکاہے لیکن انکوائری ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کاروائی کا تعین کیا جائے گا۔ کورونا کے نئے ویرئنٹ اومی کرون کی بڑھتی ہوئی مثبت شرح کے بارے میں وزیر صحت نے بتایا کہ نئے ویرئینٹ کا پھیلاؤ دیگر ویرئنٹ کی نسبت زیادہ ہے تاہم محکمہ صحت پہلی چار لہروں سے نبرد آزما ہونے کے بعد ہر طرح کی ایمرجنسی کے لئے پوری طرح الرٹ ہے۔ کنٹیکٹ ٹریسنگ، دیگر ممالک اور صوبوں سے انے والے مسافروں اور بین الاضلاعی آمدورفت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے انہوں نے بتایا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد میں سختی لائی جارہی ہے، ویکسینیشن بڑھانے کیلئے خصوصی مہم ترتیب دی جا رہی ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر سکریننگ کی شرح میں بہتری لانے کیلئے اہداف مقرر کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں، ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں اور بوسٹر ڈوز جلد سے جلد لگوالیں۔

مزید :

صفحہ اول -