’’مجھے کہا گیا میں بہادر جج ہوں لیکن میں نے کہا کہ جج کو بہادر نہیں ڈرپوک ہونا چاہیےاور۔۔‘‘جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تقریب سے خطاب

’’مجھے کہا گیا میں بہادر جج ہوں لیکن میں نے کہا کہ جج کو بہادر نہیں ڈرپوک ...
’’مجھے کہا گیا میں بہادر جج ہوں لیکن میں نے کہا کہ جج کو بہادر نہیں ڈرپوک ہونا چاہیےاور۔۔‘‘جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تقریب سے خطاب

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کہا گیا میں بہادر جج ہوں لیکن میں نے جواب دیا کہ جج کو بہادر نہیں ڈر پوک ہونا چاہیے ، بہادر جج وہ ہو گا جو حق میں فیصلہ دے گا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہناتھا کہ جتنے بھی قانون بنتے ہیں وہ انگریزی زبان میں بنتے ہیں، سمجھ نہیں آتا وہی قانون اردو میں کیوں شائع نہیں ہو سکتا ،قانون کے شعبے سے میری وابستگی کو 44 سال ہو گئے ہیں ،جج کو اللہ اور آئین کا ڈر ہونا چاہیے ، ہماری زندگیاں ایک ہی مقصدکے تحت گزرتی ہیں، ہمارے نظام میں فیصلے بہت دیر سے آتے ہیں ، عوام کو شکایت ہےفیصلےبرسوں بعدہوتےہیں،مقدمہ کرنیوالےکی شناخت کیلئےبائیومیٹرک ضروری قراردیا، عدالتوں میں ہڑتال کی سزاسائلین کوبھگتنی پڑتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دن کار فری رکھنا چاہیے ، گاڑیوں کی آمدو رفت سے متعلق مال روڈکی بہت بری حالت ہے ، اعلیٰ افسران اور حکام پیدل چلیں تو صوتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی ، گاڑیاں گھروں میں رکھنے سے آلودگی میں بھی کمی ہو گی ،پیدل چلنے سے صحت بھی بہتر رہتی ہے ۔ 

مزید :

قومی -