’’ملک میں ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا شور مچاہے لیکن کابینہ میں ایسی کوئی تجویز نہیں‘‘شیخ رشید کھل کر بول پڑے

’’ملک میں ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا شور مچاہے لیکن کابینہ میں ایسی کوئی ...
’’ملک میں ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا شور مچاہے لیکن کابینہ میں ایسی کوئی تجویز نہیں‘‘شیخ رشید کھل کر بول پڑے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہے کہ عمران خان کی نیت صاف ہے ، اللہ مدد کر رہاہے ، دیکھیں نہ تھوڑی سی کھاد کی کمی ہوئی اور اللہ نے بارش کے انبار لگا دیئے ہیں ، ان کو خود خیال کرنا چاہیے کہ دنیا کا اتنا بڑا کراوڈ ، او آئی سی کے وزیر خارجہ  23 تاریخ کو آ رہےہیں ، اور وہ 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے ۔اپوزیشن کو لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کر کے 24 یا 27 رکھ لینی چاہیے یا پھر بلاول کے ساتھ آج جائیں ،  ٹی ٹی پی کی شرائط ایسی تھیں کہ وہ قبول نہیں کی جاسکتی، اگر وہ قانون ،آئین  اور پاکستانی جھنڈے تلے آئیں تو ہمارے دروازے کھلے ہیں اگر وہ لڑیں گے تو ان سے لڑا جائے گا ، آج وہاں ماحول ہمارے خلاف نہیں ہے ، شیخ رشید کا کہناتھا کہ ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا شور مچا ہواہے لیکن ایسی کوئی بھی تجویز ابھی وفاقی کابینہ میں نہیں آئی ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ جوہر ٹاؤن کے بعد انارکلی میں کل کا واقعہ ہوا، 18 کو اسلام آباد میں 2 دہشتگرد مارے گئے جن کا ٹی ٹی پی نے اعتراف بھی کیا اور ان کے چھ ساتھیوں تک بھی ہم پہنچے ، یہ جو لہر 15 اگست کے بعد تین مہینوں میں 38 فیصد بڑھی ہے ، یہ ہماری قوم ،مورال ، جذبے ، افواج کو شکست نہیں دے سکتی ہے ، یہ بھی کہتاچلوں کہ یہ پتا نہیں  ابھی بی این اے نے انارکلی کا واقعہ  کی ذمہ داری قبول کی ہے،11 فروری کو یہ دونوں گروپ اکھٹے ہوئے ہیں اور بی این اے بنی ہے ، انشاء اللہ آپ دیکھیں گے ، پاکستان آگے جائے گا ،ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور 150 ارب ڈالر بھی اپنی ریاست کے اس جنگ پر لگائے ہیں، آج نہیں بلکہ رات کو ہی وزارت داخلہ نے افواج ، چیف سیکرٹریز اور دیگر اداروں کو الرٹ رہنے کی وارننگ دی ہے ، ان کو کہاہے کہ جاگتے رہناہے ، ہماری قوم ان مصائب کا مقابلہ کرنے کیلئے سینہ تان کر کھڑی ہوئی ہے ،جو کہتے تھے کہ یہ حکومت جارہی ہے ان کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں ۔ ابھی عمران خان نے حلف اٹھایا تھا کہ انہوں نے جانے کی باتیں شروع کر دی تھیں ،عمران خان کہیں نہیں جا رہا ، عمران خان کی حکومت اپوزیشن کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے ،23 مارچ سے او آئی سی کے لیڈر ز آ رہے ہیں، 22 مارچ سے بعض سڑکیں بند ہوں گی ، اپوزیشن اپنے فیصلوں پر غور کریں ،کورونا ہے اور انٹرنیشنل معاملات ہیں ، سینکڑوں کی تعداد میں مہمان او آئی سی میں آ رہے ہیں اور وہ 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے ۔

عمران خان کی حکومت میں نیشنل ایکشن پلان بن چکا ہے ، ہم نے ایسے اداروں کو جنم دیدیاہے جو تمام چیزوں پرنظر رکھے ہوئے ہیں ، طالبان کو جو کامیابی حاصل ہوئی ، طالبان نے اس بات کی گرنٹی دی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ، ٹی ٹی پی کے گروپوں سے طالبان نے ایک پل کا کردار بھی ادا کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی شرائط ایسی تھیں کہ وہ قبول نہیں کی جاسکتی، اگر وہ قانون ،آئین  اور پاکستانی جھنڈے تلے آئیں تو ہمارے دروازے کھلے ہیں اگر وہ لڑیں گے تو ان سے لڑا جائے گا ، آج وہاں ماحول ہمارے خلاف نہیں ہے ،

آج اافغانستان میں ماحول ہمارے خلاف نہیں ہے ، آج وہاں طالبان ہیں ، ، ’’این ڈی ایس‘‘ اور ’’را ‘‘کو جو افغانستان میں شکست ہوئی، طالبان نے 42 طاقتوں کو شکست دی ، ان کے چھوٹے موٹےگروہ پاکستان میں دہشتگردی کی فضا بنانا چاہتے ہیں ، یا دہشتگردی کا کوئی عمل کرنا چاہتے ہیں ، انہیں شکست فاش ہو گی ، پاکستان کی فوج اور قوم پہلے سے کئی زیادہ حوصلے سے زندہ ہے اور تجربہ کارہے ، 

عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ اسے ایسی اپوزیشن ملی ہے جس کے رنگ پسٹن بیٹھے ہیں اور انجن دھواں دے رہاہے ، وہ کہہ رہے ہیں وہ اسلام آباد آ رہے ہیں، آجائیں بھائی، یہ منہ اور مسور کی دال ، آپ کس منہ سے اسلام آباد آ رہے ہیں ، آپ نے اس ملک کولوٹا ۔

 اللہ کو منظور ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے ، جو لوگ کہہ رہے ہیں ہم جا رہے ہیں ،عقل ان کا ساتھ چھوڑ گئی ہے ، نہ ہم جا رہے ہیں ، نہ آپ اس قابل ہیں کہ آپ آ رہے ہیں ، بلدیاتی الیکشن کی تیاری ہے ، اگر اپوزیشن نے ایسی کوئی بڑی غلطی کی جس سے جمہوریت نقصان ہوا تو یہ ان کا نقصان ہو گا ۔

میری ان سے درخواست ہے کہ 23 کو 24 یا 27 مارچ کر لیں، بلاول نے جو تاریخ دی ہے اس کے ساتھ مل کر آجائیں ، ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ، اگر آپ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے تو ہم آپ کو ہاتھ میں نہیں لیں گے ، پھر کسی کو گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہے۔شیخ رشید کا کہناتھا کہ ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا شور مچا ہواہے لیکن ایسی کوئی بھی تجویز ابھی وفاقی کابینہ میں نہیں آئی ہے ، 

مزید :

اہم خبریں -قومی -