امریکہ، روس مذاکرات میں یوکرین کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

امریکہ، روس مذاکرات میں یوکرین کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق
امریکہ، روس مذاکرات میں یوکرین کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق
سورس: twitter

  

جنیوا(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ اور روس کے اعلی سفارت کاروں نے یوکرین کے معاملے پر تنا ﺅکم کرنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کرلیا، امریکہ کی جانب سے روسی سلامتی کے مطالبات پر تحریری جواب دینے کا وعدہ اور دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ملاقات کے امکان کوبھی رد نہیں کیا گیاہے ۔

غیر ملک خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے جنیوا میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے 90 منٹ کی ملاقات میں روسی حملے کی صورت میں سخت مغربی انتقامی کارروائیوں کی تجدید کی ۔انٹونی بلنکن نے اعلی سطح کی بات چیت کو بے خوف اور غیر مناظرانہ قرار دیا جبکہ سرگئی لاروف نے مذاکرات کے دوران سرد جنگ کے سابق دشمنوں کے درمیان درجہ حرارت میں کمی کی امید بھی ظاہر کی۔روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کے منصوبے سے انکار کیالیکن ساتھ ہی یوکرین کی سرحد پر اپنے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کردیا اور سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کیا جس میں نیٹو میں شامل ہونے پر یوکرین پر مکمل پابندی شامل ہے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، اگلے ہفتے روس کے ساتھ تحریری خیالات کا تبادلہ کرے گا جس میں وہ اپنی پوزیشن بھی واضح کرے گا، ہمیں آج کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں تھی لیکن مجھے یقین ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کے تحفظات اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کے حوالے سے واضح راستے پر گامزن ہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ روس کے ساتھ اپنے تحفظات اور خیالات کو اگلے ہفتے تحریری طور پر مزید تفصیل سے شیئر کریں گے اور اس کے بعد ہم نے مزید بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔

صحافیوں سے الگ بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ انہیں اگلے ہفتے تحریری جواب دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، انٹونی بلنکن نے اتفاق کیا کہ ہمیں معقول مذاکرات کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ جذبات میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ دونوں کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے لیکن اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ صدر امریکی جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے جیسی گزشتہ جون میں جنیوا میں ہوئی تھی۔انٹونی بلنکن نے جو بائیڈن کے دو بار ٹیلی فون پر پیوٹن کو یوکرین پر حملے کے نتائج سے خبردار کرنے کے بعد بھی دونوں صدور کے درمیان تازہ بات چیت کو مسترد نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اور روسی حکام یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ معاملات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ان کے درمیان مزید بات چیت ہے تو ہم یقینی طور پر ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -