کیا بابا نجمی لڑکا ہے؟؟

کیا بابا نجمی لڑکا ہے؟؟
کیا بابا نجمی لڑکا ہے؟؟

  

میں ابھی تک ایک سیدھی سادی یونیورسٹی طالبہ کے "معصومانہ سوال"پر انگشت بدنداں تھا کہ صحافت کے معتبر استاد جناب تاثیر مصطفے نے ایک" کھرانٹ بیوروکریٹ" کے"جاہلانہ استفسار"کا قصہ سنا کر" اونچی دکان پھیکا پکوان" کا بھانڈہ پھوڑ دیا....ہوا یوں کہ ماس کام کی ایک سٹوڈنٹ کسی اہم شخصیت کا انٹرو یو کرنا چاہتی تھیں...میں نے کہا کہ پنجابی کے بڑے شاعربابا نجمی ہمارے مہربان ہیں ان کا انٹرویو کر لیجیے....وہ بڑی معصومیت سے بولیں انکل کیا بابا نجمی لڑکا ہے؟میری ہنسی چھوٹ گئی اور کہا بیٹا میں نے" نجمہ" نہیں "نجمی "بولا ہے....کہنے لگیں اچھا میں تو یہی سمجھی شاید کوئی خاتون ہیں...میں نے بابا جی کو بتایا تو وہ بھی لوٹ پوٹ ہوگئے...پھر بولے بچوں کا کیا قصور جب ہم ان کو اپنے بڑوں کے بارے میں نہیں بتائینگے تو یہی کچھ ہوگا....میں نے ایک دن بابا جی کو  ان کے سامنے بٹھاتے ہوئے کہا بیٹا دیکھ لیں بابا نجمی "لڑکا ہے نہ لڑکی" بلکہ یہ "جماندرو"  بابا ہے...وہ مسکرائیں اور فرینک ہو کر انٹرویو شروع کردیا ......پھر "پنجابی بابے" نے اسے بابا نجمی کی "وجہ تسمیہ" اور "تاریخ "بتاکر گرویدہ کرلیا...!!!

جناب تاثیر مصطفے سنئیر صحافی اور یونیورسٹی میں جرنلزم کے سٹوڈنٹس کو پڑھاتے ہیں... وہ لاہور پریس کلب کے لائف ممبر اور مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے روح رواں بھی ہیں...کسی ایک نشست میں بتانے لگے کہ میں کئی سال پہلے ہندوستان گیا...میں نے ایک مسلمان طالب علم سے پوچھا سلطان ٹیپو کو جانتے ہو؟اس نے نفی میں گردن ہلادی...مجھے یہ سن کر دھچکا لگا لیکن پھر خیال آیا کہ ہوسکتا ہے یہاں مسلمانوں کو سازش کے تحت تاریخ سے دور رکھا جاتا ہو...پھر جب میں نے اپنے "تعلیمی نصاب" کا جائزہ لیا تو اسے بھی "کورا "ہی پایا...میں نے ایک دن اپنے سٹوڈنٹس سے پوچھا آغا شورش کاشمیری کون تھے...؟؟؟جواب ندارد...میں نے پوچھا ابوالکلام آزاد کو جانتے ہو...؟؟؟سب نے نہیں میں جواب دیکر دل توڑ دیا...تاثیر صاحب کہنے لگے طلبا کو چھوڑیں یہاں تو ہمارے "بڑے افسر "بھی اپنے اکابرین بارے نابلد ہیں...بولے میں نے ایک بیوروکریٹ کے سامنے بڑے فخر سے بابائے صحافت جناب مولانا ظفر علی خان کا ذکر کیا تو صاحب نے پوچھا وہ کون ہیں؟؟؟

شومئی قسمت کہ "کمرشل ازم" نے ہماری" دانش گاہوں" کی" روح "ہی قبض کر لی...اب وہاں پریکٹیکل نہیں تھوریز سے مزین بے فائدہ لیکچرز ہوتے ہیں...اب ہماری جامعات دانش نہیں بانٹتی صرف ڈگریاں تقسیم کرتی ہیں...انندھیرا اور بڑا کہ صحافتی اداروں میں بھی سیکھنے سکھانے والا عمل ناپید ہو گیا ہے.۔.وہ" صاحب نظر" اخبار نویس رہے نہ وہ "پیاسے مبتدی"...ہر کہیں چوں چوں کا مربہ ہے اور اب مربے کے نام پر "شیرہ" بک رہا ہے اور ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے...

یادش بخیر!ایک اخبار کے نیوز روم میں ہمارے ذمے کراچی کا ایڈیشن تھا....ہمارے ایک کولیگ ہماری طرح نئے نئے لاہور آئے تھے...وہ لاہوریوں کے لہجے میں  "ہے گا" کہنے کے چکر میں" ہے گا" کو بھی جوش خطابت میں دو مرتبہ" ہےگا ہے گا" بول جاتے...موصوف "پنجابی لہجے" میں اردو بولتے تھے...ایک رات کاپی جانے کا وقت تھا کہ پیج میکنگ سیکشن میں ان کا ایک "شرارتی پیج میکر" سے پھڈا ہو گیا...موصوف نے اردو کے لفظ قائد کو پنجابی تلفظ کا "یونی کوڈ" مارا اور کیپشن لکھوانے لگے کہ فلاں جماعت کے " قید" ٹیلیفونک خطاب کر رہے ہیں...پیج میکر نے بھی جان بوجھ کر" قید" لکھ دیا.  .  .  اب ہمارے دوست کہتے کہ قید نہیں "قید" لکھیں...وہ کہتا کہ جناب قید ہی تو لکھا ہے.۔.بات تلخ کلامی تک پہنچ گئی...وجہ تنازع پوچھی تو کہنے لگے کہ پیج میکر نے "قید "غلط لکھا ہے...وہ بھائی مسکرائے اور کہا آپ کے سب ایڈیٹر نے خود" قید" لکھوایا ہے...ہم نے معاملہ دھانپتے ہوئے پیج میکر کو سمجھایا کہ بے وقوف یہ قید نہیں قائد کہہ رہے ہیں..."شرارتی پیج میکر "نے کہا اچھا اچھا قائد کا مطلب لیڈر اور کیپشن درست کر دیا....

ایک اور اخبار کے نیوز روم میں کسی سیاسی موضوع پر بحث چل رہی تھی...ایک دوست میرے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور بولے مانیں نہ مانیں اب یہ بات تو "نوشہ دیوار" ہے...انہوں نے سب کے سامنے  "نوشتہ دیوار" کی "گردن مروڑ" کے رکھ دی اور" دکھی" بھی نہیں ہوئے...کئی سال پہلے شام کے ایک اخبار میں ہمارے ایک "بھولو بھالو ساتھی "نے ایک خبر دیکھ کر حیرت سے پوچھا یہ "کتابچہ "کیا ہوتا ہے...عرض کی انگریزی میں" بک "کا مطلب ہے کتاب اور "بک لیٹ" چھوٹی کتاب...آپ اسے کتاب کا بچہ کہہ لیجیے  لیکن خبردار جو آپ سمجھ رہے ہیں یہ وہ والا بچہ نہیں...وہ مسکرائے اور کہا سمجھ اگئی...المیہ یہ ہے کہ اتنے سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا... ہمارے دوست نے کئی برس پہلے صرف جو سوچا تھا وہ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑے ٹی وی کے جدید تعلیم کے حامل" سوٹڈ بوٹد نیوز اینکر "نے ببانگ دہل سکرین پر بول دیا...

لگے ہاتھ ایک اور لطیفہ سن لیجیے ....ایک دفعہ ہمارے ایک کرائم رپورٹر نے اپنے کسی ساتھی رپورٹر سے پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تصادم کی بنی بنائی خبرلی  ...ایک سائیڈ سٹوری میں  "ترجمان جامعہ پنجاب" کے حوالے سے موقف تھا...ہم نے پوچھا بھائی !یونورسٹی تو ٹھیک ہے یہ جامعہ کیا چیز ہے... ؟؟؟وہ گھبراگئے اور بولے سر مجھے نہیں پتہ ...سچی بات ہے کہ میں نے یہ خبر کسی سے لی...دلچسپ بات یہ ہے تھوڑی بہت عربی جاننے والے ہمارے کچھ "مولوی حضرات "بھی جامعہ اور جامع میں" الجھ "جاتے ہیں...وہ مسجد کے ساتھ جامعہ اور مدرسے کے ساتھ جامع لکھ دیتے ہیں...کہیں کہیں آپ کو جامعہ مدرسہ بھی لکھا نظر آتا ہے ...ان بے چاروں کو علم ہی نہیں کہ مدرسہ ابتدائی تعلیم کے ادارے سکول اور جامعہ اعلی تعلیم کی درسگاہ یونیورسٹی کو کہتے ہیں  .. . .جامعہ سے یاد آیا کہ ہمارے کچھ کرائم رپورٹرز جامعہ اور جامہ کو بھی ایک ہی لفظ سمجھتے ہیں...وہ جامہ تلاشی کو جامعہ تلاشی لکھ کر تصحیح کی ذمہ داری نیوز روم کے نازک کندھوں پر ڈال دیتے ہیں...اگر ادھر بھی کوئی" خلیفہ" بیٹھا ہو تو پھر قارئین کے نصیب...!!!ویسے اج کل" جیسی روح ویسے فرشتے" والا کلچر ہی چل رہا ہے... ابھی کل ایک صحافی لیڈر کا کلپ دیکھا....وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ لاہور کے صافیوں کا مشکور ہوں...کئی صحافی دوست السلام علیکم ٹھیک نہیں لکھتے...السلام اور علیکم کے درمیان و ڈال کر معنی ہی بدل دیتے ہیں...کچھ "بڑے بھائی "دوستو اور دوستوں کا مفہوم نہیں سمجھتے ہیں.  ...یاد آیا استاد گرامی جناب لطیف ابرار صاحب نے بتایا ایک مرتبہ ارود کے ایک ٹیچر" مہوش "کو "ماہوش" پڑھا رہے تھے...نشاندہی کی تو مائنڈ کرگئے  .  .  ...

چلتے چلتے ایک نامہ نگار دوست کا  "معصصومانہ سوال" بھی سن لیں...پرویز مشرف دور کی بات ہے...مشرقی سرحد پر پاک بھارت کشیدگی بڑھ گئی..  .ہندو افواج کی گولہ باری سے کچھ دیہات شدید متاثر ہوئے...ہم چند دوست بارڈر پر گئے...ایک فوجی افسر ہمیں شیلنگ بارے بریفنگ دے رہے  تھے کہ سرحد پار سے پھینکے گئے گولے کتنے خطرناک ہیں...اچانک ایک اخبار کے " نامہ نگار" نے پوچھا سر جب یہ گولہ پھٹتا ہے تو آواز آتی ہے؟؟؟فوجی افسر نے اپنا سر پکڑ لیا اور ہم نے اپنے سر جھکا لیے...!!!

بات ایک یونیورسٹی طالبہ کے"معصومانہ سوال"اور افسر کے"جاہلانہ استفسار" سے چلی اور کہاں نکل گئی ...کوئی ہمارے بچوں کو بتائے کہ ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر جناب شورش کاشمیری کا اصل نام عبدالکریم جبکہ سید محی الدین احمد کو دنیا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانتی ہے...وہ الہلال  نکالتے...مولانا ظفر علی خان روزنامہ زمیندار کے مدیر تھے...تینوں اپنے زمانے کے بڑے خطیب ،ادیب اور صحافی تھے...یہ تو ابھی آدھی اور پون صدی پہلے کے قد آور لوگ ہیں اور ہم انہیں بھول گئے... ہمارے بچوں کو تو یہ بھی نہیں علم کہ جناب نثار عثمانی اور منہاج برنا کون تھے...وہ تو آئی اے رحمان اور حسین نقی صاحب کو بھی جانتے...بیورو کریٹس کو چھوڑیں وہ تو جنگل کے بادشاہ ہیں انڈے دیں بچے دیں...اردو بولیں نہ بولیں کیا فرق پڑتا ہے.۔.کوئی ہمارے بچوں کو بتائے کہ اپنے مشاہیر اور زبان کی پہچان کے لیے تاریخ،قواعد و انشا اور لغت کا گہرا مطالعہ کتنا ضروری ہے...لیکن کیا کریں کہ دور دور تک کوئی" مرشد "بھی دکھائی نہیں دیتا کہ جس کے در جاکر "کشکول "پھیلائیں اور" دہائی" دیں مرشد ہمارا بڑا نقصان ہو گیا...دعا کیجیے...دعا کیجیے!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -