روح اور صحت

      روح اور صحت
      روح اور صحت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  یہ مسلمانوں ہی کا نہیں، دنیا  کے سارے مذاہب کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے۔ یہ ایک ایسی ہونی ہے جو شُدنی میں تبدیل ہو کے رہتی ہے اور موت کا ذائقہ ہر ایک نے چکھنا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو بطورِ خاص یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ ان کی حیاتِ بعدِممات ابدی ہے اور وہ اس فانی زندگی سے کہیں بہتر ہو سکتی ہے۔ اس بہتری کا اندازہ کوئی بھی ذی روح نہیں لگا سکتا۔ اس کائنات میں حضرتِ انسان اشرف المخلوقات ہے اور مخلوقات کا ایک سائیکل ہے جو ماضی کے تدریجی ارتقائی ادوار سے منسلک ہے…… جمادات، نباتات، حیوانات اور پھر انسان…… لیکن انسان کے بعد یہ ارتقائی سائیکل عالمِ فنا سے عالمِ بقاء کو سدھار جاتا ہے۔ وہاں انسان کی عمر کیا ہے، یہ راز ایک خدائی بھید ہے جو کسی بھی رسول اور پیغمبر پر منکشف نہیں کیا گیا…… خاتم المرسلینؐ پر بھی نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلیم کی زندگی میں یہود و نصاریٰ اور قریشِ مکہ نے آپؐ سے بارہا یہ سوال پوچھا تھا کہ جو جبرائیل آپ کے پاس وحی لے کر آتا ہے۔ اس سے یہ بھی پوچھئے کہ ”روح کیا چیز ہے اور اس کی ابتداء و انتہاء کیا ہے؟“

آپؐ سے یہ سوال جب بار بار پوچھا گیا تو خالقِ باری نے آپؐ کے دل کی کیفیت بھانپ لی اور یہ آیہء مبارکہ نازل ہوئی:

”تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تم فرماؤ: روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور (اے لوگو!) تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے“۔ ]آیہ نمبر85، سورۂ بنی اسرائیل[

سورۂ بنی اسرائیل کو سورۂ الاسریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قرآن کی 17ویں سورہ ہے۔ مولانا مودودی نے اس آیہ نمبر85کا ترجمہ (تفہیم القرآن میں) یہ کیا ہے: ”یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، کہو ”یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔“ اس کے بعد کی دوآیات (نمبر86اور 87) میں ربِ کائنات نے یہ بھی فرمایا…… ”اور اے محمدؐ! ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تجھ سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تم کو عطا کیا ہے۔ پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمائتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے۔ یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے“۔

یہ خطاب بظاہر بنی کریمؐ سے ہے مگر مقصود دراصل کفار کو سنانا ہے۔ مجھ گنہ گار کو قرآن و تفسیر سے جو بہت ہی کم بہرہ ملا ہے، وہ صرف اور صرف عطائے ایزدی ہے۔ میں کسی بھی حوالے سے کوئی عالمِ دین یا مفسرِ قرآن نہیں ہوں۔ سادہ لفظوں میں بیان کرنا چاہوں تو یہی عرض کروں گا کہ ”روح“ کا علم اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ کریم نے روح کا علم، اپنے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو عطا کر دیا تھا مگر اس کا اظہار آپؐ نے (حسبِ منشائے ایزدی) کبھی کسی ذی روح سے نہیں کیا۔

روح کیا ہے، یہ کیسے انسانی جسم میں آتی ہے، کیسے چلی جاتی ہے، اس کا اصل ٹھکانا کیاہے اور انسان کے انفرادی اعمال کا تعلق اس کی روح سے کیا ہے؟ یہ سارے مسائل و معاملات مابعد الطبیعاتی مسائل ہیں اور ان کا علم کسی بھی بنی نوع انسان کو عطا نہیں کیا گیا۔ لیکن غیر مسلم اقوام کے علمائے دین و دنیا نے قرآن کریم میں اللہ کے اس فرمان کے علی الرغم ایک طویل سلسلہء تحقیق و جستجو چلا رکھا ہے مگر اب تک ان کو اس بارے میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔(اور نہ ہی کبھی مل سکتی ہے!)

البتہ مغرب کے فلاسفہ اور محققین نے حیاتِ انسانی کی ابتداء و انتہاء سے ہٹ کر اس سوال پر سارا ”زورِ کلام“ صرف کر دیا ہے کہ موت کا تو ایک دن مقرر ہے لیکن کیا یہ بھی مقرر ہے کہ انسان ساری زندگی مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا رہے؟…… اگر نہیں تو اس ابتلاء سے بچنے کی کیا صورتیں ہیں۔ کسی بھی انسان کو اپنی عمر کے بارے میں ہر چند کہ کچھ معلوم نہیں کہ اس کی روح نے جسم کا ساتھ کب چھوڑ جانا ہے لیکن انسان کے بس میں یہ ضرور ہے کہ وہ جب تک زندہ رہے مختلف چھوٹے بڑے عوارضِ جسمانی اور حادثاتِ بدنی کو ٹالنے کی کوشش کرتا رہے…… اس موضوع پر مغربی حکماء اور دانش وروں نے بہت لکھا ہے اور سچی بات یہ بھی ہے کہ مشرق کے حکماء اور مسلمانوں نے بھی انسانی صحت کی ”دائمی بقاء“ پر بہت کام کیا ہے۔

حال ہی میں ایک انگریزی رسالے میں ایک مغربی حکیم (فلسفی)کا ایک مختصر سا آرٹیکل نظر سے گزرا جس میں اس نے کہا ہے کہ اگر انسان درج ذیل سات اصولوں پر کاربند ہو جائے تو موت آنے سے پہلے طویل اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے:

1۔ زیادہ چلنے پھرنے کی عادت ڈالو۔

2۔موسمی سبزیاں اور پھل زیادہ مقدار میں کھاؤ۔

3۔نیند کا دورانیہ بڑھاؤ۔

4۔سگریٹ نوشی بند کرو۔

5۔دیرینہ بیماریوں سے بچو۔

6۔مثبت سوچ اپناؤ۔

7۔رشتے داریوں سے انٹرایکشن بڑھاؤ۔

بظاہر یہ سات اصول بڑے سادہ اور عام فہم ہیں لیکن کیا ہم ان اصولوں کی پاسداری بھی کرتے ہیں یا انہیں ”سادہ اور عام فہم“ سمجھ کر ان سے صرفِ نظر کر لیتے ہیں، یہ سوال بہت ٹیڑھا ہے…… میرے خیال میں ہم پاکستانی ان بظاہر سادہ اصولوں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی نہ صرف نظرانداز کرتے ہیں بلکہ ان کی مخالفت کرنے پر کمربستہ رہتے ہیں۔ مثلاً:

1۔سب سے پہلا اصول بتایا گیا ہے کہ  زیادہ چلو پھرو اور متحرک رہو۔ یہ حرکت دو پاؤں پر پیدل چلنے کے بارے میں ہے۔ گاڑی میں بیٹھ کر ”چلنے پھرنے“ سے نہیں۔ اس آرٹیکل کا مصنف لکھتا ہے کہ ہمیں (بڑھاپے میں بھی) دن میں روزانہ 25منٹ ’واک‘ کرنی چاہیے۔ یہ واک خواہ آپ چھڑی ہاتھ میں پکڑ کر کریں یا خواہ واکر کا سہارا لیں …… آپ کے دونوں پاؤں کو 25منٹ تک زمین پر Move کرنا چاہیے۔

2۔ موسمی سبزیاں اور پھل زیادہ کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ مہنگے پھل کھائیں۔ گاجر، مولی اور کھیرا بھی ’غریبانہ پھلوں‘میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر جیب اجازت دے تو موسمی پھل زیادہ کھائیں (ان میں ڈرائی فروٹ بھی شامل ہیں) اصل بات یہ ہے کہ اسے ایک روٹین بنا لیا جائے۔ اپنی جیب دیکھ کر فیصلہ کرو کہ کیا اور کتنا کھانا ہے۔

3۔نیند کا دورانیہ 5گھنٹے تو ایک فطری امر ہے۔ اس سے آگے بڑھو۔7گھنٹے کی نیند صحت مند جسم کے لئے ضروری ہے۔

4۔سگریٹ نوشی کا تعلق آپ کی قوتِ ارادی سے ہے۔ بعض چین سموکر(Chain Smoker)طویل عمر پاتے ہیں لیکن اس عادتِ بد کو اصول نہیں بنایا جا سکتا۔

5۔دیرینہ بیماریوں سے مراد شوگر، بلڈ پریشر اور وزن کا عدم کنٹرول وغیرہ ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ لیکن ہم لکھے ہوئے کو خاطر میں کب لاتے ہیں …… رات دن ریستوران چلتے ہیں، پِزّا اور کڑاھیاں کھڑکتی ہیں، سوڈا واٹر کی بوتلیں دیدارِ عام ہیں، مٹھائیوں کے ’ٹوکرے‘ ہمارا ’قومی نشان‘ بن چکے ہیں۔ سگریٹ نوشی فیشن کا لازمہ گردانی جاتی ہے……

6۔’مثبت سوچ‘ سے مراد وہ روّیہ ہے جو ہماری میڈیائی یلغار کی عطا کی ضد ہے اور یہ ابلاغی یلغار ہماری سیاسیات کی عطا ہے۔اس سے بچنا اس لئے ممکن نہیں کہ یہ ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے اور ایک اجتماعی چیلنج شمار ہونے لگا ہے۔ بات جب حکمرانی کے اداروں سے نکل کر بازاروں تک آ جائے، گھروں کی دیواروں کو گھیر لے، مرد و زن کے سماجی اور روائتی حصاروں کو توڑ ڈالے تو ’مثبت سوچ‘ کا وتیرہ اپنانا، ممکن نہیں رہتا۔ اس کے لئے صرف اور صرف اجتماعی دعا کی ضرورت ہے۔ مسجدوں میں اذانیں دینے کی بجائے قلب و نظر کے ایوانوں کے اندر اذان دینے کی ضرورت ہے۔ انسانی صحت کا دشمن یہ عارضہ، تپ دق سے بہت آگے نکل چکا ہے۔

7۔رشتہ داریوں سے انٹرایکشن عصرِ حاضر کی ٹیکنالوجی نے بہت کم کر دیا ہے۔موبائل پر دن رات فون کرکے ہم سمجھتے ہیں کہ رشتہ داروں سے جُڑے ہوئے ہیں لیکن یہ ہماری بھول ہے۔ یہ مغربی مضمون نگار بھی اس آخری اصول کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی درخواست کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فاصلوں کی پروا  ہ نہ کریں اور ایک دوسرے کے ہاں ’کال آن‘ کا وہ سسٹم ازسرِ نو تازہ کریں جو ماضیء قریب  میں ہماری ثقافتی اور سماجی پہچان تھی۔ اگر رشتہ دار بہت دور بستے ہوں تو نزدیک بسنے والے ہمسایوں کو رشتہ دار سمجھو اور ”انٹرایکشن“ کے قحط کا مداوا کرو! ان کے درِ دولت پر حاضری دو، کنڈی کھٹکھٹاؤ اور کہو:

میں ساتھ والے گھر کا مکیں ہوں مرے اے دوست

باقی ہے مری آنکھ میں اخلاص کا پانی

معانی کا طلب گار ہوں، تاخیر کا مجرم

مقصود ہے خوابیدہ رسم پھر سے جگانی

وہ رسم کہ اسلاف میں تھی عام و لیکن

ہم بھولے رہے اب تلک وہ بات پرانی

آؤ کہ کریں شیوۂ ماضی کو پھر تازہ

دونوں کا یہ حق ہے زراہِ قربِ مکانی

مزید :

رائے -کالم -