اختتام ہوچلا ہے؟

اختتام ہوچلا ہے؟
اختتام ہوچلا ہے؟

  

دمشق تک کا راستہ شامی حزب اختلاف کیلئے ایک بہت کٹھن سفر ثابت ہوا اب آخر کار ایک بہت سخت اور فیصلہ کن معرکے کے بعد دنیا کا سب سے قدیم دارالحکومت پہنچ میں دکھائی دیتا ہے جیسے ہی گرد بیٹھتی ہے تو قومی سکیورٹی کی عمارت کی صورت میں تبدیلی ہونا چند دن قبل تک ناقابل خیال تصور کیا جا رہا تھا۔ حکومت کے تین نہایت اہم رہنما ملیز کے گرد مردہ حالت میں پائے گئے ہیں جہاں پر وہ بحران کے حوالے سے ہفتے وار اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ نشانہ بننے والوں میں نائب وزیر دفاع آصیف شواکت‘ وزیر دفاع داﺅد راجاہ اور عسکری کمیٹی کے رہنما حسن ترکمانی شامل ہیں۔ یہ تمام انتہائی اہم عہدوں پر تعینات ہیں جوکہ مشرق وسطیٰ کے انتہائی سخت ریاستی پولیس کی مملکت میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ نشانہ بننے والے تینوں افراد میں سے شواکت کو بہت عرصے سے نشانے پر رکھا ہوا تھا اور وہی بنیادی ہدف تھے۔ ان کا اثرورسوخ اور طاقت اس وقت سے ناقابل تقابل تھی جب سے 17 ماہ قبل مقبول عام تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

 شواکت کے متعلق یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ شامی باغیوں سے واقف تھے اور خفیہ راز ان کے پاس محفوظ تھے۔ مخالفین کے حوالے سے ہونیوالی کارروائیوں سے متعلق لیا جانے والا ہر حساس فیصلہ جوکہ صدر بشارالاسد کی جانب سے لیا گیا جس کی بدولت یہ لڑائی ایک بھرپور جنگ میں تبدیل ہوگئی اس طرح کے تمام فیصلے شواکت کی میز سے ہوکر گزرے وہ سسٹم کے اندرونی حصے کا ایک اہم پرزہ اور اسد کی قطعیت کا ایک اہم نشان تھے۔ ان کے قتل کے چند لمحات کے بعد ہی حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرلیا اور کسی بھی پولیس کی ریاست میں ایسا قدم غیرمعمولی ہوتا ہے کیونکہ وہ ابھرتے ہوئے لوگوں کی جانب سے ہونیوالے نقصانات کو تسلیم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتی اور کوئی ایسا واقعہ جس کے بطن سے خوف پیدا ہو اس کو کبھی بھی اس تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا۔

 شامی انتشار کا سب سے بڑا پہلو اطلاعات کی جنگ ہے اعلان پہلے حزب اللہ کے لبنان میں موجود ٹیلی ویژن سٹیشن سے کیا گیا اور پھر اس اعلان کو دوبارہ شام کے ریاستی ٹیلی ویژن سے نشر کر دیا گیا اور اس کی تصدیق کی گئی اس بات سے دمشق میں لوگوں کو دھچکا لگا جہاں پر تین دن سے باغی گروپوں کی رہائشی فوج کے دستوں سے مار دھاڑ جاری تھی۔ کچھ دستے بہت زیادہ سخت جان سمجھے جاتے تھے لیکن مظاہرین اور دمشق میں رہائش پذیر لوگوں کے مطابق وہ فوراً ایک طرف ہوگئے باقی بچ جانے والوں نے اپنے ٹینکوں کو چھوڑا اور فرار ہوگئے۔ بغاوت کے علمبردار تمام علاقوں کی ساری سرگرم جگہوں پر ردعمل ایک جیسا ہی تھا۔ اکثر نیٹ پر بھیجی جانیوالی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں مردوں کو ہومس میں نقصان پہنچایا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں اس چیز کو ظاہر کیا گیا ہے کہ کیسے اپلیپو شہر میں کاریں باہر آکر باغیوں کو طاقت باہم پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

صوبہ ایدلیب میں اپوزیشن کے دیہاتوں سے لوگ دستوں کی صورت میں باہر نکلتے ہیں اور حکومت کے حامیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ بھی بغاوت میں شامل ہوکر اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا موڈ بالکل خشک اور وہ پیش گوئیاں کر رہے ہیں صرف گزشتہ ہفتے کے دوران ہی کمی کا سامنا رہا اور تسلط جاری رہا اور اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ایسا بہت جذباتی عمل ہے۔ شواکت کی موت خاص طور پر وفاداروں اور باغیوں کے درمیان ایک فاصلہ مقررکرنے کا سبب بنے گی۔ اسد کے دور حکومت کے دوران استحکام یا اسد کی ذات کو سامنے رکھتے ہوئے استحکام یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں ہم نے فرض کیا تھا کہ وہ حاصل ہوجائے گی ایسا کہنا تھا طاہر نخیل کا جو دمشق سے ٹیلیفون کے ذریعے گفتگو کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ لوگو ں کو میرے ساتھ چمٹے رہنا چاہیے کیونکہ وہ دارالحکومت کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔ اگر مخالفوں کی طرف سے بات کی جائے تو محمد نظہیار جوکہ آزاد شامی فوج میں لیفٹیننٹ ہے نے کہا کہ ایک باغی خفیہ یونٹ کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے اندر سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور پھر ان سے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کام لیا جائے۔ پیغام جو وہ دینا چاہتا تھا بالکل واضح ہے کہ کون ایسا ہے جو حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کرتا ہے اگر ان میں سے طاقتور ترین لوگوں کا اتنی آسانی کے ساتھ ایسا انجام ہوسکتا ہے تو پھر محفوظ کون ہے؟

ایک طاقت کے مرکز کو ختم کر دینے سے ہمیشہ سے شام میں قیادت کا خلا پیداہوتا رہا ہے اور بالکل ایسا یہ عراق‘ یمن‘ مصر اور لیبیا میں بھی ہوا ہے۔ دارالحکومت کی دلدل میں ہزاروں حامیوں کی بدھ کو ہونیوالے حملے کے بعد ایک چال تھی آنے والے دنوں میں تاہم صورت حال کے بارے میں اندازہ ہوجائے گا کہ باغی کیا حاصل کرتے ہیں کیونکہ جس ڈرامائی انداز میں اور جو کہ وہ حقیقت میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے یا پھر مضبوط پوزیشن کو حاصل کرلیں گے کہ وہ اس مقام سے دمشق کا مکمل کنٹرول حاصل کر پائیں گے جیسا کہ وہ اب شیخی مار رہے ہیں جس کے کچھ علاقوں پر ان کا مکمل تسلط ہے لیکن اس کو برقرار رکھنے اور مزید پیش رفت کیلئے ایک مسلسل معیار حرکت کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ:”گارڈین لندن“ ترجمہ:وقاص سعد)

مزید :

کالم -