جامعہ بہاﺅ الدین زکریا میں استقبال ماہ رمضان کی تقریب

جامعہ بہاﺅ الدین زکریا میں استقبال ماہ رمضان کی تقریب

  

  جامعہ بہاﺅ الدین زکریا ملتان اس حوالے سے ایک منفرد جامعہ ہے کہ یہ برعظیم پاک و ہند کی ایک عظےم صوفی شخصیت شیخ محمد سلام خواجہ بہاﺅ الدین زکریاؒسے منسوب ہے،جنہوںنے نہ صرف اس خطے میں اسلام کانور پھیلایا،بلکہ انہوں نے اس علاقے میں علم و فضل کی شمعیں بھی روشن کیں۔آج کل اس جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ سید محمد علقمہ ہیں،جو ....خواجہ ناظم الدین....پاکستان کے سابق گورنر جنرل کے قریبی عزیز ہیں اور اس جامعہ کی صدارت سنبھالنے سے قبل یمن میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، انہیں پاکستان سے شدید محبت ہے اور اسلام اور پاکستانی ادب کے ساتھ محبت آمیز شغف رکھتے ہیں۔انہیں جامعہ کی صدارت سنبھالے چند ماہ ہوئے ہیں....غالباً ان کی صدارت میں....یہ پہلا رمضان المبارک ہے۔انہوں نے برادر اسلامی ملک یمن میں دیکھا کہ وہاں استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے،چنانچہ انہوں نے جامعہ بہاﺅ الدین ذکریاؒ میں شعبہ عربی کے سربراہ ڈاکٹر محمد شفقت اللہ اور ڈاکٹر محمد افضل ربانی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اس حوالے سے شایان شان تقریب کا اہتمام کریں۔ڈاکٹر محمد شفقت اللہ اور ڈاکٹر ربانی نے راقم الحروف کے ساتھ رابطہ کیا اور خواہش ظاہر کی کہ مَیں ان کی اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی اور چیف سپیکر کے طور پر شرکت کروں۔راقم اگرچہ ان دنوں بے حد مصروف تھا، لیکن ان دوستوں اور مہربانوں کے اصرار پراس تقریب میں شرکت پر آمادہ ہوگیا۔

ڈاکٹر محمد افضل ربانی لاہور میں کئی برس محکمہ اوقاف میں ڈائریکٹر مذہبی امور ،سرگودھا انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمین اور ملتان میں ایک کالج کے پرنسپل رہ چکے ہیں،اس لئے انہیں اس قسم کی مجالس کے انعقاد کا خصوصی تجربہ ہے،چنانچہ طے ہوا کہ 17جولائی 2012ءکو یہ تقریب جامعہ بہاﺅ الدین زکریا میں منعقد ہوگی اور رئیس الجامعہ ڈاکٹر خواجہ سید محمد علقمہ اس کی صدارت فرمائیں گے....مَیں نے اس خدشے کااظہار کیا کہ ان دنوں چونکہ سابق وزیراعظم پاکستان جناب سید یوسف رضا گیلانی کے حلقے میں انتخابات کا زوروشور ہے اورجامعہ بہاﺅ الدین ذکریا بھی اسی حلقہ ءانتخاب میں واقع ہے ، پھر جامعات میں گرمیوں کی تعطیلات بھی ہیں،اس لئے ممکن ہے کہ اس پروگرام میں حاضری اس پروگرام کے شایان شان نہ ہو، مگر ڈاکٹر صاحبان نے یقین دلایا کہ ایسانہیں ہوگا....چنانچہ راقم الحروف 16جولائی شام 6بجے پی آئی اے کے ذریعے ملتان پہنچا۔رات کو ڈاکٹر محمد شفقت اللہ نے شہر کے ایک معروف ریستوران میں عشائیہ دیا،جس میں شعبہ عربی ، جامعہ بہاﺅ الدین ذکریا کے تمام اساتذہ (حضرات و خواتین) کے ساتھ ساتھ.... جامعہ بہاﺅ الدین ذکریا کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد علی، ڈاکٹر محمد شیر اور دیگر کئی اساتذہ کرام نے شرکت کی اور رات گئے تک علم وادب کی یہ محفل جاری رہی۔

17جولائی بمطابق 26شعبان المعظم کو....جب مَیں ایگزیکٹو ہال، جامعہ بہاﺅ الدین ذکریامیں مقررہ وقت پر پہنچا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ہال مرد و خواتین اور طالبان و طالبات سے بھرا ہوا تھا،چنانچہ رئیس الجامعہ کی آمد پرپروگرام شروع ہوا۔تلاوت کلام مجید اور نعت بحضور سرور کونین کے بعد تقریب کے میزبان ڈاکٹر محمد افضل ربانی نے اس تقریب کا پس منظر واضح کیا اور رئیس الجامعہ کی استقبال ماہ رمضان المبارک کے ضمن میں خواہش اور مساعی جمیلہ پر ان کاشکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر محمد شفقت اللہ(صدر شعبہ عربی) نے تقریب کے موضوع اور مہمان خصوصی کا تعارف پیش کیا ۔دوران گفتگو ،انہوں نے اس سائنسی تحقیق پر روشنی ڈالی کہ سائنس دانوں کی طرف سے ایک نئی تحقیق یہ سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم میں دو دماغ ہوتے ہیں۔ایک دماغ تو سر میں ہوتا ہے اور دوسرا....چھوٹا دماغ.... معدے میں ہوتا ہے۔ان کا موقف تھا کہ سر میں موجود دماغ کو تو ہم آرام کرنے کا موقع دیتے ہیں، مگر معدے والے دماغ کو ہم ہمیشہ مصروف رکھتے ہیں....اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں روزے کا حکم دے کر معدے کے اس دماغ کو آرام دینے کا موقع فراہم کیا ہے،جس سے انسان کی صحت پر مثبت اثرپڑتا ہے۔

بعدازاں راقم الحروف کو موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔راقم الحروف کی گفتگو مجموعی طور پر 40منٹ تک جاری رہی ، اس دوران نہ صرف پورا ہال برابر بھرا رہا، بلکہ ہال سے باہر بھی بڑی تعدادمیں سامعین موجود رہے۔ راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ رمضان المبارک کی فرضیت چونکہ 2ھ میں ہوئی،اس لحاظ سے تاریخی تسلسل کے اعتبار سے اس سال کا رمضان المبارک بطور ماہ صیام کے 1432واں رمضان المبارک ہے۔ اس سال کے ماہ مبارک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر رمضان المبارک کی ابتداءجمعتہ المبارک 20جولائی سے ہوئی....(جیسا کہ سعودی عرب اور تمام عرب ممالک میں امکان ہے)....تو اس سال 14اگست کو 27ویں شب مبارک ہوگی اور قمری اعتبار سے 67سالوں اور شمسی لحاظ سے 40سال کے بعد یہ موقع آیا ہے۔یاد رہے کہ قیام پاکستان کے وقت بھی 14اگست کو 27رمضان المبارک کی تاریخ تھی۔

راقم الحروف نے ماہ مبارک کے ضمن میں سب سے پہلے قرآن کریم کی متعلقہ آیات(سورة البقرہ کی آیت نمبر183سے آیت نمبر188)پر روشنی ڈالی اور ان آیات میں بیان کردہ احکام و مسائل کی مختصر طور پر وضاحت کی۔بعدازاں احادیث مبارکہ میں فضائل رمضان المبارک کے ضمن میں وارد ہونے والے ارشادات نبوی کو بیان کیا۔آنحضور کا معمول مبارک تھا کہ رمضان المبارک آنے سے قبل استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں صحابہ کرامؓ کو جمع فرماتے اور فضائل ومسائل رمضان کی تفصیل ارشاد فرماتے تھے۔آپ نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے، اس ماہ کی راتوں میں قیام کرنے ، لیلتہ القدر میں عبادت کرنے پر....(ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ)....سابقہ تمام گناہوں کی معافی کی نوید سنائی۔آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فرشتے تمام نیک کاموں کااجروثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک لکھتے ہیں، مگر روزہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی مَیں خود ہی دوں گا....یا دوسری روایت(یا قراءت) کے مطابق....اللہ تعالیٰ خود اس کا بدلہ ہوگا اور باری تعالیٰ سے ملاقات اس کا ثمر ہوگا۔یہاں راقم الحروف نے قاضی محمد ثناءاللہ پانی پتیؒ کی تفسیر سے اس حدیث نبوی کا حوالہ دیا کہ آپ نے فرمایا ہے :”جنت میں ایک جنت ایسی ہے جس میں نہ کوئی حور ہے اور نہ کوئی محل....اس میں صرف اللہ رب العزت کی تجلیات ہیں۔بعدازاں روزے کے فلسفے اور حکمت کے ضمن میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجتہ اللہ البالغہ سے اقتباس پیش کیا،جس میں انہوں نے بیان کیا کہ روزہ انسان میں موجود حیوانیت کے جذبات پر، ملکیت(نیکی کے جذبے )کو غالب کرنے کے لئے لازم کیا گیا ہے۔آخر میں راقم الحروف نے روزے کے ظاہری اور روحانی فوائداور اس کی برکات پر روشنی ڈالی.... پھر علامہ اقبال کے ان اشعار پر گفتگو کو ختم کیا:

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے

خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

عبت ہے شکوئہ تقدیر یزواں

تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

اس تقریب میں جامعہ بہاﺅ الدین ذکریا کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اعوان، شعبہ عربی کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد شریف سیالوی، شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اور بڑی تعداد میں اہل علم شامل تھے۔آخر میں رئیس الجامعہ خواجہ سید محمد علقمہ نے مختصرمگر جامع خطاب فرمایا۔ مہمان مقرر کی گفتگو کو حسب ضرورت قرار دیا اور ڈاکٹر محمدشفقت اللہ اور ڈاکٹر محمد افضل ریاض کی تقریب کے انعقاد کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ڈاکٹر حافظ عبدالرحیم کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔واپسی پر پی آئی اے کے باکمال لوگ اور لاجواب سروس کا تجربہ ہوا۔شام 3:05پر لاہورروانہ ہونے والی پرواز رات 8بجے روانہ ہوئی اور پونے نو بجے لاہو رپہنچی۔  ٭

مزید :

کالم -