برطانیہ، پاکستان اور کوہِ نور ہیرا

برطانیہ، پاکستان اور کوہِ نور ہیرا
برطانیہ، پاکستان اور کوہِ نور ہیرا

  

                            برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس سال جنوری میں کوہ نور ہیرا دینے سے انکار والے بیان سے ہمارا جو دل دکھا تھا، اس کا ذکر تو بعد میں ہو گا، پہلے مَیں ان کے اس تاریخی اعلان پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ ”جو پاکستان کا دوست ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو پاکستان کا دشمن ہے، وہ ہمارا دشمن ہے“.... پاکستان کے لئے ان کے اظہار محبت کی بازگشت ایک بار پھر چند روز قبل اسلام آباد میں برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کی پریس کانفرنس میں سنائی دی۔ موصوف نے اپنے وزیراعظم کے بیان میں گرہ لگاتے ہوئے پاکستان کے عوام کو بتایا کہ برطانیہ پاکستان کا بااعتماد دوست ہے۔ وہ پاکستان میں امن اور خوشحالی کا خواہش مند ہے اور اس مقصد کے لئے چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن ہو اور پاکستان کے اپنے ہمسایوں افغانستان اور بھارت کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات برقرار رہیں.... برطانوی وزیراعظم کے ”اعلان محبت“ کو ٹیسٹ کرنے کا ابھی کوئی موقع نہیں آیا، لیکن بین الاقوامی مروت کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک اس کے الٹ ثابت نہیں ہوتا، اس بیان کے خلوص پر شبہ نہ کیا جائے۔ جہاں تک بیان کا تعلق ہے تو ہمیں یہ تو تسلیم کرنا چاہئے کہ اتنی غیر مشروط دوستی اور پھر اس دوستی میں اس حد تک پہنچ جانے کا دعویٰ تو کبھی چین اور سعودی عرب کی طرف سے بھی نہیں کیا گیا۔

برطانوی وزیر خارجہ کو ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک آدھ مشکل سوال کے ذریعے پھنسانے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن وہ کمال صفائی سے بچ نکلے۔ میرے خیال میں برطانیہ میں واقعی جمہوریت کی صحیح پریکٹس ہو رہی ہے، اس لئے کم از کم مجھے یقین ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا، وہ درست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ کا معاملہ برطانوی پولیس کے پاس ہے ،برطانوی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو اس میں مداخلت کرتی ہے اور نہ ہی کرسکتی ہے۔ یہ بات پاکستان کے تجربے کے حوالے سے بہت ہی عجیب لگتی ہے، لیکن برطانیہ کی جمہوری روایات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو ماننا پڑتا ہے، اس لئے امید کرنی چاہئے کہ اس معاملے میں بھی پورا انصاف ہوگا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔

برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی طرف محبت اور دوستی کا اتنی گرم جوشی سے ہاتھ بڑھانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ پہلی دنیا میں سیاسی اعتبار سے برطانیہ کی جو اہمیت ہے، وہ بعض اوقات سپر پاور امریکہ سے ٹکر کھا جاتی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے ہاتھ کو تھام کر پوری گرم جوشی سے ہلائے۔ جب ان تکلفات سے فراغت ملے تو وہ اس کے ساتھ اگلا پچھلا حساب بھی پہلی فرصت میں نمٹالے۔ اب برطانیہ کی طرف سے بڑھنے والا ہاتھ برابری کی دوستی کا ہے۔ اسے آگے بڑھ کر فوراً تھامنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ ماضی میں یہ معاملہ برابری کا نہیں تھا۔ پاکستان کا خطہ ہندوستان میں شامل ہونے کی وجہ سے ماضی میں برطانیہ کا غلام رہ چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو آزادی دینے کے باوجود طویل عرصے تک برطانیہ ہم لوگوں کو محکوموں کی طرح ہی ٹریٹ کرتا رہا ہے۔ اب بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر اگر پاکستان ایک محکوم کی بجائے برابر کا دوست بن رہا ہے تو اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

برابر کی دوستی کا پُرخلوص رشتہ قائم کرنے کے لئے گڑے مردے نہیں اکھاڑے جانے چاہئیں، لیکن ماضی کا حساب تو بہر حال برابر کرنا ہو گا، ورنہ اس رشتے میں دراڑیں آتی رہیں گے۔ برطانیہ کی زیر نگرانی ہندوستان کی تقسیم میں جو خون بہا وہ تو واپس نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی وہ زخم اب مندمل ہو چکے ہیں، تاہم تقسیم کے نتیجے میں کشمیر کا جو مسئلہ پیدا ہوا، وہ ابھی تک برقرار ہے۔ کشمیر کے جسم سے جو مسلسل خون رس رہا ہے، اسے بہر طور بند ہونا چاہئے۔ یہ مسئلہ جسے برطانیہ حل کئے بغیر چھوڑ گیا تھا، اسے شاید وہی حل کر سکتا ہے۔ کوشش میں کوئی حرج نہیں ہے۔ برطانیہ مہربان ہے تو اس کا اثر ورسوخ استعمال ضرور کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف جس بیک چینل ڈپلومیسی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، اس میں یہ اثر ورسوخ بھی مد نظر رہے تو کام شاید آسان ہوجائے۔

اگر مجھ سے پوچھا جائے تو مَیں بہت پیچھے جاکر برطانیہ سے سارا حساب چکانا چاہتا ہوں۔ سو دو سو سال کی دیر ہوجائے تو کیا انصاف نہیں ہونا چاہئے؟ اگر عالمی سطح پر بر صغیر کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برطانیہ کے خلاف دعوےٰ واپس لے لیا جائے۔ ہندوستان کے حکمرانوں اور بااثر طبقے کی بدمعاشیاں اور عیاشیاں اپنی جگہ درست ہوں گی، لیکن اس کا فائدہ اٹھاکر ایسٹ انڈیا کمپنی نامی تجارتی ادارے کو دھوکوں اور سازشوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا؟ اس کمپنی نے 1858ءمیں برطانوی حکومت کو انڈیا کا کنٹرول دینے سے پہلے اپنی تجارت کو چھوڑ کر سیاست کا جال پھیلایا اور اس کے پردے میں معاشی لوٹ مار کی۔ اس کمپنی سے تعلق رکھنے والے انگریزوں کے موجودہ وارثوں سے سارا حساب لیا جانا چاہئے۔

1858ءکو انڈیا کا کنٹرول سنبھالنے سے 1947ءتک تاج برطانیہ نے اس کے وسائل کو لوٹ لوٹ کر اپنے ملک پہنچایا۔ اس کا کافی حد تک ریکارڈ موجود ہے، میرے خیال میں انڈیا کی طرف سے اس کا دعویٰ موجود ہے، لیکن اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ پوری سنجیدگی اور موثر طریقے سے ازسر نو اٹھایا جائے۔ اب چونکہ انڈیا تقسیم ہوچکا ہے اور پاکستان بھی دعویداروں میں شامل ہے تو اگر لوٹی ہوئی دولت واپس ملتی ہے تو اسے جنوبی ایشیا کے مشترکہ ادارے سارک کے حوالے کیا جاسکتا ہے جو اس خطے کے عوام کی اجتماعی فلاح وبہبود کے لئے استعمال ہوسکتی ہے۔

اگر سیاست سے ہٹ کر دیکھا جائے تو برطانوی راج میں ہندوستان میں ترقی بھی بہت ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ برطانیہ نے اپنی طرف سے یہاں کوئی سرمایہ نہیں لگایا، بلکہ یہاں موجود قدرتی وسائل کو اپنی انتظامی صلاحیتوں سے بہت کامیاب اور مفید فلاحی منصوبوں میں تبدیل کردیا۔ متعدد قانونی اور انتظامی اصلاحات کی گئیں۔ تعلیم عام ہوئی، جگہ جگہ پرائمری اور ہائی سکول کھل گئے، جن میں مقامی زبانوں کے علاوہ انگریزی میں تدریس کا آغاز ہوا۔ آبپاشی اور ریلوے کے بہترین نظام وجود میں آئے۔ لوہے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹاٹا انڈسٹری قائم ہوئی، ٹیکسٹائل اور دوسری صنعتوں نے بھی فروغ پایا۔ انگریزوں نے جہاں انڈیا کو ترقی دی، وہاں اس کے بے شمار وسائل کو اپنے وطن منتقل کرلیا۔ دنیا کو صرف کوہ نور ہیرا یاد ہے، لیکن اس کے دیگر جواہرات اور سونے چاندی کی دولت بھی بے حساب ہے جو انہوں نے سلطنت دہلی اور دیگر نوابوں کے خزانوں سے نکال کر اپنی حکومت کے حوالے کی یا اپنے ذاتی استعمال میں لے کر آئے۔

برطانوی وزیراعظم نے اس سال جنوری میں بھارت کا دورہ کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دنیا کے سب سے بڑے 105 کیرٹ کے ہیرے کوہ نور کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اس انکار کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کر سکے۔ بس اتنا ہی کہا کہ یہ ہیرا جو کبھی تاج برطانیہ میں مزین تھا، اب اس کی جگہ ٹاور آف لندن کا میوزیم ہے، جہاں وہ نمائش کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے برطانیہ کی طرف سے سرکاری طور پر برطانوی راج میں جلیانوالہ باغ اور دیگر مقامات پر اپنے مظالم پر باقاعدہ معذرت کر لی۔ ہمیں اتنا وقت گزرنے کے بعد اس معذرت کو قبول کر لینا چاہئے، لیکن سارک کی سطح پر ایک کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرنا چاہئے جو انڈیا کے لوٹے ہوئے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کر کے جنوبی ایشیا کے دعویداروں کو اس کا معاوضہ دینے کی سفارش کرے۔ اس مطالبے کے لئے اس سے اچھا موقع پھر نہیں آئے گا۔

مزید : کالم