آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

                                                        تیرہویں تراویح

سورة القصص :28ویں سورت

سورہ قصص مکی سورت ہے۔ 88 آیات اور 9 رکوع ہیں۔ ترتیب قرآنی کے لحاظ سے 28 ویں اور ترتیب نزولی کے لحاظ سے 49 ویں ہے۔ بیسویں پارہ کے چوتھے رکوع سے بارہویں رکوع تک ہے۔ سورت کا نام آیت 25 کے فقرہ ”وقص علیہ القصص“ سے لیا گیا ہے، لغت کے اعتبار سے ترتیب وار واقعات بیان کرنے کو ”قصص“ کہتے ہیں۔ اس سورت میں حضرت موسیٰؑ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔ (جیسا کہ صحابہ کے حوالے سے پہلے لکھا جا چکا ہے کہ) سورہ شعرائ، نمل اور قصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ اس سورت مبارکہ میں کفار کی طرف سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت پر کئے جانے والے اعتراضات و اشکالات کو رفع کیا گیا ہے۔ آباءپرستی اور تقلیدانہ روش کی تردید اور توحید و رسالت کا سبق دیا گیا ہے۔

فرعون کو اس کے کاہنوں نے بتایا تھا کہ قوم بنی اسرائیل میں اس سال ایک ایسا لڑکا پیدا ہو گا جو اس کے اقتدار کو ختم کر دے گا۔ اس لئے اس نے اس قوم کے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا اور بچیوں کو خدمت کے لئے زندہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ وہ ان کو دودھ پلاتی رہیں اور جب انہیں اندیشہ ہو کہ اب موسیٰ ؑ کی ولادت کا حال پوشیدہ نہ رہ سکے گا تو ان کو دریا میں ڈال دیں اور بالکل نہ ڈریں کیونکہ اللہ پاک ان کو واپس پہنچا دے گا اور ان کو اپنا رسول بنائے گا۔بچہ اللہ نے فرعون کے گھر پہنچا دیا۔ فرعون کی بیوی نے اس سے کہا کہ کیوں نہ اس کو بیٹا بنالیں، پھراللہ پاک نے ان کی والدہ کو ان کے پاس بھیج دیا تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک ہو اور غم نہ رہے۔ پھر جب وہ جوان ہوئے اور زور آور ہوئے تو انہوں نے ایک قبطی کو گھونسا مارا۔ وہ قبطی مر گیا تو موسیٰ علیہ السلام کو بڑا افسوس ہوا ،انہوں نے اللہ سے توبہ کی۔ اس طرح موسیٰ علیہ السلام وہاں سے چلے گئے اور آخر آپ مدین پہنچے اور شہر کے کنارے ایک کنویں پر پہنچے جہاں کچھ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ ان سے ہٹ کر دو عورتیں دیکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب یہ لوگ چلے جاتے ہیں تب ہم حوض میں بچے ہوئے پانی سے اپنے جانوروں کوپانی پلاتی ہیں (گویا ہم پانی بھی نہیں کھینچ سکتیں) اور یہ کہ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں جو یہاں نہیں آ سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آیا اور انہوں نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا ۔ تھوڑی دیر میں ان دونوں میں سے ایک عورت شرماتی ہوئی موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی اور کہا کہ میرے والد نے تم کو بلایا ہے، کہ تم کو اس پانی پلانے کی اجرت دیں۔ موسیٰ علیہ السلام اس بزرگ کے پاس پہنچے اور اپنا سارا ماجرا سنایا۔ وہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ گھبراﺅ نہیں۔ اللہ نے تم کو ظالم قوم سے نجات دے دی۔ پھر ان عورتوں میں ایک نے اپنے والد کو مشورہ دیا کہ اس نووارد مسافر کو آپ ملازم رکھ لیں کہ آپ بہت بوڑھے ہیں اور جانوروں وغیرہ کے چرانے میں دقت ہوتی ہے۔ شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں اپنی ان لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا اور مہر کے طور پر آٹھ سال تک بکریاں چرانی ہوں گی۔ اور دس سال تک چراﺅ تو بہتر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے قبول کر لیا۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے یہ مدت پوری کر لی تو اپنی اہلیہ کو لے کر روانہ ہوئے۔ راستے میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کوہ طور سامنے تھا۔ وہاں روشنی دیکھی، خیال ہوا کہ شاید آگ ہے۔ لیکن اس مبارک مقام سے ایک آواز آئی جو اللہ کی آواز تھی کہ میں رب العلمین ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام وہیں نبوت سے سرفراز ہوئے، عصا اور یدبیضا وغیرہ معجزات ملے، پھر آپ فرعون کی طرف راہ ہدایت دکھانے کے لئے بھیجے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی مدد کے لئے ہارون علیہ السلام کو چاہا۔ وہ بھی نبوت سے سرفراز ہوئے۔ پھر وہ فرعون کے پاس پہنچے اور توحید کا پیام پہنچایا۔ موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل کی گئی ۔

 اب قارون کا ذکر ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھا۔ اس نے اپنی قوم پر زیادتی کی۔ اس کو اللہ نے اتنے خزانے دیئے کہ ایک زور آور جماعت بھی مشکل سے ان خزانوں کی کنجیاں اٹھا سکتی تھی۔ اس کی قوم نے اسے نصیحت کی کہ مال و متاع پر گھمنڈ نہ کر اور آخرت کے لئے اللہ کے نام پر دیا کر۔ وہ کہتا کہ یہ سب کچھ میں نے اپنی ذاتی قابلیت سے حاصل کیا ہے ،کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے بہت سے لوگ اس سے بھی زیادہ مال و دولت والے تھے لیکن اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہ کر دیئے گئے۔ قارون بھی ایک دن بڑی شان و شوکت سے باہر نکلا تو کچھ دنیا پرست لوگ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی ایسا ہی حاصل ہوتا۔ لیکن اہل علم و بصیرت والوں نے کہا کہ تم پر افسوس ہے کہ تم ایسا کہتے ہو۔ آخرت کی نعمتیں کہیں بہتر ہیں ایمان اور عمل صالح والوں کے لئے۔ آخر مع خزانے کے زمین میں دھنسا دیا گیا اور کوئی نہ بچا سکا۔ دوسرے ہی دن وہی رشک کرنے والے یہ کہنے لگے کہ خیر ہوئی کہ ہم اس کی طرح نہ ہوئے ورنہ ہمارا بھی یہی انجام ہوتا۔ آخرت کی بھلائی ان کے لئے ہے جو تکبر اور فساد نہیں کرتے۔

سورة العنکبوت: 29 ویں سورت

سورہ عنکبوت مکی ہے، 69آیات اور 7 رکوع ہیں۔ ترتیب قرآنی کے لحاظ سے 29 نمبر اور نزول کے لحاظ سے نمبر 85 ہے۔ بیسویں پارہ کے تیرھویں رکوع سے شروع ہو کر اکیسویں پارہ کے تیسرے رکوع تک ہے۔ سورت کا نام آیت 41 کے فقرہ ”مثل الذین اتخذوا من دون اللہ کمثل العنکبوت“ سے لیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ وہ سورت ہے جس میں عنکبوت کا لفظ آیا ہے۔ سورت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓکے حبشہ ہجرت سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس سورت میں منافقین کا بھی ذکر ہے، اس لئے بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ”پہلی دس آیات مدنی ہیں، باقی سورت مکی ہے“ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”اس صورت میں ان لوگوں کے نفاق کا تذکرہ ہے جو مکہ کے لوگوں کے ظلم و ستم سے ڈر کر منافقانہ روش اختیار کر رہے تھے۔ اس لئے یہ ساری سورت ہی مکی ہے۔“ اس سورت میں ایمان والوں کے لئے عزم و ہمت اور استقامت کا سبق ہے اور ضعیف الایمان لوگوں کو شرم دلائی گئی ہے۔ انبیاءکرام کے واقعات کے ذریعہ بہتر مستقبل کی نوید سنائی گئی ہے۔ توحید اور آخرت دونوں کو دلائل سے ذہن نشین کرانے کی کوشش اور شرک کو رد کیا گیا ہے۔

اللہ نے انسان کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرے، البتہ وہ شرک کریں تو ان کا کہنا نہیں ماننا چاہئے۔ بعض لوگ خلق کی ایذا سے ڈر کر ایمان کو ترک کر دیتے ہیں، وہ منافق ہیں۔ پہلے نوح علیہ السلام نو سو پچاس سال تک تبلیغ کرتے رہے لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی اور انہیں ایذا پہنچائی۔ پھر ان لوگوں کو طوفان نے ڈبو دیا۔ لیکن ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی والوں کو بچا لیا اور خودکشتی کو سارے جہانوں کے لئے ایک نشانی بنا دیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور اللہ کی طرف رجوع کرانا چاہا جو انہیں روزی دیتا ہے۔ لیکن وہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے، دراصل رسولوں کا کام صرف تبلیغ ہے۔ کوئی انہیں مانے یا نہ مانے، ان کی ذمہ داری نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ کے وجود کے لئے دلائل دیئے تو قوم سے جواب نہ بن پڑا اور ان لوگوں نے قتل کرنے یا جلا دینے کی تجویز کی۔ لیکن اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچا لیا۔ لوط علیہ السلام سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے سواد عراق سے شام کی طرف ہجرت فرمائی۔ اور ہم نے ان کے لئے اسحق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اور دوسرے انبیاءعلیہم السلام ان کی اولاد میں پیدا کئے اور لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی بے حیائی پر بہت کچھ ملامت کی لیکن ان لوگوں نے ان کی آزمائش کے لئے ان سے کہا کہ ہم پر عذاب لاﺅ، اگر سچے ہو۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان کے بیٹے اور پوتے کی نبوت کی بشارت سنانے کے لئے فرشتے آئے اور لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کرنے کے لئے بھی وہی آئے تھے۔ پھر اس قوم اور لوط علیہ السلام کی نافرمان بیوی کو انہوں نے تباہ کر دیا۔ شعیب علیہ السلام کی قوم بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب اور ایذا رسانی کی وجہ سے تباہ کر دی گئی۔ عاد اور ثمود قومیں بھی انکار اور استکبار کی وجہ سے تباہ کی گئیں۔

سورة الروم: 30 ویں سورت

سورہ روم مکی ہے۔ 60 آیات اور 6 رکوع ہیں۔ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے 30 ویں اور ترتیب نزولی کے لحاظ سے 86 ویں سورت ہے، اکیسویں پارہ کے چوتھے رکوع سے شروع ہو کر نویں رکوع تک ہے، (اگلی سورت دسویں رکوع سے شروع ہوتی ہے۔) سورت کا نام پہلی ہی آیت کے فقرہ ”غلبت الروم“ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورت 615ءمیں نازل ہوئی۔ اور اسی سال ہجرت حبشہ ہوئی تھی۔ اس سال ایرانیوں نے روم پر غلبہ حاصل کیا تھا، مگر قرآن پاک کی اس سورت میں پیشین گوئی کی گئی کہ ”عنقریب روم، ایران پر غالب آ جائے گا“۔ اس صورت حال پر کفار نے خوب مذاق اڑایا۔ حالات ایسے تھے کہ دور دور تک آثار دکھائی نہ دیتے تھے کہ روم غالب بھی آ سکتا ہے یا مسلمانوں کو کبھی کامیابی حاصل ہو گی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سورت کے نزول کے بعد ابی بن خلف سے شرط بھی لگا لی کہ ”روم ضرور غالب آئے گا“۔ پھر ہوا یہ کہ ہرقل روم نے 623ءمیں آرمینیا سے حملہ شروع کیا اور 624ءمیں آذربائیجان میں گھس کر زرتشت کے جائے پیدائش ارمیا کو تباہ کر دیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور اسی سال مسلمانوں کو بدر میں عظیم کامیابی حاصل ہوئی۔ اور یوں سورہ روم کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ اس سورت میں کامیابی کیلئے مشکلات کا سامنا کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔ رومی جو اہل کتاب تھے، وہ ایرانیوں سے شکست کھا گئے جو بت پرست یا آتش پرست تھے۔ اس واقعے سے مکہ کے مشرکین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ دیکھو اہل کتاب جو خدا کو ماننے والے ہیں شکست کھا گئے۔ اللہ پاک نے اس موقع پر بشارت دی کہ وہ اہل کتاب ضرور اور جلد غالب ہو جائیں گے اور کفر کو شکست ہو گی۔ چنانچہ یہی ہوا اور ایمان والوں کو خوشی ہوئی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوا اور وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔  ٭

مزید : کالم