نئی خارجہ پالیسی کے درست اور ٹھوس اقدامات

نئی خارجہ پالیسی کے درست اور ٹھوس اقدامات

                                                                                                    وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وزارت ِ خارجہ کے دورہ کے موقعہ پر متعلقہ افسروں کو ہدایت کی ہے کہ بھارت سے جامع مذاکرات کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میںکسی گروپ کی حمایت یا مخالفت نہیں کریں گے۔ علاقائی سا لمیت پرسمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہمسایہ ممالک سے برابری کی سطح پر معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ نئی سفارتی پالیسی میں معیشت اور تجارت کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ وزارت ِ خارجہ میں وزیراعظم کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقا ت سمیت خطے کی صورت حال پر تین گھنٹے تک بریفنگ دی گئی۔ خارجہ پالیسی کے نئے روڈ میپ سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقعہ پر سرتاج عزیز کے دورہ افغانستان کو بھی حتمی شکل دی گئی۔ وزیراعظم نے سرتاج عزیز کو ہدایت کی کہ وہ افغانستان کی حکومت کو پاکستان کی نئی حکمت عملی کے متعلق اعتمادمیں لیں۔پاکستان امن قائم کرنے کے عمل میں وہاں کی حکومت اور عوام کی رائے کا ساتھ دے گا۔ وہاں امن کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے، تاہم اس حوالے سے امور باہمی مشاورت سے طے کئے جائیں گے۔سرتاج عزیز کو اس واضح پیغام کے ساتھ افغانستان بھجوا رہے ہیں کہ پاکستان متحدہ افغانستان اور وہاں قیام امن کا حامی ہے۔پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے ۔اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال ہونے دیں گے نہ ہی کسی کو پاکستان میں مداخلت کرنے دیں گے۔خطے میں امن و امان کے استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ خطے میں امن ہوگا تو اقتصادی اور کاروباری ترقی ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے امریکی ڈرون حملے رکوانے کے لئے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا وہ قوم کے احساسات اور جذبات کے مطابق آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی تشکیل چاہتے ہیں۔انہوں نے وزارت خارجہ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر کسی بھی صورت میں افغان معاملات میں ملوث نہ ہوں۔افغانستان کی منتخب حکومت کی حمایت کی بنیاد پر پالیسی بنائیں ۔ کابل حکومت میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان افغانستان میں کسی گروپ کے ساتھ ملوث نہیں ۔ وہاں قیام امن کے لئے جس گروپ سے بھی مذاکرات کرنا پڑے وہ کریں گے۔ پاک افغان تعلقات کسی صورت بھی خراب نہیں ہونے دیں گے۔

خارجہ پالیسی کے سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف کی ہدایات قوم و ملک اور پورے خطے کے لئے بے حد اہم ہیں۔ ان سے ایک مدبر اور حقیقت پسند انسان کی سوچ سامنے آئی ہے۔ ایسی سوچ جو اپنے عوام کے احساسات و جذبات کی عکاسی بھی کرتی ہے، پورے خطے کے عوام کو امن اور خوشحالی بھی دینا چاہتی ہے اور اپنے ملکی وقار اور مفادات کے تحفظ پر بھی مستعد ہے۔ خارجہ پالیسی کے معاملات میں اس تین گھنٹے کے دوران وزیراعظم نے وزارت ِ خارجہ کے افسروں کی بہت سی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی ہے ، جسے امور خارجہ کے سارے معاملات میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ اس سے بعض باتوں کا تعلق اگر قوم کے طویل تجربات سے سبق سیکھ کر حالات کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے سے ہے تو بہت سی باتوں کا تعلق وزارت خارجہ میں بیٹھے ہوئے بیورو کریٹس کی اس ذہنیت سے بھی ہے ، جس کی بناءپر قومی مفادات کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کومقدم رکھا جاتا ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے وزارت ِ خارجہ کے افسروں پراس ذہنیت سے باہر نکلنے کی ضرورت واضح کیا جانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ملکی خارجہ پالیسی افراد کی خواہشات یا ترجیحات کے مطابق نہیں ،پوری قوم کے مفاد اور وقار کے پیش نظر تشکیل دی جانی چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وزارت خارجہ میں بیٹھے ہوئے بیورو کریٹس اپنی ذات کے خول سے باہر آئیں، اِردگرد کے حالات پر نظر ڈالیں ، ملکی اور قومی ضرورتوں کو سمجھیں اور صرف قومی مصلحتوں کے تحت اپنی سوچ کو ڈھالیں۔

وزیراعظم کی یہ بات ہماری نئی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز ہونی چاہئے کہ ہم علاقائی سا لمیت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اس کا جہاں ایک مفہوم ملکی علاقائی سا لمیت ہے تو دوسرا مفہوم پورے خطے کی علاقائی سا لمیت بھی ہے۔ ہمسایوں سے اچھے دوستانہ تعلقات اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور ہمسایوں کی علاقائی وحدت کا احترام کرنا اور اپنے معاملات میں کسی کو مداخلت نہ کرنے دینا ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول ہے۔ ہمارے اب تک کے تجربات نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ خود ہمارے اپنے امن و امان اور ترقی و خوشحالی کا انحصار پورے خطے کی سلامتی پر ہے۔اگر ایک ملک کے دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے بعد بھاگ کر دوسرے ملک میں پناہ لے سکتے ہیںتو اس دوسرے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے پہلے ملک میں جا کر چھپ سکتے ہیں۔ اس طرح کسی ایک ملک کا دہشت گردوں سے نجات کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ۔ اس کے لئے پورے خطے کے ممالک میں تعاون اورا پنے اپنے علاقے سے تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے خاتمے کی ضرورت ہے،جس کے لئے مخلصانہ کوششیں کی جانی چاہئیں، جس طرح ایک صوبے میں دہشت گردوں کے بعد بھاگ کر دوسرے صوبے میں چلے جانے والوں کو معاف نہیں کیا جاسکتا،اِسی طرح ایک ملک سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کی پالیسی خطے کے ہر ملک کو اپنانی چاہئے۔ ایک ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں اپنا ہاتھ نہ ہونے کے لئے دلائل دینے سے بڑھ کر ہمیں پورے خطے میں دہشت گردی کو خود اپنے مفاد کے خلاف سمجھنا ہو گا۔ ایک ملک کی سلامتی اور امن و امان کے خطرے کو اپنے ملک کی سلامتی اور امن و امان کے لئے بھی خطرہ جانے بغیر ہم ان مسائل سے باہر نہیں آسکتے۔

سائنسی بنیا دوں پر جمع ہونے والے حقائق اور ہمارے اس خطے کے طویل تجربات سے واضح ہو گیا ہے کہ اپنے اپنے ہاں سے ہر طرح کے دہشت گردی کے اڈوں کا خاتمہ اس خطے کے سب ممالک کے مفاد میں ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی اصول ہوتا ہے نہ دین ایمان ۔ ان پر کوئی بھی مکمل کنٹرول کا دعویٰ نہیںکر سکتا ، آج جو دہشت گرد ایک ملک کی حمایت اور امداد سے دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں، کچھ معلوم نہیں کہ وہ کب حمایت کرنے والے ملک ہی کے خلاف سرگرم ہو جائیں۔ یہ ”نان سٹیٹ“ قوتیں پوری دنیا کی حکومتوں کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ہمارے جیسے جن ملکوں میں انہیں قدم جمانے کا موقع مل گیا پھر مختلف بہانوں اور پراپیگنڈے اور اپنے مال ودولت کے ذریعے وہ اپنے لئے اس ملک میں کنفیوژن پیدا کرکے کچھ نہ کچھ لوگوں کی حمایت بھی حاصل کرلیتے ہیں۔

ایسے گروہوں کا خوف اور دہشت ملکی قانون نافذ کرنے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو بھی کمزور کرکے رکھ دیتے ہیں، جس سے امن و امان اور معاشرتی استحکام کی بنیادیں ہل کر رہ جاتی ہیں۔ ایسے عفریتوں سے نجات پانا علاقائی تعاون اور حکومتوں کی مخلصانہ اور بھرپور کوششوں کے بغیرممکن نہیں۔ یہ سب کچھ علاقے کے ممالک کی طرف سے ایک دوسرے کی سا لمیت اور استحکام کی سچی خواہش اور پالیسی ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے، جس پر پاکستان اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ چلنے کے عزم کا اظہار کررہا ہے۔ پورے خطے سے غیر ریاستی زیر زمین طاقتوں کا خاتمہ اور عوام کی منتخب آئینی حکومتوں کا استحکام ہی اس زمانہ میںپنپنے کا اولین اصول ہے، جس پر بقول وزیراعظم سمجھوتہ نہیںکیا جاسکتا۔

وزیراعظم نواز شریف ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کی راہ پر چل پڑے ہیں ۔ ان کے اس وژن کے پیچھے سارے زمانے کا تجربہ اور ہماری اپنی قوم کے اَن گنت تلخ تجربات اور قوم کو مصائب سے نکالنے کے لئے اصل مسائل کے خاتمے کی سچی اور شدید خواہش موجود ہے۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں کی اپوزیشن جماعتوں میں اپنی حکومتوں کی خارجہ پالیسی کا بھرپور ساتھ دینے کا مزاج موجود ہے۔ ان ملکوں کا میڈیا بھی اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید نہیں بناتا اور بیورو کریٹس بھی دل و جان سے خارجہ پالیسی کی کامیابی کے لئے کام کرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی تمام سفارتخانوں، خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے جمع کی گئی معلومات اور زمینی حقائق کی روشنی میں قوم و ملک کے بہترین مفاد میں تشکیل کی جاتی ہے۔ آج دہشت گردی کے اس دور کو دیکھا جائے تو پورے خطے کے مفاد کو اپنے ملک کا مفاد جانا جاتا ہے۔ اب قوم پوری ہوشمندی اور حکومت پوری ذمہ داری سے اپنے بے حد پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لئے جس راہ پر چل پڑی ہے ، قوم کے تمام طبقات اور گروہوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہم آہنگی اور یکجہتی کا ثبوت دیں۔ س اب دہشت گردی سے نجات پانے او ر ملک کو اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی منزل کی جانب لے جانے ،موہوم خواہشات اور افسانوی ماحول سے باہر آنے اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی اعتماد سے سامنے آنے والی حکومت کو انتہا پسندوں اور اپنی اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی تمنا پالنے والوں کے ہر طرح کے دباﺅ کے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مثبت سمت میں اٹھنے والے تمام حکومتی قدم عوام کے سامنے ہیں۔ ذاتی اور گروہی اغراض کے اسیروں کو ہزار احتیاط اور انتہائی زیرکی اور فہم و تدبر سے تشکیل دی ہوئی پالیسوں میں بھی کوئی بہتری نظر نہیں آسکتی، لیکن تمام لوگوں کواپنی رائے اور تجاویز دینے کا حق ضرور حاصل ہے، امن و خوشحالی کی طرف اٹھے ہوئے قدم روکنے کا اختیار کسی کو ہرگز نہیں۔

امید کی جانی چاہئے کہ پاکستان کی طرف سے مسلسل اور نئی پاکستانی حکومت کی طرف سے مزید جوش و خروش کے ساتھ علاقے کے امن و امان اور سلامتی کے لئے بڑھائے گئے قدم کو ہمارے ہمسایہ ممالک بھی سراہیں گے۔ دہشت گردی کو خطے کا مشترکہ مسئلہ جانیں گے، اور باہمی تنازعات طے کرنے ہی میں اپنے عوام کی خوشحالی اور ترقی کی راہیں تلاش کریں گے۔     ٭

مزید : اداریہ