افسوس ۔ ۔ ۔ چھترولیوں کی تعداد ہی بڑھا لیں

افسوس ۔ ۔ ۔ چھترولیوں کی تعداد ہی بڑھا لیں
افسوس ۔ ۔ ۔ چھترولیوں کی تعداد ہی بڑھا لیں

  

نمل نامہ(محمد زبیراعوان) ریڈیو سنے ایک عرصہ ہوگیا،ایک مرتبہ میزبان سے سناتھاکہ کسی شہر میں داخلے کیلئے ایک ہی پل تھا، حکمرانوں نے ٹیکس لگادیا ۔شہر آنیوالے ٹیکس دے کرآجاتے ، مزید بڑھا تو پھر بھی دے کر آگئے ، پھر مزید بڑھا تو بھی ادا کردیا ۔ چوتھی مرتبہ ٹیکس بڑھانے کیساتھ ایک چھتر بھی” انعام “میں دینے کا فیصلہ ہوا۔لوگوں نے احتجاج شروع کردیا،بادشاہ کے پوچھنے پر عوام نے چھترول کرنیوالوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کردیاتاکہ اُن کی باری جلد آسکے ۔ سوشل میڈیا یا کسی ویب سائٹ پر بھارت سے متعلق خبرپر گندے ریمارکس دینے اورالطاف حسین کے بارے میں برابھلاکہنے والے لوگوں نے حضرت بی بی زینب ؓ کے مزار کو نقصان پہنچانے پر خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ آج ہی کی بات ہے کہ شام کی فوج نے ملک میں خالدیہ کے علاقے میں باغیوں کیساتھ جھڑپوں کے دوران بمباری کرکے صحابی رسول ﷺ حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار کو نقصان پہنچایاجبکہ خالد بن ولید مسجد کو چاردن قبل ہی نقصان پہنچایاگیالیکن میڈیا یا سوشل میڈیا پر ”دسمبر“ چھایارہا۔۔ ۔ایک نشریاتی ادارے کے سوشل میڈیا پیج پر بھی حضرت خالد بن ولید ؓ کے مزار کو نقصان پہنچنے سے متعلق بھی کم ازکم آگہی حاصل کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی ۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنیوالے پاکستان کے مکینوں اور اسلام کو اپنی شناخت بتانے والوں کیلئے اس سے بڑی بدقسمتی کیاہوسکتی ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا جائزہ لینے کیلئے خبر میں ہی دلچسپی نہ لیں ۔ ۔ ۔ مختلف ویب سائٹوں پر کسی بھی برائی کی خبرکا گراف سب سے اوپر ہوتاہے جو قارئین کی دلچسپی کا واضح اشارہ دے رہاہوتاہے ۔ ۔ ۔ اگر قارئین برائیوں ، وینا ملک یا کسی اور رنگین خبر میں دلچسپی لیں گے تو مختلف چینلز، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر کام کرنیوالے لوگ ایسی خبریں کیوں فراہم نہیں کریں گے؟ لوگ کچھ اینکرز حضرات کو گالیاں کیوں دیتے ہیں؟ مسلمانوں کیلئے صحابہ اور نواسی رسول ﷺ کے مزارات کی شہادت سے متعلق خبروں سے بڑی کونسی وارننگ ہوسکتی ہے ،ابھی ہوش کریں۔ ۔ ۔ دوسروں کو برابھلا کہنے اور غداری کا لیبل لگانے والے اپنے ہی گریبان میں جھانکیں ۔اللہ تعالیٰ ہر کسی کو سیدھی راہ دکھائے اور مقامات مقدسہ کی حفاظت فرمائے۔آمین۔۔۔

مزید : بلاگ