آپریشن ”ضربِ عضب “ ایک قابلِ توجہ پہلو

آپریشن ”ضربِ عضب “ ایک قابلِ توجہ پہلو
آپریشن ”ضربِ عضب “ ایک قابلِ توجہ پہلو
کیپشن: pic

  

حکومتِ پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے دوران میں بھی طالبان کے بعض گروہوں کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رہنے کی وجہ سے آخری آپشن کے طور پر حکومت اور پاک فوج نے عوامی تائید و حمایت سے 15 جون کو دہشت گردوں کے خاتمے، مُلک میں امن و امان کی بحالی اور عوام میں احساسِ تحفُّظ پیدا کرنے کے لئے شمالی وزیرستان میںبھر پور انداز میںفوجی آپریشن شروع کیا۔بلا شبہ اپنی ہی سرزمین پر کثیر آبادی والے پہاڑی علاقوں میںمقامی آبادی کو یرغمال بنا کر، اُن میں گھُل مل جانے والے نا قابلِ شناخت دشمنوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی میں بہت سی مشکلات در پیش آناتھا۔پھر یہ کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان کے دشوار گذار علاقوں میں اپنی پناہ گاہیں بنا چکے تھے اور وہ وہاں سے نہ صرف پورے پاکستان میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں سے معصوم پاکستانی عوام کا خون بہاتے، بلکہ ملکی تنصیبات کودھماکوں سے اُڑا کر معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے تھے۔ اُن کی دہشت گردانہ کارروائیوںکا شکار سب سے زیادہ مقامی آبادی بن رہی تھی، جس سے وہاں کے معصوم لوگوں کی زندگی عذاب بنی ہوئی تھی۔

پاک فوج کے جوان اور افسرپورے ملک، خاص طور پر شمالی وزیرستان کے بے گناہ اور اپنی ہی دھرتی پر دشمنوںکے ہاتھوں یرغمال مقامی باشندوں کی نجات کے لئے وطن دشمنوں کے خلاف سر بکف ،دو بدو لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ آپریشن خواہ جسم کے کسی حصّے کا ہو یا مُعاشرتی ناسوروں کے قلع قمع کے لئے، کوئی شوق کا سودا تو نہیں ہوتا، اِس لئے اُس سے تکلیف بھی ہوتی ہے اور آپریشن زدہ جگہ سے درد کی ٹیسیں بھی اُٹھتی ہیں۔ قوموں کی زندگی میںایسا کڑا وقت آن پڑے تو حوصلے اور عزم سے ہی اُس کا مقابلہ ممکن ہے اور اقوامِ ِعالم میں سر بلند ہونے اور تاریخ میں اپنی حیثیت منوانے کے لئے بہر حال ایسے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ پھرپاکستان کی تو ابتدا ہی ایسی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت بھارتی علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا، کتنے لوگ آزاد وطن کی مٹی کی مہک سونگھنے اور آزاد فضا میں سانس لینے کی حسرت دلوں میں لئے آسودہ¿ خاک ہوگئے۔

آپریشن ضربِ عضب کے آغاز سے ہی اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا پر تجزیہ نگار اور مُبصّر حضرات عام طور پر اِس کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہونے والے آئی ڈی پیزیا بے گھر افراد کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اِن تجزیہ نگاروں اور مبصّرین کرام کے تجزیوں اور تبصروں سے ارباب ِحکومت کو بہت حد تک اُن کی مشکلات سمجھنے اور اُن کو حل کرنے میںرہنمائی بھی مل رہی ہے، گویا میڈیا کے توسط سے مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہورہی ہے۔ زندہ معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے ، چنانچہ وطنِ عزیز میں بھی بجا طور پر اہل علم و دانش اور فکر و نظر اپنا فرض صحیح طریقے سے نبھا رہے ہیں جس پر قوم اُن کی شکر گزار ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ جب لاکھوں کی تعداد میں چھوٹے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں سمیت مقامی آبادی کو سرد علاقوں سے کوچ کر کے گرم چٹیل میدانوں میں عارضی خیموں میں رہنا پڑے گا تو اُن کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہو گا۔نقل مکانی کے لئے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، غذائی اجناس کی قلّت، نا موافق موسم میں بیماریوں کا شکار ہونے والے مریضوں کے دوا دارو اور مناسب دیکھ بھال میں مشکلات، خاص ثقافتی ماحول کی عادی اور پردہ کی پابند خواتین کا یکدم خانہ بدوشوں کے سے انداز میں دوسرے خاندانوں کے ساتھ رہن سہن، نیز رفع حاجت جیسی بنیادی سہولت کی عدم دستیابی ایسے مسائل ہیں جن پر یکدم مکمل قابو پانا آسان نہیں تھا، چنانچہ حسبِ توقع اِن مسائل پر قابو پانے اور اِن کو حل کرنے کی حکومتی اور عوامی سطح پر بھر کوشش کے باوجو کچھ وقت لگ رہا ہے ، لیکن پاک فوج، حکومتی اہل کاروں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار فلاحی تنظیوں کے رضا کاروں کی پُر خلوص کوششوں سے ہر گذرتے لمحے کے ساتھ بے گھر لوگوں کی مشکلات کم ہو رہی ہیں اور ان شاءاللہ جلد وہ وقت آئے گا جب یہ در بدر عوام ایک بارپھر پُر امن ماحول میں اپنے گھروں کو لوٹ کر سکھ چین سے زندگی گزاریں گے۔

اِس صورتِ حال میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تجزیہ کار آئی ڈی پیز کو در پیش مشکلات کا تو تکرار سے ذکر کر رہے ہیں اور بجا کہہ رہے ہیں کہ اُنہیں سخت گرمی برداشت کرنی پڑ رہی ہے اور کھانے پینے، نقل و حمل، علاج معالجے و غیرہ کی سہولیات میسّر نہیں یا کم ازکم حسبِ ضرورت نہیں، اور وہ پُر سکون گھروں کی بجائے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، مگر اِس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا کہ یہ ساری بلکہ اِس سے کئی گنا زیادہ مشکلات تو اِس آپریشن کے دوران میں پاک فوج کے بہادر جوانوں اور افسروں کو سہنی پڑ رہی ہیں۔ وہ بھی تو اِنہی حالات میں ،بے نام و نشاں دشمن کی تلاش میں جان ہتھیلی پر لئے دن رات جہاد میں مصروف ہیں، گھات میں بیٹھے سفّاک دشمن کے حملوں کا اندیشہ اِس پر مستزاد ہے، لیکن پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی حوصلہ افزائی اور اُن کی قربانیوں کے اعتراف میںپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اُس قدر کوشش اور عزم نظر نہیں آرہا، جو وطن کے اِن جاں نثاروں کا حق ہے۔

 کس کو شک ہے کہ بے گھر افراد مشکلات کا شکار ہیں،مگر کیا اُس خوف سے زیادہ مشکلات ہیں جو اُنہیںدن رات دہشت گرودں سے لگا رہتا تھا اور جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا،پھر یہ کہ کیا آپریشن کرنے والے فوجی جوان اور افسر اُن کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں نہیں دے رہے۔جگہ جگہ بچھی بارودی سرنگوں، چھپے ہوئے بارود کے ڈھیروں، کسی کونے کھُدرے سے اچانک نمودار ہو کر، حملہ کرنے والے خود کُش دشمن کے مقابلہ کے لئے ہر لمحہ چوکنا رہنا آسان ہے کیا؟۔اور کیا یہ آپریشن اہلِ پاکستان اور خاص طور پر آئی ڈی پیز کو مشکلات سے نجات کے لئے نہیں ہے، کیا اِس کا مقصد اُن کوپُر امن زندگی لوٹانااور عزت و آبرو کے ساتھ بے خوف ہو کے آزاد ریاست کے آزاد شہری کے طور پر جینے کا حق واپس دلانا نہیں؟۔اہلِ فکر و نظر اور اربابِ لفظ و معنی کو پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی بہادری، جانفشانی، ایثار اور قربانی کا پورے جوش سے اعتراف اورکھُل کر اُس کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے تاکہ اُن کے عزم و حوصلے کو جِلا ملے اور وہ مزید دلیری سے دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا سکیں۔انسانی فطرت ہے کہ کسی کے حتیٰ کہ حقیقی مسائل کا حد سے زیادہ تذکرہ بھی اُس کے مسائل میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اُسے مایوسی اورقنوطیت کی دلدل میں دھکیلنے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

ہم جب ہر گھڑی آئی ڈی پیز کی مشکلات کا رونا روئے جا رہے ہیں تو اِس سے نہ صرف اُن میں مایوسی کو ہوا دے رہے ہیں،بلکہ پاک فوج کو بھی کنفیوز کر رہے ہیں۔ کھیل کے میدانوں میں کھلاڑیوں کو سپورٹرز کی داد اور حوصلہ افزائی نئی قوّت عطا کر دیتی ہے، تو میدانِ جنگ میں اس کی اہمیت کتنا زیادہ ہے۔ موجودہ حالات میںاہلِ وطن خاص طور پر آئی ڈی پیز مایوسی افورڈ نہیں کرتے، فوج کو بھی پاکستانی عوام کی بھرپور سپورٹ آہنی عزم اور حوصلہ دے گی۔یہ پاکستان کے مستقبل کا معرکہ ہے ، جس میں ہم اور ہماری فوج نے ہر صورت کامیاب ہونا ہے۔طارق بن زیاد نے کامیابی اور صرف کامیابی کے فلسفہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلا دی تھیں، ہمیں بھی اُسی عزم سے مدد لینی ہے اور بس۔ سو ایک سنہرے مستقبل کی طرف پیش قدمی کے لئے اہلِ وطن کے دلوں میں آس اور اُمّیدکی شمعیں روشن کرنی چاہیئیں۔ مسائل کے حل کی کوششیں ضروری ہیں مگرہر وقت محض اُن کا رونا روئے جانا نہ صرف بے سود بلکہ مضر ہے ۔ ٭

مزید :

کالم -