مزاح نگاری

مزاح نگاری
 مزاح نگاری

  

ہمارے یہاں لوگ کتابوں کی تعداد سے کسی ادیب کے قدوقامت کو ماپتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ کوالٹی نہیں دیکھتے، بلکہ تعداد دیکھتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی تو دیکھیں کہ پطرس بخاری کے نام کے بغیر مزاح مکمل نہیں ہوتا،اور ان کی وجہ شہرت بھی مزاح ہی ہے اور ان کی مزاح کی صرف ایک کتاب ہے اور وہ بھی پچاسی یا نوے صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کا صرف ایک مضمون بعنوان ’’مرحوم کی یاد میں‘‘ ہے، جس کا دوسرا حصہ ’’مرزا کی سائیکل‘‘ ایف اے کے نصاب اردو میں شامل رہا ہے۔ صرف اسے پڑھتے ہوئے ہنسی آتی ہے۔ باقی مضامین کے معاملہ میں بس تبسم زیر لب والا معاملہ ہے۔باقی مزاح نگاروں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی قارئین کے چہروں پر تبسم ہی لا سکے ہیں اور اس اضطراب کے دور میں یہی کافی ہے۔

پطرس بخاری میدانِ ظرافت میں پائنر (راستہ دکھانے والے) تھے اور بیشتر مزاح نگار ان ہی کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ نامور مزاح نگار کرنل محمد خان اپنی ایک کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ وہ پطرس بخاری کی کتاب بعنوان ’’پطرس کے مضامین‘‘ اپنے پاس رکھتے تھے جب کبھی وہ طنزیہ مزاحیہ مضمون لکھتے ہوئے اٹک جاتے تھے تو پطرس بخاری کی کتاب پڑھنا شروع کر دیتے تھے اور یوں ان کا اسپِ خیال پھر رواں ہو جاتا تھا۔

مزاح تفکرات کو دور کرتا ہے۔ ہمارے سماجی رویہ کو ٹھیک رکھنے کے لئے مزاح پڑھنا ضروری ہے۔ دوسروں پر ہنسنا آسان اور اپنے آپ پر ہنسنا مشکل ہوتا ہے۔ مزاح نگاری بڑا مشکل کام ہے، لیکن قدرتی طور پر باصلاحیت آدمی کیلئے یہ مشکل نہیں ہے۔ مزاح نگار کو پل صراط پر چلنا پڑتا ہے، اسے بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، کہیں لوگوں کی پگڑیاں نہ اُچھل جائیں، کہیں کسی کی دل آزاری نہ ہو جائے، مزاح میں کہیں کوئی غیر اخلاقی عنصر نہ در آئے۔ مزاح میں متانت اور توازن ہونا چاہیے اور مزاح نگار کو اعلیٰ ظرف ہونا چاہیے۔جس طرح ادب لکھنے کے لئے یکسوئی ہونی چاہیے، اسی طرح مزاح لکھنے کے لئے سازگار حالات ہونے چاہئیں۔اول یہ کہ ملک میں سیاسی انتشار اور افراتفری نہ ہو اور دوسرا یہ کہ معاشی اور معاشرتی طور پر اور بین الاقوامی طور پر بھی حالات پر سکون ہوں اور پھر یہ کہ مزاح نگار کے اندر اور باہر کا موسم بھی ٹھیک ہو۔ ادب میں جو مزاح لکھا جاتا ہے، وہ طویل اور قدرے گہری سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے اور تخلیقی انداز میں لکھا جاتا ہے اور اس میں مبالغہ آرائی بھی ہوتی ہے، لہٰذا یہ طویل عرصہ تک زندہ رہتا ہے، جبکہ کالم سرسری طور پر اور جلدی میں لکھا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں طنز و مزاح لکھنے والوں کو ان کا جائز مقام نہیں ملا۔بعض جگہ تو ان کے ساتھ ناروا سلوک بھی ہوا ہے۔ دراصل ادیب شاعروں کو اس بات کا گمان ہوتا ہے کہ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہوئی ہیں (جو ظرافت کی نہیں ہوتیں) دراں حالانکہ سارے ملک میں مزاح نگار گنتی کے چند ایک ہیں، جبکہ ادیب شاعر تو سینکڑوں ہزاروں ہیں۔ میدان ظرافت میں خامہ فرصائی کرنے والے بڑا اہم کام کرتے ہیں۔ اس اضطراب اور کشمکش کے دور میں لوگوں کو خوش کرنا عبادت ہے۔ لوگ باگ مزاح کی اچھی کتابیں پڑھ کر کئی دن شاداں و فرحاں رہتے ہیں۔ ویسے مَیں تو ایسی کتابیں پڑھ کر اب تک رقصِ تبسم کر رہا ہوں۔ آج کے پُرآشوب حالات میں اچھا مزاح لکھنا مشکل ہوگیا ہے۔اسی لئے مزاح کم لکھا جا رہا ہے۔ اس تجزیہ کاری کے زمانہ میں مزاح نگاروں، ادیبوں، شاعروں بلکہ کالم نگاروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔

مزید :

کالم -