تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (2)

تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (2)
تحریک آزادی کے رہنما،مجاہدِ ملت:مولانا عبدالحامد بدایو نی ؒ (2)

  

رئیس الاحرار مولانا محمد علی ؒ کے انتقال کے بعد قائداعظم نے مولانا شوکت علی اور نواب اسماعیل خان سے مشورے کے بعد دہلی میں ہندوستانی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کو مدعو کرنے کی تجویز پیش کی۔ مولانا بدایونی نے جمعیت العلمائے یو پی کے قائد کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ علامہ بدایونی یوپی۔ سی پی بہار۔اڑیسہ، بنگال، آسام، ممبئی، کراچی، سندھ، بلوچستان ، پنجاب اور سرحد کے دورافتادہ مقامات پر قائداعظمؒ کی ہدایت پر مسلم لیگ کی کامیابی کے لئے سرگرم عمل رہے۔ صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں خان برادران کے مقابلے میں نمایاں کامیابی پر آپ کو فاتح سرحد کا خطاب دیا گیا۔مولانا عبدالحامد بدایونی مسلم لیگ کانفرنس منعقدہ لکھنوء 1937ء سے لے کر 1947ء تک اور قیام پاکستان کی تحریک میں سراپا مصروف رہے۔ مولانا بدایونی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ مسلم لیگ کے سٹیج سے مولانا کی تقریروں میں ہمیشہ یہ پہلو نمایاں رہتا کہ ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، جہاں کتاب و سنت کے مطابق حکومت قائم کی جائے اور ایک اسلامی و فلاحی معاشرہ قائم ہو۔قائداعظمؒ اور لیاقت علی خانؒ نے ایک وفد سعودی عرب روانہ کیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ حجاج کرام اور دنیائے عرب کو پاکستان اور مسلم لیگ کے موقف سے روشناس کرایا جائے اور حاجیوں کا ٹیکس ختم کرانے کے سلسلے میں جدوجہد کی جا سکے۔ اس وفد میں مبلغ اسلام مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی، مولانا عبدالحامد بدایونی اور سیدنا طاہر سیف الدین کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس وفد نے سلطان ابنِ سعود سے کامیاب مذاکرات کئے۔ سلطان ابن سعود نے وفد کے نقطہ ء نگاہ کو سننے کے بعد تسلیم کر لیا کہ حجاج پر ٹیکس لگانا ناجائز ہے۔ یہ اس وفد کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ مصر، عراق، شام اور انڈونیشیا کے مسلمان مسلم لیگ اور پاکستان کے موقف سے متعارف ہوگئے اور سلطان ابن سعود نے 400 روپے سے زیادہ کا حج ٹیکس بھی ختم کر دیا۔آپ نے 1940ء میں اقبال پارک لاہور کے اجلاس میں شرکت اور قرارداد پاکستان کے حق میں قائداعظمؒ کی زیر صدارت تاریخی تقریر فرمائی۔ قیام پاکستان کی تحریک کو تیز تر کرنے کے لئے 1946ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس (بنارس) منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس قیام پاکستان کے سلسلے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ تحریک پاکستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے اکابر علمائے اہل سنت کی جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، علامہ بدایونی ؒ اس کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

1945ء میں لیاقت علی خان نے (جو اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے) مولانا بدایونی کو حیدرآباد دکن بھیجا،تاکہ وہ کسی طرح نظام دکن میر عثمان علی خان اور قائداعظمؒ کی ملاقات کے لئے راہ ہموار کریں، کیونکہ ان دونوں کے اختلافات ملت اسلامیہ کی جدوجہد پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ نظام دکن مولانا بدایونی ؒ کی علمیت اور خطابت کے بڑے مداح تھے، اس لئے مولانا کی نظام دکن سے تاریخی بحث ہوئی۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد جب مولانا وہاں سے رخصت ہوئے تو نظام دکن قائداعظمؒ سے ملاقات کے لئے راضی ہو چکے تھے۔ 30 اگست 1941ء کو لدھیانہ میں ’’پاکستان‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا بدایونی نے کی۔ اس موقع پر مولانا نے قیام پاکستان کے حق میں مدلل خطبہ دیا، جو بعد میں نظامی پریس بدایونی سے کتابی شکل میں شائع ہو کر مسلم لیگ کی تمام شاخوں کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔

1946ء میں کوئٹہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سردار غلام محمد ترین اور قاضی عیسیٰ مرحوم کے علاوہ مولانا بدایونی نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس کی صدارت نواب زادہ لیاقت علی خان نے کی۔ مولانا بدایونی نے اپنی زندگی قومی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی، وہ اپنے خاندان اور آرام و آسائش سے بے پروا ہو کر ایک عظیم مجاہد کی طرح ایثار و قربانی کو اپنا شعار سمجھتے تھے۔وہ دنوں نہیں، بلکہ مہینوں اہل خانہ سے دور رہ کر مسلم لیگ کے لئے سرگرم عمل رہے۔ مولانا مرحوم عید کی تقریبات بھی اپنے گھر پر نہیں منا سکتے تھے، کیونکہ انہیں صوبہ بنگال کے مسلمانوں کی فرمائش پر ابو الکلام آزاد کی جگہ عیدگاہ کلکتہ میں نماز عیدالفطر پڑھانے کا فریضہ انجام دینا ہوتا تھا۔قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی دعوت پر مولانا بدایونی آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس میں شرکت کے لئے کراچی آئے ،پھر قائدین کے اصرار پر یہیں کے ہو رہے۔ وہ ملی استحکام اور اتحاد عالم اسلامی جیسے عظیم مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی زندگی کے آخری سانس تک مصروف رہے۔ مولانا بدایونی جس روز سے پاکستان آئے، اسی روز سے انہوں نے مہاجرین کی خدمت کا بیڑہ اٹھا لیا۔ کراچی کے ڈپٹی کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا نے مہاجرین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی، جس کا صدر مولانا بدایونی کو مقرر کیا گیا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -