لاہورہائیکورٹ نے ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنوتعین کرنے سے روک دیا،آئی جی کو متاثرہ فریق کو سن کر فیصلہ کرنے کا حکم

لاہورہائیکورٹ نے ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنوتعین کرنے سے روک دیا،آئی جی ...
لاہورہائیکورٹ نے ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنوتعین کرنے سے روک دیا،آئی جی کو متاثرہ فریق کو سن کر فیصلہ کرنے کا حکم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے محکمہ پولیس کوڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنوتعین کرنے سے روکتے ہوئے آئی جی پنجاب کوحکم دیا ہے کہ متاثرہ فریق کو سن کر دوماہ میں معاملہ کا فیصلہ کیا جائے ۔

محکمہ ریلوے میں 5بڑے افسروں کی تعیناتی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

جسٹس مزمل اخترشبیر نے یہ حکم ڈی ایس پی شفقت ندیم ، شاہد اکرام ، فیصل عباس کھرل ، محمد خلیل ملک ، خالد حسین تارڑ ، ناصرعلی ثاقب اورعمران شریف کی درخواستوں پرجاری کیا ، درخواست گزاروں کی جانب سے ملک اویس خالدایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ درخواست گزارڈی ایس پیز 1994ءکو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہوئے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعدآئی جی پنجاب نے ان کی 2009ءمیں سنیارٹی فکس کردی ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب آئی جی پنجاب کے پاس ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنو تعین کرنے کااختیارنہیں ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی پنجاب کو ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کا ازسرنو تعین کرنے کے اقدام کوکالعدم قراردیا جائے۔ عدالت نے درخوست نمٹاتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ڈی ایس پیز کی سنیارٹی کے تعین کے حوالے سے درخواست گزاروں کا موقف سن کر دوماہ میں اس بابت فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : لاہور