پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی‘ درآمدات بڑھ رہی ہیں،راجہ حسن اختر

پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی‘ درآمدات بڑھ رہی ہیں،راجہ حسن اختر

لاہور(کامرس رپورٹر )لاہور چیمبر (بزنس مین فرنٹ گروپ) کے صدرو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) ریجنل قائمہ کمیٹی برائے’’کان کنی و معدنیات‘‘ کے چےئرمین راجہ حسن اختر نے کہاہے کہ پاکستان Ease of Doing Businessکے لحاظ سے 190ممالک کی ورلڈ بنک کی رینکنگ میں 144ویں نمبر ہے،جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ملک میں Ease of Doing Business کی رینکنگ کو بہتربنانے اورکاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے کے لئے شفاف ، جامع، طویل المعیاد قابل عمل معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور انکا نفاذ ضروری ہے جسکے لئے فیصلہ سازی کے اداروں اور کاروباری تنظیموں میں مضبوط تعاون ، مشاورت کو بہتر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل کمی آرہی ہے اور درآمدات بڑھ رہی ہیں۔ایکسپورٹ کو بڑھانا کیلئے بیرونی ممالک میں پاکستانی سفیروں اور کمرشل اتاشیوں کا فعال ہونا ہوگا۔بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ 2016 سے 2017 کے دوران89ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں کمی وزارتِ خارجہ،ٹی ڈئپ،وزارتِ تجارت پاکستانی سفیروں اور کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ بیرونی ممالک میں پاکستانی سفیروں اور کمرشل اتاشیوں کا فعال ہونا ہوگا۔ملک بھر میں بہت سے ریوینو کلیکشن ادارے کام کر رہے ہیں جیسے کے پنجاب میں اس وقت پانچ ادارے ریونیو کلیکشن کر رہے ہیں۔

جن میں بورڈ آف ریونیو،پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،پنجاب ریونیو اتھارٹی اور بہت سے متعلقہ ادارے آتے ہیں ۔ان سب کو ملا کر ایک منسٹری یا باڈی بنا دیا جائے اس سے Ease of Doing Business میں بہتری آئے گی۔پاکستان کی صنعت کو برابر( (Level Playing Fieldکی ضرورت ہے کارپوریٹ سیکٹرکو نظر انداز کیا جارہا ہے۔راجہ حسن نے مزید کہا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ہے اوریہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا باعث ہے اہم برآمدی صنعتوں کو درپیش مسائل حل نہ ہونا ،سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونا، برآمدات میں کمی کا اور درآمدات میں ہونے والے ہوشربا اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔ جس کے باعث ملکی برآمدات 25ارب ڈالر کی سطح سے کم ہوکر 19.8ارب ڈالر کی سطح پر آگئی۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی دیگر وجوہات کے ساتھ مہنگی بجلی اور بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ بھی ہے اس لیے حکومت برآمدات میں مزید کمی اور تجارتی خسارہ بہتر کرنے کے لئے کیلئے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کرے۔ حکومت دیگر منصوبوں کے ساتھ ساتھ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی طرف بھی توجہ مرکوز کریں تاکہ سستی بجلی کا حصول ممکن ہوسکے۔

مزید : کامرس