اب جگر تھام کے بیٹھو

اب جگر تھام کے بیٹھو

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پاناما کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے،اِس سے پہلے پانچ رکنی بنچ نے20اپریل کو جو فیصلہ سنایا تھا اُس کے تحت3،2 سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا گیا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے اسی بنچ کے روبرو پیش کی جو عملدرآمد کے لئے تشکیل دیا گیا تھا اس بنچ نے پیر سے جمعہ تک پانچ روز کے لئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد درخواست دہندگان اور مدعا علیہان کے وکلاء کے موقف کی سماعت کی۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے بعض اضافی دستاویزات بھی فاضل عدالت کے روبرو پیش کر دیں۔اب تمام فریقوں کو جگر تھام کر اور صبرو سکون کے ساتھ فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے اور ہو سکے تو اِس دوران اپنی اپنی زبانیں بند رکھنی چاہئیں،جو کیس کی سماعت کے دوران پورے عرصے میں میڈیا ڈائس پر بڑی روانی سے چلتی رہیں اور جن کا دورانِ سماعت بھی ذکر آتا رہا،فیصلہ جو بھی آئے گا یہی فاضل بنچ سُنائے گا،اِس بارے میں اب ابہام ختم ہو جانا چاہئے۔ اِس مقدمے کی نوعیت قانونی سے زیادہ سیاسی بنی رہی، عدالت کے روبرو وکلا نے جو بھی دلائل دیئے یا جے آئی ٹی نے جو رپورٹ پیش کی اُس کا جائزہ تو فاضل عدالت نے دلائل کی روشنی میں ہی لینا ہے۔یہ بھی دیکھنا ہے کہ درخواست دہندگان کے موقف میں کتنی جان ہے اور دفاع کرنے والے کس حد تک اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوئے،لیکن اِس پورے عرصے میں عدالت کے باہر جو دھما چوکڑی مچی رہی اس کا قانون، دلیل اور منطق سے کوئی تعلق نہ تھا وہ از اوّل تا آخر ایک سیاسی سرکس تھا، جس میں نہ تو دلائل پر انحصار تھا نہ معاملے کے قانونی پہلوؤں پر زیادہ زور تھا، بس اپنی اپنی خواہشات کا بے تکا اظہار کرنے پر زورِ بیاں صرف کیا جا رہا تھا۔20اپریل کو جب پانچ رکنی بنچ نے اپنا محفوظ فیصلہ سنایا اس وقت بھی یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ بس آج کا دن وزیراعظم کا آخری دِن ہے، اِس فیصلے کے فریقین نے مٹھائیاں بھی بانٹیں اور اپنے اپنے انداز میں پانچ رکنی بنچ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر جو چھ رکنی جے آئی ٹی تشکیل پائی اُسے پابند کیا گیا تھا کہ وہ ہر پندرہ روز بعد کام کی رفتار اور نتائج کی نوعیت کی رپورٹ عملدرآمد بنچ کو پیش کرتی رہے، سو ایسا ہی کیا گیا۔ دورانِ سماعت ایک مرحلے پر جے آئی ٹی نے شاید مزید وقت بھی مانگا جو اُسے نہیں دیا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ کی دس جلدیں فاضل بنچ کے سامنے پیش کر دی گئیں، جن میں سے نو جلدیں افادہ عام کے لئے شائع ہو چکی ہیں، اخبارات اور چینلوں نے ان میں سے جو حصے مناسب سمجھے وہ شائع اور نشر بھی کر دیئے، دسویں جلد کے بارے میں جے آئی ٹی نے یہ سفارش کر دی تھی کہ اسے عام نہ کیا جائے، مقدمے کی سماعت کے آخری روز فاضل بنچ نے یہ دسویں جلد بھی وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو پڑھنے کے لئے دے دی تاہم یہ شائع ہو گی یا نہیں یہ فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر درخواست دھندگان اور ان کے حامیوں نے بہت خوشیاں منائیں حتیٰ کہ ایک شیخ الاسلام نے جن کا خیال تھا پیسے کے ذریعے جے آئی ٹی کو ’’مینیج‘‘ کر لیا گیا ہے انہوں نے برسر عام یہ بات کہہ بھی دی تھی اور اخبارات اور میڈیا کے ذریعے عام بھی ہو گئی تھی یہ بات انہوں نے ایک بار نہیں درجنوں مرتبہ کہی، لیکن جب رپورٹ سامنے آئی تو وہ بھی خوش ہو گئے اور کہا اُن کا تجزیہ غلط نکلا البتہ دُعا قبول ہو گئی تاہم انہوں نے اپنے پہلے خیالات پر اظہارِ افسوس یا ندامت کی ضرورت محسوس نہیں کی، اور سرسری طور پر بھی یہ نہیں کہا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے بارے میں بار بار جن منفی خیالات کا اظہار کیا وہ غلط تھے۔

بعض خواتین و حضرات نے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو ایک ہی مقام پرکھڑا کر دیا تھا، حالانکہ سپریم کورٹ مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور ہر قسم کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے،جو حتمی بھی ہوتا ہے اور نافذ العمل بھی،جبکہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم سے بننے والی ایک تحقیقاتی ٹیم تھی، جس میں آرمی انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل تھے اور دوسرے اداروں کے بھی،اس ٹیم کی رپورٹ پر مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں اور خود وزیراعظم نواز شریف نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا،کسی نے اسے ردی پُرزوں کا انبار کہا،کسی نے پکوڑے بیچنے والے کاغذوں کا پلندہ،غرض جس کو جو تبصرہ پسند آیا اُس نے کر دیا یا بالفاظِ دیگر جس کے جو بھی مُنہ میں آیا وہ اُس نے کہہ دیا،اس مقصد کے لئے میڈیا کا سہارا بھی لیا گیا، میڈیا کے اینکروں نے بھی اِس رپورٹ کو وزیراعظم کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ بنا کر پیش کیا، جو اُن کے خیال میں حرفِ آخر تھی اور اس کی زبان کوثر و تسنیم میں دُھلی ہوئی تھی اور آبِ زر سے لکھی جانے کے قابل تھی، جے آئی ٹی کو اس مقام پر فائز کر دیا گیا، جو سپریم کورٹ کے لئے مخصوص ہے،حالانکہ سپریم کورٹ میں یہ ریمارکس سامنے آ چکے ہیں کہ عدالت رپورٹ کی پابند نہیں،ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو ایک ’’خالق‘‘ ہے دوسری ’’تخلیق‘‘ اِس لئے دُنیا کے کسی بھی پیمانے سے دونوں برابر نہیں ہو سکتے،پھر جن افسروں پر یہ ٹیم مشتمل تھی بھلے سے وہ ’’سُچے موتی‘‘ ہی کیوں نہ تھے، لیکن اُن کی رپورٹ میں کہیں کہیں ایسے مقامات اندھوں کو بھی نظر آ جاتے ہیں، جن میں اقربا نوازی کی گئی،مثال کے طور پر ٹیم کے سربراہ نے تفتیش و تحقیق کے کام کے لئے لندن میں ایک ایسی فرم کی خدمات حاصل کیں جو2013ء سے اب تک غیر فعال چلی آ رہی تھی، لیکن ٹیم کے سربراہ کے حُسنِ انتخاب کی داد دینی چاہئے کہ پورے برطانیہ میں اُنہیں چند خطوط لکھنے کے لئے جو فرم پسند آئی وہ اتفاق سے اُن کے کزن کی تھی، اب اگر کچھ لوگ اسے اقربا پروری کہہ رہے ہیں تو کہتے رہیں ٹیم بہرحال اپنے انتخاب میں آزاد تھی اور ایک غیر فعال فرم کو منتخب کر کے اُس نے یہ ثابت بھی کر دیا۔

جونہی سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہوئی وزیراعظم کے سیاسی مخالفین نے اُن سے استعفے کا مطالبہ تیز کر دیا اور اب تک کئے جا رہے ہیں،جس کا جواب بھی وزیراعظم نے یہ کہہ کر دے دیا ہے کہ ہر صبح اُٹھ کر اُن سے استعفے کی بھیک مانگی جا رہی ہے بعض حضرات نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا نعم البدل سمجھ لیا، اور کچھ تو عملاً یہ ثابت کرنے پر تُل گئے کہ اب کسی فیصلے کی کیا ضرورت ہے۔ جے آئی ٹی کا ’’فیصلہ‘‘ ہی سب کچھ ہے، اب وزیراعظم کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں وہ استعفا دے دیں ورنہ اڈیالہ جیل میں اُن کے لئے گھر تیار کیا جا رہا ہے، کچھ لوگ تو وزیراعظم کی ’’خیر خواہی‘‘ میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ صبح و شام استعفے کی گردان کرتے وقت یہ بھی یاد دِلاتے ہیں کہ بھلے سے اپنے بھتیجے کو ہی وزیراعظم بنا دیں ہمیں منظور ہے،لیکن خود استعفا ضرور دے دیں، کئی حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وزیراعظم کے خلاف فیصلہ نہ دیا گیا تو یہ عوام کے خلاف فیصلہ ہو گا غرض ایسے ایسے مطالبات کئے جا رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ بعض حضرات عقل و دانش کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئے ہیں اور اِس بات پر ہلکان ہو رہے ہیں کہ استعفا اب تک آیا کیوں نہیں؟ کئی لوگ جے آئی ٹی کے خود ساختہ محافظ بن کر بھی سامنے آئے ہیں اور ایسے للکارے مارے جا رہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں خبردار کسی نے جے آئی ٹی کی طرف بُری نظر سے دیکھاحالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اِس عفیفہ کو کسی نے بُری نظر سے نہیں دیکھا صرف رپورٹ کی خامیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اِس ماحول اور اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پورے صبرو تحمل سے وکلا کے دلائل بھی سُنے ہیں اور دلائل کے نام پر عدالت سے باہر ہونے والے تبصرے بھی اُن کے سامنے آئے ہیں جو کچھ بھی ہوتا رہا وہ سب عدالت کے روبرو بھی ہے اور وہ اس کی تہہ تک بھی پہنچ جائے گی،لوگوں کی بے تابیاں اور پریشانیاں بھی عدالت سے مخفی نہیں ہیں۔اب فیصلہ محفوظ ہے، عدالت جس نتیجے پر پہنچے گی اس کا اعلان جب چاہے گی کر دے گی اِس دوران ہماری گزارش یہ ہے کہ تمام فریق صبرو تحمل سے فیصلے کا انتظار کریں،جنہیں بہت پریشانی ہے وہ بھی جگر تھام کر ہی سہی فیصلے کا انتظار کریں۔

مزید : اداریہ