پاناما: چند لمحے ماضی والے ، وزیر اعظم کا رویہ؟

پاناما: چند لمحے ماضی والے ، وزیر اعظم کا رویہ؟
 پاناما: چند لمحے ماضی والے ، وزیر اعظم کا رویہ؟

  

پاناما کیس جو رخ اختیار کرچکا اس کے اختتام کے حوالے سے اندازے لگائے جارہے ہیں اور ہر کوئی اپنی خواہش کے مطابق نتائج بھی اخذ کررہا ہے، گزشتہ روز(جمعہ) کی سماعت کے ابتدا میں یہ توقع تھی کہ سماعت مکمل ہو جائے گی لیکن بات آگے بڑھی تو پھر یہ اندازہ ہوا کہ شاید ابھی ایک آدھ روز اور سماعت ہو اور فیصلہ اگلے ہفتے ہی میں آئے تاہم تحریر مکمل ہونے تک خبر آگئی کہ سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ، اگلا ہفتہ اہم! بہر حال جمعہ کی سماعت دلچسپ ضرور تھی وکلاء کے دلائل کے دوران یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ فاضل وکیل حضرات تو تیاری کرکے آئے ہی ہیں لیکن فاضل جج بہت زیادہ چوکس اور ان مسائل سے آگاہ ہیں جو سماعت میں درپیش ہیں اور جو بھی باتیں ان کے علم میں لائی جارہی ہیں، وہ پہلے سے زیر غور ہیں ، کچھ کہا تو نہیں جاسکتا کہ فاضل جج حضرات جو ریمارکس دیتے ہیں وہ فیصلے کی بات نہیں ہوتی، ان ریمارکس کے نتیجے میں بھی معلومات ملتی ہیں تاہم اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ بات یہیں ختم نہیں ہوگی، شاید بعض معاملات کے لئے احتساب عدالت کو موقع دیا جائے کہ وہ شہادتیں طلب کرکے اور جرح کی سماعت کے بعد فیصلہ دے، تاہم یہ ضرور ہے کہ تادم تحریر مدعا علیہان بڑی مشکل میں ہیں۔۔۔یہ چند کلمات ابتدائیہ جانئے، ہمارا قطعاً یہ ارادہ نہیں کہ زیر سماعت معاملے پر رائے دیں یا تجزیہ کریں البتہ ممکن ہوا تو فیصلے پر نہایت دیانت داری سے کچھ تبصرہ ضرور کریں گے، آج تو ہم حالات حاضرہ کو ذہن کے کھلتے دریچوں میں جھانک کر ماضی ہی یاد کرلیتے ہیں، ہمیں تو جو کچھ یاد آرہا ہے وہ حالات کے مطابق اور دلچسپ بھی ہے قارئین کو پسند آتا ہے یا نہیں یہ ان کی اپنی صوابدیدہے۔

ہمیں یاد ماضی کی تحریک یوں ہوئی کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف جن کے بارے میں سنجیدہ اور متحمل مزاج ہونے کا قوی تاثر پایا جاتا ہے وہ خود یکایک احتیاط کا دامن چھوڑ بیٹھے اور اپنے غصہ کو باہر لے آئے ہیں ابھی چند روز قبل ہی تو انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ’’قومی دعوت‘‘ کے موقع پر بتایا تھا کہ کرکٹ کے حوالے سے ان کے ساتھ زیادتی ہوتی تو ان کو بہت غصہ آتا تھا، ہنستے ہوئے یہ بھی کہہ گئے کہ جب کوئی باؤلر انکو باؤنسر مارتا تو وہ شدید غضب کے عالم میں اسے ’’ہک‘‘ کرتے اور یوں کبھی چھکا اور کبھی چوکا ہو جاتا تھا، یہی وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی معاشرتی اور سرکاری زندگی میں بڑے سنجیدہ نظر آتے ہیں اور سامنے والوں کو کبھی تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کو ہنسی آنا بہت مشکل مسئلہ ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ محافل میں بڑے زور دار قہقہے لگا کر ہنستے ہیں اگرچہ سرکاری آداب ہوں تو یہ ہنسی اور قہقہہ بھی دبی دبی ہنسی والا ہوتا ہے، بہر حال وہ ہمہ وقت مسکراہٹ سجائے رکھنے پر تو قادر ہیں۔

ہمارا واسطہ شریف خاندان سے پیشہ صحافت سے پہلے کابھی ہے اگرچہ یہ ایک حوالے ہی سے تھا تاہم ان کے بارے میں جانتے بہت کچھ ہیں کہ ہمارے تایاجان چراغ اینڈ سنز (رام گلی) میں ایک سینئر کاریگر تھے، چراغ اینڈ سنز شریف برادران کے لئے ڈیزل انجن(ٹیوب ویل والے) کے ٹاپے (کور) بناتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب چوک دالگراں کے پاس سرائے سلطان کے باہر میاں شریف(مرحوم) اور ان کے بھائیوں کی اپنی فاؤنڈری تھی اور وہ کسانوں کے لئے ٹیوب ویلوں کے انجن تیار کرتے تھے، بہر حال یہ تو ایک مختلف مسئلہ ہے اور اس دور کی ساری یادیں دوسرے عوامل سے متعلق ہیں ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اپنے بزرگ اور میاں چراغ دین(مرحوم) کے صاحبزادے بابو جاوید سے کبھی کبھی اس دور کی باتیں سن لیتے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعظم محمد نواز شریف سے براہ راست رابطے کا تعلق ہے تو یہ جنرل ضیاء الحق (مرحوم) کے دور سے ہوا، جب پنجاب کابینہ تشکیل دی گئی اور اس میں محمد نواز شریف وزیر خزانہ کی حیثیت سے سامنے آئے اس سے پہلے وہ تحریک استقلال میں تھے تو آمنا سامنا ہوا لیکن وہ کم گوتھے۔ یہ بات شروع کرنے سے قبل یہ بھی بتادیں کہ وہ بڑے کھلے ڈھلے مزاج کے ہیں اور ایک دوبار ایسی محافل میں بھی شرکت کا موقع ملا جو ذرا بے تکلفانہ تھیں اور محترم لطیفے بھی اچھے سناتے تھے۔

بہر حال محترم محمد نواز شریف صوبائی وزیر خزانہ اور ان کا دفتر پنجاب سول سیکرٹریٹ میں تھا، ہمارا رپورٹنگ کے سلسلے میں سیکرٹریٹ آنا جانا ہوتا تھا، سعادت خیالی( مرحوم) جو ہمارے موچی دروازے کے محلے دار بھی تھے ہم سے سینئر تھے اور پولٹیکل رپورٹنگ میں بہت تعاون کرتے تھے وہ پر مزاح شخصیت تھے اور سیاسی راہنماؤں سے بے تکلفی کے تعلقات رکھتے تھے ۔ ایک روز سیکرٹریٹ میں ان سے ملاقات ہوئی تو وہ ہمیں اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے ، اس وقت کے وزیر خزانہ محمد نواز شریف کے دفتر میں ساتھ لے گئے، ہمارا بھی پھر سے تعارف ہوا اور دونوں حضرات ( نواز شریف +سعادت خیالی) کے درمیان بعض خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا اور اس کے بعد سعادت خیالی نے ایک سفارش کردی، جو فوراً مان لی گئی لیکن ہم نے یہ نوٹ کیا کہ میاں صاحب نے اپنی دراز میں ایک جسٹر رکھا ہوا تھا، وہ نکالا گیا اور جو کام خیالی صاحب نے کہا اس کا اندراج کرلیا گیا، بعدازاں یہ رجسٹر بھی ترقی کرگیا اس کی جگہ کمپیوٹر اور پھر لیپ ٹاپ نے لے لی تھی، اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم ریکارڈ رکھنے کے اہل ہیں اور یقیناً وہ ماضی کا کیا سب بتاسکتے ہیں چاہے اس کے لئے ریکارڈ دیکھنا پڑے اور یہ ریکارڈ ہوتا بھی ہے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ایک واسطہ 1985ء میں بھی پڑا، جب غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہو چکے تھے اور وہ بیک وقت قومی اورصوبائی اسمبلی کے لئے کامیاب ہوئے تھے، ہمارے ایک اور رفیق سید سجاد کرمانی (مرحوم+تب روزنامہ مارننگ نیوز) ہمیں اپنے ساتھ ایمپریس روڈ پر ’’اتفاق‘‘ کے دفتر میں لے کر گئے، سجاد کرمانی ہمارے بارے میں یہ حسن ظن رکھتے تھے کہ ہم حالات پر نظر رکھتے اور سیاسی امور میں ہماری رائے بہتر ہوتی ہے، جاتے جاتے وہ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ محترم محمد نواز شریف نے ان کو مشورے کے لئے بلایا ہے، ہم ان کے ساتھ گئے، مسکراہٹ سے استقبال اور سلام دعا کے بعد بیٹھے، عام سی بات چیت ہوئی پھر محمد نواز شریف صاحب نے سوال کیا کہ ان کو قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست میں سے کون سی نشست رکھنا اور کون سی چھوڑنا چاہئے، ہم اپنی رائے کو ملفوف کرنے کے خلاف رہے ہیں اس لئے دیانت داری سے مشورہ دیا کہ اگر وہ (نواز شریف ) لمبی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو وہ قومی اسمبلی میں جائیں کہ ان کے تعلقات اچھے ہیں اس لئے امکانی طور پر وہ وزیر بنالئے جائیں گے اور یوں ان کو قومی سیاست کا موقع ملے گا، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، ہماری بات سن لی اور پھر چند منٹ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ہم چلے آئے، ہمیں بالکل اندازہ نہ ہوا کہ ان (نواز شریف) کے ارادے کیا ہیں تاہم بعد میں انہوں نے قومی اسمبلی والی نشست خالی کی اور پھر صوبے کے وزیر اعلیٰ ہوگئے یوں ثابت ہوا کہ فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا یا وہ اپنا ارادہ کئے ہوئے تھے اس لئے اظہار نہیں کیا، یہ ان کی شخصیت کا خاصا ہے اور بعد میں بھی یہ امر ان کی خوبیوں میں شامل ہوا کہ وہ ارادے کے پختہ اور سنجیدہ ہو کر سننے والوں میں ہیں اور اپنے اندر کی بات بتاتے نہیں ہیں۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

حالات حاضرہ یایوں کہہ لیں کہ وزارت عظمیٰ کی تیسری باری کے دوران وہ کچھ زیادہ ہی گہرے اور سنجیدہ نظر آئے ہیں اور تحمل مزاجی بھی شیوہ ہے لیکن نہ معلوم کیا ہوا کہ وہ ضبط کا دامن چھوڑ گئے اور لواری ٹنل کے افتتاح کے وقت جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کافی تلخ ہوگئے اور بعض ناروا باتیں بھی کہہ گئے ، کیا یہ ان پر اعصابی دباؤ ہے، یا ان کے اس مرض کا بھی تعلق ہے جس کا آپریشن لندن میں ہوا تھا، بہر حال ہم نہ صرف توقع رکھتے بلکہ یہ گزارش بھی کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نے جو احساس ایک سنجیدہ فکر راہنما کا پختہ کیا اور ثابت کیا ہے وہ اسے برقرار رکھیں گے اور قومی معاملات کو اب بھی غیر جذباتی فیصلوں سے سدھار لیں گے کہ وقت کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم