اجتماعی دانش ہی بڑے کام کرتی ہے (1)

اجتماعی دانش ہی بڑے کام کرتی ہے (1)

قصور سے عوامی لوٹ مار کے جس نامبارک سفر کا آغاز2013ء میں ہوا تھا جب میاں خورشید قصوری کے تحریک انساف میں شمولیت کے بعد اُن کی طرف سے پہلے بڑے عوامی جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا،وہاں موجود ہزاروں کرسیاں لوگوں نے مال مفت سمجھ کر دن دیہاڑے اٹھا لیں، دیواروں کے اوپر سے گھروں میں پہنچائیں،پیدل موٹر سائیکلوں پر اپنی اپنی ہمت استطاعت اور لالچ کے حساب سے اس عوامی لوٹ مار میں حصہ لیا اور ان تمام شرمناک مناظر کو دیکھ کر بھی اسے شغل میلہ سمجھ کر مذاق میں اڑا دیا گیا،بے نظیر کی سالگرہ ہو یا بھٹو صاحب کی جیالوں کی سالگرہ کیک اور کھانے کی دیگوں پر حملے بھی پی پی کا کلچر سمجھ کر مذاق میں اڑا دیا گیا ،حد تو یہ بھی ہوئی کہ رمضان المبارک میں اس مفت کے کھانے کو افطاری سے قبل ہی لوٹ لیا گیا اور دینی اقدار کی توہین اور اندر کے لالچ کی بدترین صورت دیکھ کر بھی اہل دانش اور اہل سیاست کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی ،نہ کسی نے اسے آنے والے برسوں کے لئے پیدا ہونے والے رجحان کا ٹریلر جانا۔ چندہفتوں میں ایک جیسے چار حادثے،سب تکلیف اور دکھ سے بھرے ، تکلیف کہیں جسمانی زیادہ رہی اور کہیں روحانی نے سانس بند کئے رکھا، جسم اپنا جلے کسی اپنے ماں جائے کا یا کسی اپنے ہم وطن کا ، جلن روح تک جاتی ہے ،اپنا اثر دکھاتی ہے ،دو سو بیس زندہ جل کر مر جانے والے لوگوں کی تعداد سن کر ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے ،خیال تھا اتنے بڑے سانحے کے بعد پھر دوبارہ کبھی ایسا موقع آیا تو لوگ دیکھ کر رکے بغیر گزر جائیں گے مگر نواب شاہ اور وہاڑی میں الٹنے والے ٹرالر کی وڈیو دیکھ کر ہی دل دہل گیا ،لوگ پٹرول میں اترے یوں ڈرم بھر رہے ہیں جیسے چاولوں کی پنیری لگاتے وقت کا منظر ہوتا ہے ،وہ سوختہ لاشیں کسی دشمن ملک کی تھیں یا اپنے اندر لالچ سے بھرا نفس اتنا بڑا دشمن بن گیا ہے کہ اسے ایسے مواقع پر کچھ یاد نہیں رہتا،اپنے آپ کو داؤ پر لگا کر کسی اورکا مال اپنانے کا جنون جسم میں شرارے بھر دیتا ہے لوگوں کی ذرا سی بے احتیاطی ہر سال کتنے لوگوں کو جلا دیا کرتی تھی ۔

اپنے بچپن میں ہم نے بارہا دیکھا کہ حج کے دنوں میں میدان عرفات میں خیموں میں آگ لگنا ایک معمول سا بنتا جارہا تھا، جواز دینے والوں کے پاس دلائل کی ایک لمبی فہرست ہوا کرتی تھی جس میں حاجیوں کی کم علمی، کم عقلی اور کم فہمی پر الزامی کنکریوں کی بوچھاڑ سے لکھنے اور بولنے والے بھیگ بھیگ جا تے ، کم ہی کسی تجزیئے کی نوبت آتی دیکھی ،یہ جنرل ضیاالحق کا زمانہ تھا ان کی ہدایت پر، پاکستان نے پہلی مرتبہ آگ کی مزاحمت کرنے والے خیمے بنائے اور سعودی عرب بھجوائے، پھرانہی خیموں کا شہر بسیایا جانے لگا ،ویسے ہی مزیدخیمے تیار ہونے لگے ۔ آگ نے جلانا تو بند نہیں کیا البتہ میدان عرفات کے خیموں میں لگنا اور حاجیوں کو جلانا بند کر دیا، آگ لگنے کا باعث بننے والوں کو کسی جرمانے اور سزا کا سننے میں نہیں آیا ، دو ہزار کی دہائی کے نصف اول میں مدینہ ایرپورٹ سے شہر جاتے ہوئے احترام اور محبت کے بے پایاں جذبات کے ساتھ ساتھ حیرت نے دِل اور آنکھوں میں جگہ پائی،ویران اور جلتی سڑک جانے کب قص�ۂ پارینہ بن گئی ،سڑک کے دونوں اطراف خوبصورت درخت قطار اندر قطار سایہ لئے یوں ایستادہ تھے جیسے استقبالیہ پر کھڑے لوگ پھول لئے مسکرا رہے ہوتے ہیں، معلومات حاصل کیں تو علم ہوا کہ زرخیز مٹی وطن عزیز سے جہازوں میں بھر بھر کر لائی گئی اور اسی مٹی نے مدینہ منورہ کی تپتی سڑکوں کو سایہ دار بنا دیا۔حج کے موقع پر کنکریاں مارتے انسانوں کی بھگدڑ برسوں سے حجاج کو روند نے اورکچلنے کی باقاعدہ روایت کا درجہ اختیار کئے ہوئے تھی ،چند برس قبل یہ تعداد تین سو تک جا پہنچی تو دنیا بھر کے ماہرین سے مشاورت کی گئی اور ایک برس کے اندر وہاں دس شاندار پل تعمیر کر دیئے گئے، جنہوں نے معجزاتی طور پر قیمتی انسانی جانوں کی عمدگی کے ساتھ حفاظت کا کام سنبھال لیا ،میں نے وہ مراحل بھی دیکھے جب ماہرین ان جگہوں پر فی منٹ انسانی دباؤ ماپتے ان کے آنے اور جانے کے راستے الگ الگ کرتے تھے ،پورے یورپ میں ہلکی بھاری ٹریفک کی لائنیں اور لینیں الگ الگ کر کے انسانی زندگیوں کو محفوظ کیا گیا ،یہاں تک کہ پیدل چلنے والوں کی سڑک یا راستہ تک الگ الگ کر دیا گیا ۔

ملائشیا کے شہر کوالالمپور اور سنگاپور کی سڑکوں پر پیدل انسانوں کو بار بار پیش آتے حادثوں کے بعد ان کی حفاظت کے لئے سڑکوں پر نصب کھمبوں پر خصوصی بٹن لگے ہیں،میں کتنی دیر ان پر غور کرتا رہا مگر مقصد نہ سمجھ سکا ،سڑک پار کرنے والے کو استعمال کرتے دیکھا تو سمجھ آیا کہ کیا عمدہ قدم اٹھایا گیا ہے ،اس بٹن کو دبا کر آپ سڑک پار کرنے کا ارادہ سڑک پر رواں ٹریفک کو بتاتے ہیں اور وہ رک کر آپ کو جانے کا محفوظ راستہ دیتے ہیں،حادثہ احمد پور کا ہو یانواب شاہ کا،پہلی بار یہ حادثے نہیں ہو رہے ،ان کی ایک مسلسل اور تواتر کے ساتھ خبریں بار بار متوجہ کرتی رہی ہیں، مگر ہم ہی مان کر نہیں دیتے ،یوں متوجہ کرانے کے لئے200 سے زائد سوختہ جانوں کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے ۔ ایسے حادثوں کے بعد ہمیں نیند کیسے آجاتی ہے؟

یہ درست ہے کہ مرنے اور جلنے والوں کی حکومتی سطح پر فوراً مالی اور طبی امداد کر دی گئی، مگر کیا اسے ہی کامیابی اور مرنے والوں کے غموں کا مداوا سمجھ کر زندگی کو ٹریفک کے وسیع سمندر میں لالچ اور نہ ختم ہونے والی طمع کے ہتھیاروں کے ساتھ سمندر میں اگلے حادثے کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے؟ذاتی طور پر ہماری حساسیت بلکہ بے جا حساسیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے گھروں سے دن میں ایک دو بار باہر آنے اور انہیں تیز ٹریفک سے محفوظ رکھنے کے لئے گھروں کی دونوں نکروں پر بے ہودہ قسم کے غیر قانونی سپیڈ بریکر بنانے سے باز نہیں رہ سکتے اور کتنے ہی نئے حادثوں کا باعث بنتے ہیں، مگر یہ حادثے احتیاط کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ایسے بڑے حادثوں کے بعد اشک شوئی کے لئے عدالتیں انصاف دینے کی کوشش تو کر سکتی ہیں، انسانی معاشرتی معاملات اور مسائل کا حل ان کے دائرہ کار میں بہرحال نہیں ہے ،وہ بہت ہوا تو غصے کا اظہار کریں گی،دو چار لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر نوکریوں سے برخواست اور معطل کردیں گی، مگر اس سے حادثے رکتے نہیں ہیں عدالتی احکام سے گرنے والی عمارتیں بھلا گرنے سے کیوں رکنے لگیں ۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم بطور قوم سوچنے اور حل نکالنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو گئے ہیں ،موٹر وے پولیس اور اس کے سارے قوانین ہمارے ہی اداروں اور جوانوں کے ہاتھوں تین دہائیوں سے اس قوم کو حفاظت سے سفر کروا رہے ہین اور احتیاط سکھا رہے ہیں ۔خاندان کے سربراہ کو اپنے اہلِ خانہ سے جس قدر پیار اور کنسرن ہوتا ہے، ہمارے پالیسی سازوں کو اس سے آدھا بھی احساس ہو جائے تو ہمارے بہت سے مسائل کا حل نکل آئے ۔اب جو عدالت کے روبرو بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے ٹرالر کے ٹائر کم تھے ،اس کا لائسنس یا پرمٹ ایکسپائر ہو چکا تھا ،ڈرایؤر اکیلا تھا، اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی ،اس کے ساتھ کوئی معاون ڈرائیور نہیں تھا،اس میں زیادہ پٹرول تھا۔لمحہ بھر کو رک کر دیکھا جائے تو ان میں سے تو حادثے کی وجہ کوئی ایک چیز بھی نہیں۔بے احتیاطی سے ڈرائیونگ کرتے بس ڈرائیور کو بچاتے بچاتے ٹرالر الٹ گیا،جس موٹر وے پولیس کوالزام دیا جارہا ہے اس کا کام ٹریفک کو رواں رکھنا ہے، 12 کلو میٹر کے متعین علاقے میں ڈیوٹی کرنے والے دونوں افسر تو وہاں پہنج گئے تھے ،انہوں نے ٹریفک بھی بحال رکھی، مگر وہ اس عوامی حملے کا کیا کرتے جو اچانک ہو گیا تھا ،یہ دوچار لوگ نہیں تھے اڑھائی تین سو لوگ تھے بالٹیوں بوتلوں اور ڈرموں سے مسلح، گھروں میں پٹرول سے چلنے والی چیزیں نہ تھیں، مگر دیکھا دیکھی پٹرول جمع کرنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے ، جلنے والے موٹر سائیکل اور کاروں والوں کا نام بھی احترام سے لو، جو بوتلیں لے کر بہتی گنگا میں اشنان کرنے آئے تھے ۔ ان میں بیمار بھی تھے ،بچے بھی اور عورتیں بھی ،وہ کسی ایک گاوں کے باسی نہ تھے ، قریبی علاقے کے ہر گاوں اور گوٹھ سے سواریوں پر آئے تھے ایک چنگ چی والے نے بتایا کہ مَیں پہلے ہلے میں کئی گیلن پٹرول گھر چھوڑ آیا تھا آتے ہوئے جو بارہ افراد میرے ساتھ آئے تھے وہ سارے جل گئے، مَیں بڑی مشکل سے بھاگا ۔یہ سبھی لوگ صبح صبح نماز اور تسبیح یا سیر کے لئے بیدار نہیں ہوئے تھے، جس جس کو خبر ہوئی اُس اُس نے جا جا کر اپنے پیاروں کو اس لوٹ مار جسے بعض اہلِ دانش شغل میلے کا نام دے رہے ہیں،اگر یہ شغل میلہ جائز اور قابل تقلید ہے تو پھر چند روز قبل کوکا کولا کی بوتلوں سے بھرے ٹرک کے سڑک کنارے خراب ہوجانے کے بعداسے لوٹنے والوں جو موٹر سائیکلوں ،کاروں اورپیدل چلنے والوں میں سے تھے کے ہاتھوں اور جھولیوں میں بھری اور رکھی چوری اور سینہ زوری سے اٹھائی بوتلوں کی قابل شرم وڈیو کو دیکھ کر دُکھی کیوں ہوا جا رہا ہے ؟کپڑے کی دکان پر لگی سیل میں کپڑوں کی چھین جھپٹ کے بعد گتھم گتھا ہونے کے مناطر پر حیرت اور افسوس کیوں ہوا جارہا ہے ؟(جاری ہے)

مزید : کالم