مخصوص تنظیمیں بھی مُتحرک ہوگئی ہیں!

مخصوص تنظیمیں بھی مُتحرک ہوگئی ہیں!
 مخصوص تنظیمیں بھی مُتحرک ہوگئی ہیں!

  

پانامہ لیکس کے نام پر عدالتِ عظمیٰ میں جو کیس چل رہا ہے اس کی سماعت مکمل ہوگئی اب فیصلے کا انتظار ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ مقدمہ قانونی معرکہ آرائی کی بجائے سیاسی جنگ میں بدل چکا، عدالتِ عظمیٰ میں وہ وہ سیاسی عمائدین بھی آرہے اور کیمروں کے سامنے کھڑے ہوکر حکومت کے خاتمے کا بلند بانگ اعلان کرتے نظر آتے ہیں جو اس کیس میں کسی طرح بھی متعلق نہیں۔ پیپلز پارٹی پانامہ کیس کے عدالتِ عظمیٰ میں لیجانے کے نہ صرف سخت مخالف تھی بلکہ دلائل دے دے کر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو روک رہی تھی مگر اب اس کے رہنما بھی کروفر سے تشریف لاتے ہیں۔ (ق) لیگ (کہ جس کے اکثر لوگ حتیٰ کہ چودھری خاندان کے قریبی رشتہ دار بھی، تحریک انصاف کو پیارے ہوچکے ہیں) کے زعماء چمک چمکا کر (عدالتِ عظمیٰ میں) جلوہ افروز ہورہے ہیں اور ڈھیلی پڑی ایم کیو ایم کے لیڈر بھی چہرہ دکھانے لگے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ نے ایک طرح سے ق لیگ (بلکہ اپوزیشن) میں نئی جان ڈال دی ہے اب اس کی وہ ساری امیدیں جو نواز شریف اور شہباز شریف کے آئے روز کے ترقیاتی کاموں سے، دم توڑ رہی تھیں اس رپورٹ اور اس کے سہارے عدالتِ عظمیٰ کے متوقع فیصلے سے بندھ گئی ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کے بجھے چہروں پر رونق سی آنے لگی ہے اور وہ اس توقع سے کہ اب آئندہ الیکشن میں کامیابی ہمارے دالان میں ناچے ہی ناچے، انتخابی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اپنے سمٹتے وجود کو انگڑائی دلانے کی خاطر اور اپوزیشن لیڈری کا بھرم رکھنے کے لئے اپنے بڑوں پر سخت تنقید کرنے والی تحریک انصاف اور سندھ کی مد مقابل ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر اپوزیشن اتحاد کو مستحکم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور وزیراعظم کے استعفیٰ کی متفقہ قرار داد اور مطالبہ سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے جتن کئے، مگر اس اجلاس میں بھی پیپلز پاری سے الگ ہو کر اپنی جماعت بنانے والے آفتاب شیر پاؤ اور کے پی کے میں تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے (اے این پی کے سربراہ) اسفند یار ولی نے، عدالت کے فیصلے سے مشروط کرکے استعفیٰ مطالبہ کے غبارے سے ہوا نکال دی۔

اپوزیشن کے مقابل حکومتی حلیف پارٹیوں نے اپوزیشن کے موقف کے برعکس وزیراعظم کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا، مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا، حاصل بزنجو، محمود اچکزئی، ڈاکٹر عبدالمالک، پروفیسر ساجد میر اور دیگر حکومتی حلیف رہنماؤں نے اس کیس کو ایک سازش قرار دے کر وزیراعظم کو بڑھاوا دیا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور پنجاب و کشمیر کی حکومتیں بھی نواز شریف کے ساتھ، شانہ بشانہ نظر آنے لگیں، وفاقی کابینہ اور حکومت و حلیف پارلیمانی گروپ بھی وزیراعظم کے ہر حال میں ساتھ دینے کا عہد باندھتے دکھائی دیئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ چودھری نثار جیسے سنجیدہ فکر اور مضبوط لیڈر کے بارے میں شکوک و شہبات پھیلنے لگے ہیں، عطاء مانیکا جیسے صوبائی وزیر نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے کر اور بیزاری کا بیان جاری کرکے ان افواہوں کو خبر بنانے کی سعی کی ہے کہ جن کے مطابق کئی حکومتی ارکان الگ ہونے اور اپنا گروپ تشکیل دینے کیلئے باہمی رابطے کررہے ہیں، ایک افواہ یہ بھی ہے کہ نواز لیگ میں سے ایک اور مسلم لیگ پیدا کی جائے گی (اب اس کو کون سا حرف تہجی الاٹ ہوگا کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ پہلے ہی مسلم لیگوں نے قریباً تمام حروفِ تہجی پر قبضہ کررکھا ہے)

چودھری شجاعت حسین نے بیان جاری کیا تھا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم لیگیں اکٹھی ہوجائیں‘‘۔ چودھری صاحب، اس سے پہلے بھی مسلم لیگی (ہی) حکومت کے مقابل ’’مسلم لیگوں‘‘ کو اکٹھا کرنے کی کئی بار کوششیں کرچکے ہیں مگر بوجوہ کامیاب نہ ہوسکے تھے، جنرل پرویز مشرف (اگرچہ ق لیگ کے بانی اور چودھریوں کو اقتدار سے ہم کنار کرنے والے ہیں پھر بھی) چودھریوں کے خلاف شکوہ کناں ہیں، بالخصوص جب چودھری پرویز الٰہی نے بیان دیا تھا کہ ’’جنرل مشرف نے پلان بنایا تھا چودھری افتخار کے قافلے پر، جہلم اور پنڈی کے درمیان حملے کا مگر ہم نے انکار کردیا‘‘۔۔۔۔۔۔ تو جنرل صاحب سخت برا فروختہ ہوئے تھے۔ اب چودھری صاحبان، جنرل صاحب سے رابطے میں ہیں، مگر وہ اپنی ’’مسلم لیگ‘‘ کو چودھریوں کی ’’مسلم لیگ‘‘ میں مدغم یا متحد کرنے پر متفق ہیں یا نہیں، معلوم نہیں ہوسکا۔ اسی طرح ’’مسلم لیگ فنکشنل‘‘ کا معاملہ ہے پہلے ایک موقع پر مرحوم پیر صاحب بگاڑا نے کہا تھا ’’نواز شریف نے تو صرف کیک کھایا ہے، چودھری تو پوری بیکری کھا گئے تھے‘‘۔

اب کیا معلوم، موجودہ پیر پگاڑا، چودھری برادران کی زیر قیادت مسلم لیگوں کے اتحاد میں شامل ہو ہی جائیں جبکہ اب تک ان کے نواز شریف سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ ’’مسلم لیگ (ض)‘‘ کے اعجاز الحق تو کھل کر حکومتی حلیف ہیں اور گزشتہ روز ان کی وزیر اعظم سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔ جس میں انہوں نے وزیراعظم کی حمایت ہی کا اعلان کیا ہے، البتہ سردار ذوالفقار کھوسہ کی (زیر غور) ’’مسلم لیگ‘‘ اور غوث علی شاہ کی (یک نفسی) ’’مسلم لیگ‘‘ آگے بڑھ کر گلے مل لیں تو کچجھ عجب اصل قابل غور بات تو یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ جس کے نئے وجود کی افواھیں پھیلائی جارہی ہیں اور جو ابھی تک معدوم اور محض وھم و گمان تک محدود ہے وہ اگر ارکان کی بغاوت کرواکر بنا ہی دی گئی تو اس کا سیاسی کردار کیا ہوگا؟ کہاں تک محدود رکھا جائے گا؟ اور اس کو بھی اسی مزعومہ اتحاد میں شامل کرایا جائے گا یا اکیلے الیکن کے میدان میں اتارا جائے گا؟۔ یہ سارے سوالات، تب ظہور پذیر ہوں گے جب مزعومہ ’’مسلم لیگ‘‘ عدم سے وجود میں آئے گی اور جب ٹیکنو کریٹ حکومت کی بجائے الیکشن کروائے جائیں گے!

اور یہ ساری صورت حال تبھی پیدا ہوگی جب عدالتِ عظمیٰ حکومت اور حکومتی زعماء بالخصوص میاں نواز شریف کے خلاف انتہائی فیصلہ دے گی، ابھی تک (مندرجہ بالا) یہ ساری صورتحال محض وھم و گمان اور خیالی پلاؤ کی حیثیت رکھتی اور صرف افواھوں تک محدود ہے لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جو سامنے آچکا ہے اور وہ ان مخصوص تنظیموں کا تحرک ہے جو خاص حالات میں مخصوص اور نادیدہ قوتوں کے اشارے پر ہی متحرک ہوتی ہیں، وہ تنظیمیں اپنی ڈگر سے ہٹ کر عوامی مفاد اور جذبات کو حوالہ بنا کر سرگرم ہوچکی ہیں اور جگہ جگہ عوامی اجتماعات منعقد کرکے اپنا وجود منوا اور سیاسی حلقوں پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

موجودہ سیاسی حالات میں اور آئندہ الیکشن میں نواز لیگ کی قوت اور عوامی مقبولیت کو ختم یا کم کرنے کی خاطر جو پلاننگ بیان کی جارہی ہے اور مبینہ طور پر سامنے آرہی ہے اس کے مطابق پوری کوشش ہے کہ حکومتی حلیفوں کو الگ کیا جائے، حکومتی پارٹی میں دراڑیں ڈال کر مزید مسلم لیگی گروپ معرضِ وجود میں لائے جائیں، اپوزیشن پارٹیوں کا مضبوط انتخابی اتحاد اور مذہبی جماعتوں بالخصوص دفاع پاکستان میں شامل (مخصوص) تنظیموں پر مشتمل ایک الگ پارٹی بنائی جائے (حالانکہ ان میں وہ تنظیمیں خاصی طاقت ور ہیں جو جمہوریت کو کفر اور ووٹ ڈالنے کو حرام قرار دیتی رہی ہیں) اسی بنتر بناوٹ میں ایک نیا نام ’’ملی مسلم لیگ‘‘ کا بھی سننے میں آرہا ہے جو نئی پیدا کردہ پارٹی کا مجوزہ نام بتایا جارہا ہے۔ یہ سارے حربے نواز شریف کے ووٹ کاٹنے اور بانٹنے کے حربے ہیں، معاملہ نواز مخالفت کا نہیں ہمارے ہاں ’’سی پیک‘‘ ایک لکیر کی صورت منصۂ شہود پر ہے، اس کے ایک طرف سی پیک کے حامی اور دوسری طرف سی پیک کے مخالف ہیں اور آنے والے دنوں میں انہی کے درمیان تمام معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ اسی تناظر میں پانامہ لیکس کا معاملہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ چار سو افراد میں سے صرف نواز شریف فیملی ہی نشانہ کیوں بنی ہے؟ باقیوں کو کیوں نظر انداز کردیا گیا ہے؟ بلکہ انہی کو ہیرو بنایا جارہا ہے جو اس فہرست میں خود نمایاں تر ہیں۔۔۔

کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟

کیا نتیجہ نکلے گا؟

کون جیتے گا، کون ہارے گا؟

اس باہمی لڑائی میں ملک و قوم کو کتنا نقصان ہورہا ہے، کتنا اور ہوگا۔۔۔ ہم نہیں بتا سکتے، ہم صرف ٹھنڈی آہ بھر سکتے ہیں، اصل حقائق وہی جانتے ہیں جو پس پردہ ہیں اور اپنی اپنی پُتلیوں کا تماشا دکھا رہے ہیں۔۔۔ باقی سب محض نماشائی ہیں۔۔۔ بس اور کچھ نہیں۔

مزید : کالم