سقوطِ موصل

سقوطِ موصل
 سقوطِ موصل

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’موصل کی آزادی‘‘ پر بیان جاری کیا کہ’’ موصل کی آزادی انسانیت کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف بہت بڑی فتح ہے‘‘۔ داعش کے انسان دشمن ہونے میں تو کسی کو شک نہیں، مگر عراق کے اس دوسرے بڑے شہر کی صورت حال سے ثابت ہوتا ہے کہ داعش کی طرح امریکہ کا بھی انسانیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تین سال پہلے تک موصل کی آبادی 20لاکھ سے زائد تھی۔اس شہر نے نو ماہ کے محاصرے کے دوران بہت زیادہ تبا ہی دیکھی۔ موصل کی تباہی کے مناظر بالکل ویسے ہی ہیں، جیسے دوسری جنگ عظیم میں یورپ کے شہروں کی تباہی کے تھے۔ موصل کا مغربی علاقہ، جس کو پرانا موصل بھی کہا جاتا ہے، یہاں پر امریکی بمباری سے کوئی رہائشی یا تجارتی عمارت سلامت نہیں رہی۔ موصل میں جنگی کارروائی کرنے کے لئے دس لاکھ افراد کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے شہر کے محاصرے کے دوران ہزاروں افراد کو بجلی، پانی، خوراک، حتیٰ کہ دوائیوں سے بھی محروم کر دیا گیا۔مغربی میڈیا کے اپنے دعوؤں کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والے افراد کی صحیح تعداد کا شائد کبھی اندازہ ہی نہ ہو پائے۔ مانیٹرنگ گروپ’’ائیر وارز‘‘کے مطابق امریکہ اور اس کی اتحادی فورسز کی بمباری کے باعث اس سال فروری سے لے کر جون تک 5,805 شہری ہلاک ہوئے، تاہم ’’ائیر وارز‘‘کی جانب سے فراہم کئے گئے یہ اعداد وشمار حتمی اس لئے قرار نہیں دےئے جاسکتے، کیونکہ ان میں موصل کے محاصرے کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مغربی میڈیا کی اپنی اطلاعات کے مطابق بہت سے ایسے مردوں اور لڑکوں کو بھی داعش کا جنگجو تصور کیا گیا جو اپنی جانیں بچانے کے لئے موصل شہر سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایسے بے گناہ افراد کا سمری ٹرائل بھی کیا گیا اور امریکی سپیشل فورسز کے مشیروں کی موجودگی میں ان پر بدترین تشدد بھی کیا گیا۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے چند روز قبل اپنی رپورٹ۔۔۔ "At Any Price: The Civilian Catastrophe in West Mosul,۔۔۔کے عنوان سے شائع کی ہے، جس میں بتا یا گیا ہے کہ موصل کے گنجان آباد علاقوں میں بھی شدیدبمباری کے باعث سینکڑوں بے گناہ افراد ہلاک ہوئے اور ان کے گھر بار بھی تباہ ہوگئے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی اس رپورٹ کے الفاظ کے مطابق۔۔۔ ’’موصل میں کارروائی کے دوران امریکہ اور اس کی اتحادی افواج اور گروپوں نے متعدد مرتبہ نہ صرف انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیاں کیں، بلکہ بعض مواقع پر جنگی جرائم کا ارتکاب بھی کیا گیا‘‘۔۔۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اس رپورٹ میں کھل کر مطالبہ کیا ہے کہ آزادانہ اور شفاف تحقیق کر کے یہ دیکھا جائے کہ کیسے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا تاکہ ذمہ دار فوجی افسروں اور اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ جنگی جرائم کے مقدمے قائم کئے جاسکیں۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں داعش کے مظالم کا بھی بھر پور احاطہ کیا ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ داعش کو اس مقام تک پہچانے کا بڑا ذمہ دار کون ہے؟جب تین سال پہلے داعش نے موصل اور عراق کے ایک تہائی علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تو اس وقت داعش جدید ترین اسلحہ اورتربیت یافتہ جنگجوؤں پر مشتمل ایک ایسا گروہ تھا، جس کو امریکی سی آئی اے اور اس کے علاقائی حامیوں نے لبیا اور شام میں حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اسی طرح عراق میں القاعدہ اور اس کے اتحادی گروپ اس وقت وجود میں آئے، جب2003ء میں عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا جھوٹا الزام لگا کرحملہ کیا گیا۔

خود امریکی سی آئی اے کے ایک سابق عہدے دار جان نکسن اپنی کتاب۔۔۔ Debriefing the President: The Interrogation of Saddam Hussein ۔۔۔میں اعتراف کرتے ہیں کہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملہ مشرق وسطیٰ کے حالات کو خراب کرنے کا باعث بنا۔ جان نکسن صدام حسین کی گرفتاری سے بہت پہلے صدام اور اس کے اقتدار پر تحقیق کر رہے تھے۔ نکسن نے جب صدام حسین کی گر فتاری کے بعد اپنی تفتیش کا آغاز کیا تو اس کو ایسے محسوس ہوا کہ صدام حسین کے بارے میں ان کی سوچ مکمل طور پر درست نہیں تھی۔ نکسن نے جب صدام حسین سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں دریافت کیا تو صدام نے جواب دیا:’’عراق کوئی دہشت گرد ریاست نہیں تھی۔ ہمارے اسامہ بن لادن کے ساتھ کو ئی تعلقات نہیں تھے، نہ ہی ہمارے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود تھے، مگر تمہارا صدر(بش) کہتا ہے کہ عراق میرے والد(بش سینئر) کو مارنا چاہتا ہے‘‘۔۔۔ نکسن کے مطابق اس نے صدام حسین سے تفتیش کے بعد جو ٹھوس نتائج اخذ کئے وہ یہ تھے کہ اگر اس سے پوچھا جائے کہ کیا صدام کو اقتدار سے ہٹانا ضروری تھا تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہرگز نہیں۔ نکسن کے مطابق بے شک صدام حسین ایک آمر تھا، مگر اس کو اقتدار سے ہٹانے کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی، یہ تباہی اس کی آمریت کے مقابلے میں بہت بڑی تباہی ہے۔ نکسن کے مطابق اگر صدام حسین کو یوں حملہ کرکے اقتدار سے نہ ہٹایا جاتا تو آج عراق میں داعش اور القاعدہ سمیت کسی انتہاپسند تنظیم کا وجود نہ ہوتا۔

تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے عراق کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ لاکھوں افراد اس سامراجی بھوک کی بھینٹ چڑھے اور لاکھوں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکہ نے عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھر پور ہوا دی۔ اس پالیسی کے عراق، خاص طور پر موصل میں انتہائی خوفناک نتائج سامنے آئے۔ بغداد میں شیعہ حکومت کے ذریعے موصل اور انبار کے صوبے میں سنی آبادی کو دیوار کے ساتھ لگا یاگیا، جس کے نتیجے میں داعش ان علاقوں میں مضبوط ہوتی گئی۔ اب موصل میں کامیابی کے بعد امریکہ اور عراقی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ عراق سے داعش کا وجود ختم ہونے جارہا ہے۔ موصل اور رقا جیسے علاقے تو دوبارہ سے فتح کئے جاسکتے ہیں، مگر اس سے یہ تصور کرنا کہ داعش کا خطرہ ہی ختم ہوگیا ہے، سراسر خام خیالی پر مبنی سوچ ہے۔ مغربی میڈیا بڑے بھرپور طریقے سے اس خطرے کا اظہار کررہا ہے کہ شام اور عراق میں ناکامی کے بعد داعش یورپ میں بڑے پیمانے پر خود کش حملے کرسکتی ہے۔ دراصل داعش کو بنیاد بناکر مشرق وسطیٰ میں جنگ کرنا امریکہ کی سامراجی پالیسی کا ایک حصہ ہے، جو وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے رکھتا ہے۔ اس سامراجی ایجنڈے کا سب سے بڑا حصہ یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے ذخائر پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ اس خطے کو اپنے حصار میں رکھا جائے۔ دہشت گرد اور سامراج دونوں ایک ہی سکے کے دو مکروہ چہرے ہیں، کیونکہ کبھی سامراج دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتاہے اور کبھی دہشت گردی سامراج کو ختم کرنے کے نام پر کی جاتی ہے۔ انسانیت کو دہشت گردی سے بھی نجات اسی وقت ملے گی جب سامراجی سوچ کا خاتمہ ہوگا اور سامراجی سوچ کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سامراجی ممالک کے حکمران طبقات کی ہوس ختم نہیں ہوتی۔

مزید : کالم