انتخابات :بند گلی سے نکلنے کا راستہ۔۔۔!

انتخابات :بند گلی سے نکلنے کا راستہ۔۔۔!
 انتخابات :بند گلی سے نکلنے کا راستہ۔۔۔!

  

پاناما کیس میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ نے محفوظ کر لیا ہے، پورا مُلک ایک عجب قسم کے انتظار اور انتشار میں مبتلا ہے، دو باتیں عمومی طور پر زیر بحث ہیں۔ کیا عدالتِ عظمیٰ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے گی یا معاملہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا جائے گا؟۔۔۔اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی ایک صورت رونما ہوتی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُلک میں سیاسی بحران جاری رہے گا۔فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آیا تب بھی اور اُن کی حمایت میں آیا تب بھی،کیونکہ سیاسی کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئی ایک دوسرے کو قبول کرنے کا روا دار ہی نہیں ہے۔ عدالت میں قانونی جنگ تو لڑی جا چکی ہے،مگر جو سیاسی جنگ ہے اُس کے ختم ہونے کا دور دور تک امکان دکھائی نہیں دیتا۔سو ایسے میں مُلک کے اندر ٹھہراؤ کیسے آئے گا،بے یقینی کیسے ختم ہو گی اور سب سے اہم بات یہ کہ عوام کے مسائل کیونکر حل ہو سکیں گے؟۔۔۔وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی ٹیم نے بروقت فیصلے نہیں کئے، ساری ذمہ داری قانونی ٹیم پر ڈال دی گئی۔ قانونی ٹیم نے دو جمع دو چار کرنا ہوتا ہے، اُس کے پاس دلیل نہ ہو، ثبوت نہ ہو اور اپنے موقف کی تائید میں شواہد نہ مل سکیں تو ہار اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔ سب سے بڑی حقیقت سچ ہوتا ہے، اگر سچ کو چھپانا مقصود ہو تو بہت پاپٹر بیلنے پڑتے ہیں۔ سو پاناما کیس کے آغاز سے لے کر فیصلہ محفوظ ہونے تک یہی پاپڑ بیلے جاتے رہے۔ظاہرہے اُن کا نتیجہ یہی نکلنا تھا جو نکلا،لیکن اصل کام تو سیاسی ٹیم کو کرنا چاہئے تھا، جو بدقسمتی سے نہیں کیا گیا۔ سیاسی ٹیم کا سب سے بڑا بلنڈر یہ تھا کہ وہ پاناما کیس پر ٹی او آر نہ بنوا سکی۔معاملے کو اِس حد تک بگاڑ دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں چلا گیا۔مجھے یقین ہے کہ اگر پارلیمینٹ کے اندر مشترکہ ٹی او آر بن جاتے اور ایک پارلیمانی کمیٹی اُن کا جائزہ لیتی تو اتنا بڑا پنڈورا بکس نہ کھلتا،جتنا بڑا سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کھلا۔

سب دیکھ رہے تھے کہ حکومتی کیمپ معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے مزید تیل ڈال رہا ہے۔ نجانے کس نے یہ حکمتِ عملی ڈیزائن کی تھی کہ سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ جے آئی ٹی کو بھی سخت پیغامات دینے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ پاناما کیس اتنا بڑا تھا نہیں، جتنا خود حکومت نے اسے بنا دیا، یعنی اپوزیشن جو چاہتی تھی، وہ حکومت نے خود ہی کر دیا۔ جب یہ کیس بہت ہائی لائٹ ہو گیا، تب عدلیہ کے پاس بھی اسے مزید زیر التوا رکھنے کی گنجائش نہ رہی۔پھر بھی اسے سوا سال تک گھسیٹا جاتا رہا۔اِس دوران حکومت نے کوئی سیاسی حل نکالنے کی ایک بار بھی کوشش نہیں کی۔ پی ٹی آئی کو انتخابی اصلاحات، احتساب بل، فاٹا کی خود مختار حیثیت، خیبر پختونخوا کے لئے بجلی کے منصوبوں اور دیگر ترقیاتی اہداف میں مدد دینے کے معاملات پر قریب لایا جا سکتا تھا،مگر اس کی بجائے محاذ آرائی کو فروغ دیا گیا، جس کا فائدہ ہمیشہ اپوزیشن کو ہوتا ہے، سیانوں نے تو بہت پہلے کہہ دیا ہے کہ شیشے کے گھر میں رہ کر دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں،لیکن یہاں اس عمل کو باقاعدہ حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا گیا اور عمران خان کے خلاف مختلف کیس کرنے کی راہ اختیار کی گئی، جس سے معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف چلا گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ حکومت تخت یا تختہ کی صورتِ حال میں پھنس گئی ہے۔ قانونی جنگ ہارنے کی صورت میں مسلم لیگ(ن) نے اپنی حکمتِ عملی تیار کر لی ہو گی، جس کا بنیادای نکتہ یہی ہو گا کہ عوام کے دِلوں میں اپنے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کئے جائیں۔وزیراعظم نواز شریف پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ وہ عوام کی جے آئی ٹی کے پاس جائیں گے، جو حقیقی انصاف کرتی ہے۔ایک سیاست دان کے لئے سب سے اہم بات یہی ہوتی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط رکھے۔شاید یہی وجہ بھی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے شدید دباؤ کے باوجود استعفا نہیں دیا۔ گویا وہ فیصلے کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونے کو سیاسی لحاظ سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد اُن کا عوام کے پاس جانا ایک ایسے رہنما کے طور پر ہو گا جو عوامی مینڈیٹ کے باوجود عدالتی فیصلے سے نکالا گیا۔

سیاسی لحاظ سے یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے معاملات کو اس سطح تک آنے ہی کیوں دیا؟ خطرے کو وقت سے پہلے کیوں نہیں بھانپا اور جن دِنوں پاناما کا عفریت سر اٹھا رہا تھا، اُسے سیاسی طور پر اُسی وقت کچلنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ آج پیپلزپارٹی بڑھ چڑھ کر عدالتی کارروائی کا کریڈٹ لے رہی ہے،حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک وہ عمران خان پر تنقید کرتی تھی کہ وہ پاناما کے معاملے کو سپریم کورٹ میں کیوں لے گئے ہیں۔یاد رہے کہ ٹی او آر کا معاملہ بھی پیپلزپارٹی ہی نے خراب کیا تھا۔ ایک منصوبے کے تحت ٹی او آر پر اتفاق رائے کیوں نہ ہونے دیا اور تحریک انصاف کو اِس حوالے سے چکمہ دینے کی کوشش کی جاتی رہی۔ آصف علی زرداری اُن دِنوں اپنی مہارت دکھا رہے تھے۔ وہ میاں صاحب سے اپنا وعدہ نبھانے کے لئے ٹی او آر کے معاملے کو طول دینا چاہتے تھے۔اُن کا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ سرد پڑ جائے گا۔ اُن کی یہی خوش فہمی حکومت کے لئے نقصان کا باعث بنی۔ اگر ٹی او آر پر معاہدہ ہو جاتا تو آج مسلم لیگ(ن) کے پاس قانونی طور پر بھی کئی آپشنز موجود ہوتے ، مگر اس مسئلے پر سیاسی آپشن کو کسی مرحلے پر بھی استعمال نہیں کیا گیا اور اسے قانونی طور پر لڑنے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی،جس کا فائدہ اپوزیشن کو ہوا اور اتنا زیادہ فائدہ ہوا کہ پیپلزپارٹی بھی اپنے اصولی موقف کو چھوڑ کر عدالتی جنگ کا کریڈٹ لینے پہنچ گئی۔

اب سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟۔۔۔ فیصلے کے بعد بھی سیاسی انتشار برقرار رہے گا۔ اگر نیب کو بھی ریفرنس گیا تب بھی اپوزیشن اس بنیاد پر استعفے کا مطالبہ جاری رکھے گی،عمران خان جلسے کریں گے، بلاول بھٹو زرداری بھی ریلیاں نکالیں گے، سراج الحق مجمعے لگائیں گے، غرض ہلچل تو پھر بھی مچی رہے گی۔ اس ہلچل کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ الیکشن کا سال بھی شروع ہو چکا ہے۔ نواز شریف کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کریں، مثلاً وہ قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں۔ اس سے جمہوریت پر منڈلاتے ہوئے سائے بھی ختم ہو جائیں گے اور نواز شریف کو آزادی کے ساتھ کھلے میدان میں اپنا سیاسی دفاع کرنے کا موقع بھی ملے گا۔۔۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلیت کی صورت میں مسلم لیگ(ن) کو کوئی دوسرا وزیراعظم لا کر اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہئے،مجھے اس میں مسلم لیگ(ن) کے لئے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نواز شریف سارے سیاسی نظام سے دور ہو کر بیٹھے رہیں گے۔ وہ حکومت سے باہر آ کر سیاسی طور پر زیادہ طاقتور ہو جائیں گے،بشرطیکہ نئے انتخابات کا بگل بجا کر عوام کے پاس جائیں۔یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکی، پاکستان میں تویہ معمول رہا ہے اور دُنیا میں تو ہے کہ وقت سے پہلے بھی انتخابات ہو جاتے ہیں، اس لئے اب بھی وقت ہے کہ عدالتی فیصلے کی بجائے سیاسی فیصلے کو اہمیت دی جائے۔ اگر مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اِس مرحلے پر بھی ساری بصیرت کا استعمال نہ کیا تو ڈر ہے کہ وہ عدالتی کے ساتھ ساتھ کہیں سیاسی جنگ بھی نہ ہار جائے۔

مزید : کالم