شریف فیملی کے پاس منی ٹریل 92 ء میں تھی نہ آج ہے : طاہر القادری

شریف فیملی کے پاس منی ٹریل 92 ء میں تھی نہ آج ہے : طاہر القادری

لاہور ( آن لائن) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے سپریم کورٹ کے عملدرآمد بنچ کے فیصلے کا انتظار کیا جا ئے ۔ بادی النظر میں وزیر اعظم اور انکے بچے منی ٹریل نہیں دے سکے ۔کرپٹ وزیر اعظم بچ گیا تو بڑی بربادی ہو گی۔حکومتی ترجمانوں نے عدالتی معاملہ پر غیر مہذب زبان استعمال کی ۔دیکھتے ہیں محفوظ فیصلہ آنے پر کون غیر محفوظ ہوتا ہے ۔امید ہے اس بار جعلساز قانون کی گر فت سے نہیں بچیں گے۔جے آئی ٹی نے اپنے حصے کا کام جرات مندی سے کیا۔ عدلیہ کا فیصلہ نہ ماننے کی دھمکی پر وزیر اعظم کی کڑی گرفت کی جائے ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے یتیموں کی سسکیاں قاتلوں کا پیچھا کرتی رہیں گی۔وہ گزشتہ روز عوامی تحریک کے زونل صدور کے اجلاس سے ٹیلیفون پر خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی کرپشن کے کیس 25 سال پرانے ہیں کارروائی اب ہو رہی ہے،ان کے پاس ناجائز اثاثوں کی منی ٹریل نہ 1992میں تھی اور نہ آج ہے۔یہ قانون قدرت ہے فرعونوں کو طاقت اور وسائل دے کر انکی رسی ڈھیلی چھوڑ دی جاتی ہے اور پھر متعینہ وقت پر کھینچ لی جاتی ہے۔پانامہ کیس میں یہ نا اہل ہوں یا جیل جائیں یہ سزا انکے اصل جرائم سے بہت کم ہے ۔اللہ نے پکڑا ہے عبرتناک سزا کا فیصلہ بھی وہیں سے آئے گا۔تاریخ ظلم کرنیوالے ظالموں کے ذکر سے بھری ہوئی ہے ۔وقت کے فرعونوں کو بچانے والے بھی عبرتناک انجام سے دوچار ہونگے۔ انہوں نے ہر ادارہ کرپٹ کیا،ہر ایک کی بولی لگائی،آج انکی اپنی جگہ جگہ خاک اڑ رہی ہے یہ مکافات عمل ہے ۔

طاہر القادری

مزید : صفحہ آخر