ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کے شائع دو سو سے زائد سائنسی جریدے منسوخ کر دئیے

ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کے شائع دو سو سے زائد سائنسی جریدے منسوخ کر دئیے

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) سائنسی جریدوں میں جعلی تحقیقی مقالہ جات شائع کئے جانے کا انکشاف ،ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری ونجی یونیورسٹیزکی جانب سے شائع ہونے والے دو سو سے زائد سائنسی جریدوں کو منسوخ کر دیا۔ایچ ای سی نے اساتذہ اور ریسرچ سکالرز کو مذکورہ جرنلز میں اپنے تحقیقی مقالے بھیجنے اور اشاعت سے بھی روک دیا ۔ایچ ای سی کے مطابق صرف ڈبلیو کیٹیگری کے امپیکٹ فیکٹر کے حامل جرنلز کو اشاعت کی اجازت ہو گی ۔ صرف ڈبلیو کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز میں شائع شدہ آرٹیکلز کو ہی قابل قبول سمجھا جائے گا۔ ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ہیں تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے مختلف یونیورسٹیز سے شائع ہونے والے دو سو سے زائد سائنس ریسرچ جرنلز کو منسوخ کر دیئے ہیں ۔ ایچ ای سی ذرائع کے مطابق قواعد و ضوابط اور معیار پر پورا نہ اْترنے اور نجی و سرکاری یونیورسٹیز کے اساتذہ کی طرف سے جعلی تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت کے باعث ان سائنسی جریدوں کو منسوخ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس سیل نے جریدوں کو ناقص معیار کی بنیاد پر منسوخ کیا ہے ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے دسیتاب ریکارڈ کے مطابق انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے دو جریدے جن میں پاکستان جرنل آف ہائیڈروکاربن ریسرچ اور پاکستان جرنل آف انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اینڈ سائنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایگری کلچر سائنسز کے چار جریدے جن میں جرنل آف ایگریکلچر ریسرچ، انٹرنیشنل جرنل آف ایگریکلچر اینڈ اپلائیڈ سائنسز، پاکستان جرنل آف اینٹومولوج، پاکستان جرنل آف فزیو پتھالوجی کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔نیچرل سائنسز کے پانچ جریدوں کو منسوخ کیا گیا، ان میں پاکستان جرنل آف سٹیٹسٹکس، جرنل آف سٹیٹسٹکس، پاکستان جغرافیکل ریویو، پاکستان جرنل آف سٹیٹسٹکس اینڈ آپریشن ریسرچ، پاکستان جرنل آف بائیوٹیکنالوجی اور جرنل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اسی طرح ہیلتھ سے متعلق ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیز سے شائع ہونے والے انتہائی کم معیار کے جن ریسرچ جرنلز کو بھی منسوخ کیا گیا ہے ان میں پاکستان جرنل آف پتھالوجی، میڈیکل فورم منتلھی، جرنل آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز، پاکستان اورل اینڈ ڈینٹل جرنل، جرنل آف یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، گومل جرنل آف میڈیکل سائنسز، پاکستان جرنل آف نیورولوجیکل سرجری، انٹنیشنل جرنل آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز، جرنل آف فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور، انفیکشیئس ڈیزیز جرنل آف پاکستان اور پاکستان جرنل آف فارماکولوجی شامل ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ان سائنسی جریدوں میں جعلی تحقیقی مقالہ جات شائع کیے جاتے ہیں جن کا بین الاقوامی اور ملکی سطح پرکوئی فائدہ نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ترجمان نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ ای سی نے 30جون کے بعدایکس ، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جبکہ ڈ بلیو کیٹیگری کے امپیکٹ فیکٹر کے حامل جرنلز کو اشاعت کی اجازت دی ہے اور اگر یونیورسٹیز اپنے جرنلز کے معیار کو ڈبلیو کیٹیگری میں شامل کریں تو ان کو دوبارہ سے اشاعت کی اجازت دے دی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر