پراپرٹی کے نئے ٹیکس کی ایف بی آر لسٹ نہ بن سکی،20دن سے رجسٹریوں کا کام ٹھپ، پنجاب حکومت کو کروڑوں کا نقصان

پراپرٹی کے نئے ٹیکس کی ایف بی آر لسٹ نہ بن سکی،20دن سے رجسٹریوں کا کام ٹھپ، ...

لاہور(عامر بٹ سے)پراپرٹی پر نئے ٹیکسوں کے حوالے سے ایف بی آر لسٹ 20دن سے مرتب نہ کی جاسکی ،یکم جولائی 2017سے لاہور کی تمام رجسٹریشن برانچیں بند ، 20دن سے رجسٹریاں اور فیسیں وصول نہ کرنے کے باعث رجسٹریوں کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ، پنجاب حکومت کو کروڑوں کا نقصان ، حکومت نے نت نئے ٹیکس لگا کر پراپرٹی کے کاروبار کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے شہری روزنامہ پاکستا ن سروے کے دوران پھٹ پڑے،روزنامہ پاکستان کو دوران سروے شہری فیصل خان،حاجی شہباز،امجد علی،محمد آصف نے بتایا کہ موجودہ مالی سال 2017میں حکومت نے پراپرٹی پر نئے ٹیکس ایڈوانس ٹیکس،گین ٹیکس،ودہولڈنگ ٹیکس کے ساتھ کورڈ ایریا پر ملبہ ٹیکس میں بھی اضافہ کرکے اس کاروبار کو تباہ کرنے اور غریب انسان کے لئے اپنا گھر بنانے کے خواب پر پانی پھیر دیا ہے،ٹھنڈے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ڈی سی ریٹ لسٹ مرتب کرنے والے افسران ایف بی آر لسٹ کو مرتب کرنا بھول گئے ہیں ،یکم جولائی کو نئے ٹیکس کے نفاذ کے بعد آج 20دن ہو چکے ہیں کہ ابھی تک ایف بی آر لسٹ ہی مرتب نہ کی جاسکی ہے ،ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ بجٹ میں تمام ہوم ورک مکمل ہونے کے باوجود اس تاخیر کی وجہ کیا ہے اور اس تاخیر سے حکومت پنجاب کو کروڑوں کے ریونیو سے محروم ہونا پڑا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ،پچھلے20سے ہم خوشحالی کی طرح بے صبری سے ایف بی آر لسٹ کا انتظار کررہے ہیں لیکن ہر روز افسران بالا ایک نئی کہانی سنا کر ہمیں ٹرخا دیتے ہیں ،شہری محمد عثمان ،علی مرزا ،چوہدری سجاول اور عمر گوندل نے کہا کہ پچھلے 20روز سے لاہور کی تمام رجسٹریشن برانچیں عملی طور پر بند ہیں ،نہ تو رجسٹریاں وصول کی جارہی ہیں اور نہ فیسیں وصول کی جارہی ہیں ،رجسٹریشن برانچوں میں اس وقت ہو کا عالم ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک ایف بی آر ریٹ لسٹ ہی جاری نہ کی جاسکی ہے، ہمیں یہ بتایا جائے کہ اگر پراپرٹی ٹیکسوں میں اضافہ کرکے اس کام سے وابستہ افراد کو حکومت نے بے روزگار کرنے کا پروگرام بنا ہی لیا ہے تو اس طرح ذلیل کرکے بیروز گار نہ کیا جائے ،کم از کم ایف بی آر لسٹ جاری کر دی جائے تا کہ لوگ ٹیکسوں کو ادا کرکے ہی اس کاروبار سے دور ہونے کا سوچ لیں ،بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران اور ایڈیشنل کلکٹرجنرل کے نوٹس میں تمام صورتحال ہونے کے باوجود ابھی تک ہمیں کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا جارہا ہے کہ ایف بی آر لسٹ کب مرتب کی جائے گی ،اس وقت سینکڑوں وکلاء صاحبان اور شہری ہاتھوں میں رجسٹریاں پکڑے روزنامہ کی بنیاد پر سارا دن ذلیل ہو کر اگلے دن واپس آنے کے لئے چلے جاتے ہیں ،ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایف بی آر لسٹ کو مرتب کرکے رجسٹریوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ذہنی اذیت سے نجات ۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر جنرل نے اس حوالے سے بتایا کہ ایک یا دو دن میں نئی مرتب کردہ ایف بی آر لسٹ مل جائے گی ، تکینکی وجوہات کی بناء پر اس طرح کی تاخیر ہوتی ہے جس میں جان بوجھ کر کسی کی کوتاہی نہ ہے۔

مزید : صفحہ آخر