پانا ما کیس کا فیصلہ محفوظ،گارنٹی دیتے ہیں وزیر اعظم کی نا اہلی پر غور کیاجائیگا:سپریم کورٹ

پانا ما کیس کا فیصلہ محفوظ،گارنٹی دیتے ہیں وزیر اعظم کی نا اہلی پر غور ...

اسلام آباد(اے این این،آن لائن ) سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرزکے مقدمے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کی حتمی رپورٹ پر پانچ روزتک روزانہ کی بنیادپرسماعت کے بعدفیصلہ محفوظ کرلیاجس کی تاریخ کااعلان بعدمیں کیاجائے گا، آخری سماعت میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے بھی جواب الجواب دیے گئے، عدالت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم 10 کو بھی کھولتے ہوئے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو مخصوص دستاویز پڑھنے کو دیدیں، دوران سماعت مختلف مواقع پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو گارنٹی دیتے ہیں کہ وزیراعظم کی نااہلی کا جائزہ لینگے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، وزیرخزانہ کے وکیل اپنے موکل کا 34 سالہ سربمہر ریکارڈ عدالت میں پیش کیا ۔جمعہ کو جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پرمشتمل تین رکنی بنچ نے پانامہ پیپرزکے مقدمے میں جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر سماعت آغازکیاتو وزیراعظم کے بچوں حسن، حسین اور مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ہوئی تھی، عدالت کے ریمارکس تھے کہ بادی النظرمیں یہ جعلسازی کا کیس ہے اور اسی حوالے سے میں نے کل کہا تھا کہ اس کی وضاحت ہوگی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دستخط کیسے مختلف ہیں جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کل کہا کہ غلطی سے یہ صفحات لگ گئے تھے، یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی جو اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی، کسی بھی صورت میں جعلی دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی اور ماہرین نے غلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دوسرا معاملہ چھٹی کے روز نوٹری تصدیق کا ہے، لندن میں بہت سے سولیسٹر ہفتہ بلکہ اتوار کو بھی کھلتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز سے پوچھا گیا کہ چھٹی کے روز ملاقات ہوسکتی ہے، تو انہوں نے کہا تھا کہ چھٹی کے روز اپائنٹمنٹ نہیں ہوسکتی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عام سوال کیا جائے تو جواب مختلف ہوگا، مخصوص سوال نہیں کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا دستاویزات میں متعلقہ نوٹری پبلک کی تفصیل ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حسین نواز کا اکثر سولیسٹر سے رابطہ رہتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حسین نواز نے نہیں کہا کہ ان کا رابطہ سولیسٹر سے رہتا ہے، ان دستاویزات پر کسی کے دستخط بھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز عدالت کو برٹش ورجن آئی لینڈز (بی وی آئی)کا 16 جون کا خط موصول ہوا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ 23 جون کو جے آئی ٹی نے خط لکھا، جواب میں اٹارنی جنرل بی وی آئی نے خط لکھا۔ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے کہ کیا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ریفرنس نیب کو بھجوا دیا جائے، جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا جواب ہے کہ کیس مزید تحقیقات کا ہے، خطوط کو بطور شواہد پیش کیا جا سکتا ہے لیکن تسلیم نہیں کیا جا سکتا جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ کل پوچھا تھا کہ کیا سابق قطری وزیراعظم شواہد دینے کے لیے تیار ہے، جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ روز عدالت نے کہا تھا کہ سابق قطری وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا، میں نے تمام قطری خطوط کا جائزہ لیا اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آج سلمان اکرم راجہ نے اچھی تیاری کی۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 بھی منگوا لیا، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ 10ویں جلد میں جے آئی ٹی کے خطوط کی تفصیل ہوگی اور اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی جس کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ کا سربمہر والیم 10 عدالت میں پیش کردیا گیا اور اس کی سیل عدالت میں کھول دی گئی، عدالت نے والیم 10 کا جائزہ بھی لیا جب کہ جسٹس عظمت سعید نے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ والیم آپ کی درخواست پر کھولا جارہا ہے۔عدالت نے خواجہ حارث کو والیم 10کی مخصوص دستاویز پڑھنے کو دے دی تاہم عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ابھی والیم 10کسی کو نہیں دکھائیں گے۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے بعد وفاقی وزیرخزانہ کے وکیل طارق حسن نے دلائل شروع کیے اور اسحق ڈار کا 34 سالہ سربمہر ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ دلائل کے آغاز میں طارق حسن نے کہا کہ عدالت میں دو جواب داخل کرائے ہیں اور عدالتی تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اتنا بڑا ڈبہ لانے کا مقصد میڈیا کو دکھانا ہے؟ یہ ڈبہ اب سارا دن ٹی وی کی زینت بنے گا جس پر طارق حسن نے جواب دیا سنا ہے جے آئی ٹی نے بھی ایسے ہی ڈبے پیش کیے، جے آئی ٹی کے ڈبوں سے میرا ڈبا چھوٹا ہے ،جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آپ کا موقف ہے کہ جے آئی ٹی اور عدالت حدیبیہ پیپر ملز کا کیس نہیں کھول سکتی، آپ حدیبیہ کیس کے مرکزی گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ پر الزام آرہا ہے کہ آپ کے اثاثے اچانک بڑھ گئے جس پر طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے تمام الزامات غلط اور بدنیتی پر مبنی ہیں، میرے موکل نے تمام ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں آپ کے موکل دبئی کے شیخ النہان کے ایڈوائزر تھے؟ جس پر طارق حسن نے جواب دیا کہ انھوں نے اسحق ڈار کو 82 ملین پاؤنڈ تنخواہ دی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اپائنٹمنٹ لیٹر میں ٹرم آف سروس کا ریکارڈ کیوں نہیں لگایا؟ طارق حسن نے جواب دیا کہ یو اے ای کا کیا طریقہ ہے مجھے معلوم نہیں، کوشش کروں گا کو عدالت کو طریقہ کار سے آگاہ کروں۔ انہوں نے کہا کہ میرے موکل صرف سیاستدان نہیں بلکہ پروفیشنل ہیں، ان کی ایک عزت ہے اور وہ ملک کے اہم عہدے پر فائز ہیں۔ طارق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے جس عرصے کے ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے کا الزام لگایا اس وقت اسحق ڈار ملک سے باہر اور نان ریزیڈنٹ تھے، لہذا اس عرصہ میں ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ضروری نہیں تھا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم نے نوٹ کرلیا ہے، آپ کے دلائل پر غور کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی اسحق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل مکمل کرلیے۔ اسحق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب کے وکیل چوہدری اکبر تارڑ نے دلائل دیے اور عدالت عظمی کو بتایا کہ نیب نے حدیبیہ کیس کھولنے کا فیصلہ کر لیا اور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آپ نے سوچ لیا تو یہ سوچ تحریری شکل میں کب آئے گی جس پر وکیل نیب نے جواب دیا کہ ایک ہفتے میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی نیب کے وکیل چوہدری اکبر تارڑ کے دلائل مکمل ہوگئے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق کا موقف ہے کہ عدالت نے 5 ماہ کیس سنا اور ہر فریق کو مناسب موقع دیا گیا، جبکہ تحقیقات میں نیا ریکارڈ بھی سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز عدالت پر لازم نہیں، مجھے یقین ہے کہ عدالت فریقین کے حقوق کا خیال رکھے گی جس پر عدالت عظمی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو آج ہی اپنا تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے گی۔ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف زیڈ ای کمپنی کو وزیراعظم نے ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اس کا چیئرمین ہونا اور تنخواہ وصولی ظاہر کی گئی جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنخواہ نہیں لی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ تنخواہ لینے اور نہ لینے کے اثرات علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کسی پبلک آفس ہولڈر کی ملازمت کرنے پر پابندی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین میں وزیراعظم کی کسی دوسری ملازمت کے بارے کچھ نہیں ہے تاہم نعیم بخاری کا موقف تھا کہ پبلک آفس ہولڈر کی ملازمت مفادات کا ٹکرا ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آئین میں پابندی ججز کی دوسری ملازمت کے لیے ہے کسی دوسرے آفس ہولڈر کے لیے نہیں ۔ نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی مل کی فروخت سے لندن فلیٹس کی خریداری کا بتایا، گلف سٹیل ملز کی فروخت کے بارے میں بھی غلط بیانی کی گئی جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ یہ حقیقت ہے کہ اگر اثاثے ظاہر نہ کیے گئے تو بددیانتی کہلائے گی، سوال یہ ہے کہ یہ ہمارا دائرہ اختیار ہوگا یا الیکشن کمیشن کا۔ انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کیا جو چیزیں درخواست میں نہیں ہمیں ان پر جانا چاہیے؟ جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تمام معاملات کی جانچ کا کہا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ نئی چیزیں کیس میں شامل کر کے فریقین کو سرپرائز دیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اس بار ثبوت شریف خاندان پر ہے۔ نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیملی سیٹلمنٹ کے وقت لندن کے فلیٹس زیر بحث نہیں آئے جو 1993 سے ان کے زیر استعمال تھے، قطری خطوط نکال دیں تو 96-1993 تک لندن فلیٹس نواز شریف کی ملکیت بنتے ہیں، جبکہ ٹرسٹ ڈیڈز بھی جعلی ثابت ہوگئیں۔ نعیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ بہتر تھا کہ نواز شریف کہہ دیتے کہ لندن فلیٹس ان کے والد میاں شریف نے خریدے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ قطری سپریڈ شیٹ تو نہ ادھر کی ہے، نہ ادھر کی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ مریم نواز کو بینفیشل مالک تسلیم کر بھی لیں تو زیر کفالت کا معاملہ آئے گا، جبکہ مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کے واضح شواہد نہیں ملے۔ اس موقع پر بنچ نے جے آئی ٹی کے کام کو بھی سراہا اور کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی بساط سے بڑھ کر جن حالات میں کام کیا وہ قابل تحسین ہے۔ نعیم بخاری کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ صادق اور امین گلوبل تصور ہوتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ لاہور میں صادق اور اسلام آباد میں کرپٹ ہوں۔ شیخ رشید نے کہا کہ جس کی طرف دیکھو بے نامی دار ہیں، شریف فیملی پاناما سے اقامہ تک پہنچ گئی جبکہ وزیراعظم نے تو دبئی والوں کو بھی چونا لگایا ۔انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے سامنے بھی جعلی دستاویزات دیے جائیں تو کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت منی ٹریل مانگ مانگ کر تھک گئی، یہاں تک کہا گیا کہ منی ٹریل لا ؤکلین چٹ دیدیں گیں۔ شیخ رشید کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات کے بعد تمام شکوک و شبہات دور ہو چکے ہیں، جبکہ دو ججز پہلے ہی نااہلی کا فیصلہ دے چکے ہیں۔ عدالت عظمی نے توفیق آصف کو ہدایت کی کہ اپنے نکات تحریری طور پر دے دیں۔ جماعت اسلامی کے وکیل کی بات کے اختتام کے ساتھ ہی تمام فریقین کے دلائل مکمل ہوگئے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔دوران سماعت مختلف مواقع پرریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کو گارنٹی دیتے ہیں کہ وزیراعظم کی نااہلی کا جائزہ لینگے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فیصلہ محفوظ کرلیا،اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے جو پراسرار ثبوت سپیکر قومی اسمبلی کو دیے وہ ہمیں کیوں نہیں دیئے؟وزیراعظم نے ہمارے اثاثے میں اپنے آپ کو بھی شامل کیا تھا؟ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لہروں کے خلاف بھی تیرنا پڑا تو تیریں گے، مدعاعلیہان کے بنیادی حقوق کا خیال ہے،آئین اور قانون سے باہر نہیں جائیں گے ۔

مزید : صفحہ اول