عوام کو ریلیف کیلئے بنائی جانیوالی مصالحتی اورپبلک سیفٹی کمیٹیاں کاغذی کارروائیوں تک محدود

عوام کو ریلیف کیلئے بنائی جانیوالی مصالحتی اورپبلک سیفٹی کمیٹیاں کاغذی ...

لا ہو ر (رپورٹ: یو نس با ٹھ) پنجا ب بھرمیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے دو سا ل قبل بنا ئی جا نیوالی مصالحتی اور پبلک سیفٹی کمیٹیا ں کا غذی کاروائیوں تک محدود‘ امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اشتہاریوں، مفروروں اور غنڈہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لا نے کے لیے بیٹ سیفٹی کمیٹیز تشکیل دی گئیں جن میں معززین علاقہ کے علاوہ محکمہ مال، ایکسائز، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نمائندے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی شامل کیے گئے۔پنجا ب بھر میں 95ہزار افراد کی درخواستیں مصالحتی اور سیفٹی کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں جن میں سے صرف 17ہزار کو وہ سن سکے البتہ لا ہور میں ان کمیٹیو ں کی مدد سے سی سی پی او آفس میں متعدد سیل تشکیل دیے گئے جنہو ں نے 7ہزار سے زائدسائیلین کے معاملا ت کو پو لیس کی مدد سے حل کیا۔ وا ضح رہے سا بق آئی جی پو لیس پنجا ب مشتا ق احمد سکھیرا نے پنجا ب بھر میں پو لیس کی مدد سے مصالحتی اور سیفٹی کمیٹیا ں بنوائی تھیں جن کا مقصد عوا می نما ئندو ں کی مدد سے شہریو ں کی مدد کر نا تھا اور پنچایتی طور پر ان کے مسا ئل کا حل نکالنا تھا۔ پو لیس کے اعلی افسرا ن کو جو تجا ویز بھجوئی گئیں وہ کچھ یو ں تھیں کہ پبلک سیفٹی کمیٹی کے ممبران اور منتخب عوامی نمائندوں کی تجاویز اور شکایات سنتے ہوئے تھا نو ں کے ایس ایچ اوز ،بیٹ انچارج اور محرر صاحبان فور ی طور پر ان کی شکا یا ت کا ازالہ کر یں اور انھیں وارننگ دیں کہ اگر اپنے مسائل کے حل یا کسی بھی سلسلے میں تھانے آنے والے شریف شہریوں کے ساتھ بدکلامی یا بدسلوکی کی شکایت موصول ہوئی تو پھر وہ خود کو پولیس فورس میں رہنے کا حقدار نہ سمجھے۔افسران کو بتا یا گیا کہ اپنے گھر آنے والوں سے کیا کوئی بے عزتی سے پیش آتا ہے؟ اور اگر آپ کسی کے گھر جائیں تو اس سے اس قسم کی زبان کی توقع کرتے ہیں جیسی آپ شہریوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ۔ ہمارا کام عام آدمی کے مسائل کا حل اور جرائم کا خاتمہ ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں شریف شہریوں کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھنا ہو گا پنجا ب بھر میں کیونکہ یہی وہ معاشرے کے ناسور ہیں جو شہریوں کے جان و مال کے دشمن اور امن خراب کرنے والے ہیں لہذا ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے شہریوں کو پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف ان کی ا خلاقی بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے کمیٹیو ں میں معززین علاقہ کے علاوہ محکمہ مال، ایکسائز، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نمائندے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی شامل کیے گے تا کہ پولیس پبلک پارٹنر شپ کے تحت نہ صرف سنگین جرائم بلکہ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری اور قحبہ خانوں جیسی دیگر معاشرتی برائیوں کا بھی قلع قمع کیا جا سکے جبکہ بیٹ سیفٹی کمیٹی کے ممبران کو شہر سے جرائم کے خاتمے کے لیے پو لیس کامعاون بنا یا گیا ۔پو لیس زرائع کے مطا بق پنجا ب بھر میں 95ہزار افراد کی درخواستیں مصالحتی اور سیفٹی کمیٹیوں کو تھا نو ں اور پو لیس افسران کی جا نب سے بھجوائی گئیں جن میں سے صرف 17ہزار کو وہ سن سکے اور انکی شکایا ت کا ازالہ کیا گیا جبکہ با قی ما ندہ درخواستو ں پر نہ تو پو لیس نے مقد ما ت درج کیے اور نہ ہی ان کی شکایت دور کی گئی، البتہ لا ہور میں ان کمیٹیو ں کی مدد سے سی سی پی او آفس میں متعدد سیل تشکیل دیے گئے جنہو ں نے 7ہزار سے زائدسائیلین کے معاملا ت کو پو لیس کی مدد سے حل کروایا ہے ۔ سی سی پی او لا ہور کیپٹن ریٹائر ڈ امین وینس کا ان کمیٹیوں کے با ر ے میں کہنا ہے کہ انھوں نے ان کی مدد سے شہر یو ں کے ہزارو ں کی تعداد میں مسا ئل حل کیے ہیں ۔

پبلک سیفٹی کمیٹیا ں

مزید : صفحہ اول