چودھری نثار علی کے بارے میں نئی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا

چودھری نثار علی کے بارے میں نئی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اتوار کو پریس کانفرنس میں کوئی اہم فیصلہ کرنے والے ہیں پہلے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ ان کی پریس کانفرنس جمعرات کو ہوگی لیکن شاید کمر کی تکلیف آڑے آگئی چونکہ قیاس آرائیوں کا موسم ہے اس لئے ہر قسم کی ’’پتنگ بازی‘‘ ہورہی ہے ۔ یار لوگوں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے چودھری نثار علی خان کے حوالے سے بھی افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ملا کر ایک ملغویہ تیار کرلیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ وہ وزارت داخلہ سے استعفا دینے والے ہیں، حالانکہ وہ اس کی تردید کرچکے۔ حکومت کے ساتھ ان کے اختلافات کی تاریخ تو کوئی نہیں وہ اپنی منفرد سوچ و فکر کی بناء پر اپنوں اور پرائیوں کی نکتہ چینی کی زد میں رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ان کے استعفے کا باقاعدہ مطالبہ کررکھا ہے وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے بعض رہنما کرپشن کے الزامات میں زیر تفتیش ہیں جس کا ملبہ چودھری نثار پر ڈالا جاتا ہے ان کی وزارت کے ماتحت اداروں کی بعض کارروائیاں بھی مخالفوں کو ہضم نہیں ہوتیں اس سب پر مستزاد چودھری نثار علی کی صاف گوئی ہے وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ایان علی کے حوالے سے کھری کھری سناتے رہے تو جواب میں انہیں کڑوی کسیلی سننی پڑیں، اب تو پاناما کیس کی وجہ سے چودھری نثار پر نظر کرم ذرا کم ہوگئی ہے ورنہ پیپلز پارٹی نے انہیں ہر وقت اپنے نشانے پر رکھا ہوا تھا۔ جب چودھری نثار علی کے استعفے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مطالبے پر توجہ نہ دی گئی تو پارٹی نے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ شدت سے اٹھانا شروع کردیا اب خورشید شاہ اٹھتے بیٹھتے نواز شریف کو استعفے کا مشورہ دینا نہیں بھولتے، ان کا یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے استعفا نہ بھی دیا تو نا اہل تو وہ ہو ہی جائیں گے اسلئے بہتر ہے خود ہی استعفا دے دیں، خورشید شاہ یہ باتیں وزیراعظم کی ہمدردی میں کہہ رہے ہیں ان کا خیال یہ بھی ہے کہ نواز شریف کو تو نا اہل ہونا ہے عمران خان کو بھی ایسا ہی صدمہ پہنچنے والا ہے اس لئے ان دونوں کے بعد ویران گلیوں میں مرزا یار کا راج ہوگا۔ غالباً اسی لئے پیپلز پارٹی نے ’’گو نواز گو‘‘ ریلیوں کا پروگرام بنایا ہے، جو اگست کے پورے مہینے میں جاری رہیں گی، اب بندہ پوچھے کہ اگر نواز شریف نا اہل ہو ہی رہے ہیں تو پھر ریلیوں کا پروگرام کس لئے؟۔ اس سے تو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو اندر سے یقین ہے کہ ابھی یہ حکومت نہیں جانے والی کیونکہ اگر یہ یقین ہوتا تو پھر ریلیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ جو حکومت خود ہی جارہی ہو اسے بھیجنے کے لئے شدید گرمی کے اس موسم میں ریلیوں کا پروگرام بنانا کوئی دانش مندی نہیں۔ پھر پیپلز پارٹی بار بار کہہ رہی ہے کہ وہ صرف وزیراعظم نواز شریف کا استعفا چاہتی ہے نئے الیکشن کی خواہاں نہیں، نہ ہی قومی اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ کرتی ہے۔ خورشید شاہ یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) میں سے کسی بھی دوسرے رکنِ اسمبلی کو وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں اگر ایسا ہے تو کیا ریلیوں کا پروگرام نئے وزیراعظم کے خلاف ہے، نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کا پیپلز پارٹی کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس کے لیڈروں کے خلاف کرپشن کے جو کیس سامنے آرہے تھے ان کا سلسلہ رک گیا اور تو اور ڈاکٹر عاصم بھی وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے پائے گئے ہیں۔ ان حالات میں اگر چودھری نثار علی خان مسلم لیگ ن سے اپنے راستے جدا کرتے ہیں تو یہ پیپلز پارٹی کے لئے مقام مسرت ہوگا کہ وہ اپنے تمام تر دباؤ کے باوجود جو مطالبہ نہ منوا سکی حالات کے جبر نے چودھری نثار علی سے وہی فیصلہ کرا دیا۔ وزیر داخلہ کیا فیصلے کرتے ہیں اس کے لئے ان کی پریس کانفرنس کا انتظار کرنا ہوگا، حکومتی امور میں چودھری نثار علی خان اپنا ایک الگ موقف رکھتے ہیں جو ضروری نہیں صحیح بھی ہو تاہم وہ اپنے اس موقف کو درست تسلیم کرتے ہیں اور پارٹی کے اندر بعض رہنماؤں کے خوشامدانہ رویوں سے بھی خوش نہیں، البتہ جب وہ طویل عرصے کے لئے پارٹی کے اہم اجلاسوں سے غائب رہتے ہیں یا کسی ناراضی کی وجہ سے دانستہ طور پر ان میں نہیں آتے تو ان کے بارے میں قیاس کے گھوڑے دوڑانے شروع کردیئے جاتے ہیں، اس وقت تقریباً ایسی ہی صورت حال ہے۔

2014ء کے دھرنے میں بھی چودھری نثار علی خان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے تھے لیکن بطور وزیر داخلہ انہوں نے دھرنے سے بطریق احسن نپٹنے کا فیصلہ کیا وہ عمران خان کے کلاس فیلو رہے ہیں اس لئے ان کے اقدامات کے بارے میں بدگمانیاں بھی پھیلائی جاتی رہیں تاہم انہوں نے ان کی پروا نہیں کی جب عمران خان نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کا پروگرام بنایا تھا تو اسے ناکام بنانے کا سہرا بھی چودھری نثار علی خان کے سر بندھتا ہے جنہوں نے پولیس اور رینجرز کے ذریعے ایک صوبائی حکومت کی پوری طاقت کے سامنے بند باندھ دیا اور یہ ’’چڑھائی‘‘ بری طرح ناکام ہوگئی، پرویز خٹک کو اس معاملے میں اتنی خفت اٹھانا پڑی جسے مٹانے کیلئے انہوں نے اعلان کردیا کہ وہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے خلاف مقدمہ کریں گے لیکن اس کی نوبت کبھی نہیں آئی، اب پرویز خٹک ان دنوں کا تذکرہ بھی نہیں کرتے جب وہ اپنی حکومت کی پوری قوت کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور ہوگئے تھے اور ان کی تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود یہ وینچر ناکام ہوگیا تھا۔ چودھر نثار علی کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔

مزید : تجزیہ