پی آئی سی کی عدالتی کیسوں کو نمٹانے کے عمل میں تیزی کیلئے ایڈوکیٹ جنرلسے رابطہ کی ہدایت

پی آئی سی کی عدالتی کیسوں کو نمٹانے کے عمل میں تیزی کیلئے ایڈوکیٹ جنرلسے ...

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سرکاری محکموں کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی کیسوں کو نمٹانے کے عمل میں تیزی لانے کیلئے ایڈووکیٹ جنرل سے رابطہ کیا جائے تاکہ عدالت میں کیسوں کی پیروی کی بناء پر موخر آڈٹ اعتراضات کو جلد از جلد نمٹایا جاسکے کمیٹی نے مذکورہ امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ محکموں کے خلاف آڈٹ پیروں کو عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث موخر کرنا پڑتا ہے اور یہ عمل سالوں سال جاری رہنے کی وجہ سے پی اے سی کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے جس سے مزید پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بروز جمعہ رکن اسمبلی قربان علی خان کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ہاؤس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا اجلاس میں اراکین اسمبلی محمود جان خان‘ ارباب وسیم حیات‘ مفتی سید جانان‘ محمد ادریس خٹک‘ سیکرٹری اسمبلی امان اللہ‘ سیکرٹری محکمہ خوراک عصمت اللہ خان اور ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی امجد علی خان کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام اور اہلکار بھی موجود تھے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ خوراک سے 2013-14 ء سے متعلق 2ارب 97کروڑ 10لاکھ روپے کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ گندم کو اٹھانے سے قاصر رہنے پر صوبائی سرکاری خزانے کو 6کروڑ 76لاکھ کے نقصان کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ خوراک سے تفصیلات طلب کی گئیں محکمہ فوڈ نے کمیٹی پر واضح کیا کہ مذکورہ رقم صرف 29لاکھ روپے بنتی ہے جسے آڈٹ نے کافی زیادہ ظاہر کیا ہے حکام نے کہا کہ محکمہ ہذا کا پنجاب محکمہ سے رابطہ ہوچکا ہے اور وہ بقایا جات دینے پر آمادہ ہیں اور یہ رقم 2016-17ء میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی جس پر پی اے سی نے اپنے تحفظات و عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعداد وشمار میں صرف اور دیگر امور کی مزید جانچھ پرکھ کیلئے معاملہ رکن اسمبلی مفتی جانان کی سربراہی میں تشکیل شدہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کیا جو کہ مذکورہ آڈٹ اعتراض پر ایک ماہ میں فیصلہ کر کے رپورٹ پی اے سی کمیٹی کو پیش کریگی اجلاس میں 65000میٹرک ٹن گندم کی خریداری میں 5کروڑ 97 لاکھ19 ہزار کے انکم ٹیکس کی عدم وصولی پر بحث کرتے ہوئے محکمہ نے بتایا کہ زمیندار و کاشتکار سے گندم کی خریداری پر انکم ٹیکس کی وصولی نہیں کی جاتی جبکہ ڈیلروں سے خریدی پر انکم ٹیکس لیا جاتا ہے لہٰذا محکمہ نے مذکورہ گندم زمیندار و کاشتکاروں سے لی ہے لہٰذا آڈٹ پیرا نمٹایا جائے اس موقع پر پی اے سی کمیٹی نے محکمے کا موقف درست تسلیم کرتے ہوئے پیرا نمٹادیا۔ اجلاس میں گندم اور پٹ سن کے بیگز کی کمی کی بناء پر ایک کروڑ 39لاکھ روپے کے آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ کے حکام نے واضح کیا کہ مذکورہ معاملے پر انکوائری ہوچکی ہے عدالت نے ذمہ دار کو 2سال قید جوکہ مذکورہ شخص گزار چکا ہے 22-23 سو بیگز کی قیمت وصولی کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں جبکہ محکمہ بیگز کی تعداد سے متفق نہیں اور 3ہزار 4سو 43بیگز (3443) کی قیمت کی وصولی چاہتا ہے اور عدالت میں کیس داخل کرچکا ہے اور معاملہ اس بناء پر جوں کا توں ہے اس پر کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ نہ صرف مذکورہ محکمہ بلکہ تمام سرکاری محکموں کے حکام عدالتی کیسوں کی جلد شنوائی کیلئے ایڈووکیٹ جنرل سے رابطہ کر کے ایسے کیسوں کی کارروائی میں تیزی لانے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاکہ آڈٹ اعتراضات بھی جلد نمٹائے جاسکیں۔اجلاس میں ایک لاکھ 47 ہزارروپے پٹ سن بیگز کی عدم استعمال اور ایک لاکھ '47ہزار روپے گندم کی فروخت کے رقم خزانے میں جمع نہ کرنے پر آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی وباغور جائزہ لیتے ہوئے محکمہ نے بتایا کہ اس وقت ان بیگز کو نیشنل اکاؤنٹی بیلٹی بیورو (نیب) کے ڈی آئی خان میں اپنے قبضے میں لئے رکھا تھا اور اس ضمن میں چھان بین جاری تھی جس کی بناء پر مذکورہ بیگز کا استعمال ممکن نہ تھا اور ابھی یہ معاملہ صوبائی انسپکشن ٹیم کے پاس ہے جبکہ گندم کی فروخت کی رقم خزانے میں جمع نہ کرنے والے ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے اور اسے نوکری سے برخاست کیا جاچکا ہے لیکن متذکرہ ملزم دوبارہ کورٹ میں اپیل کرچکا ہے اور کیس عدالت میں ہے جس پر کمیٹی نے آڈٹ اعتراض کو عدالتی فیصلے تک بحال رکھنے کا حکم دیا جبکہ باقی آڈٹ اعتراضات پر محکمانہ جوابات سے مطمئن ہوکر پیروں کو ختم کردیا اور پچھلے آڈٹ اعتراضات کے فالو آپ کو بھی نمٹا دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر