شہریوں کی جانب سے بنائے گئے ہیڈ ورکس سے پانی کی تقسیم روکنے کیخلاف درخواست پر چیف آفیسر انہار کو 6 ماہ میں فیصلہ کرنیکا حکم

شہریوں کی جانب سے بنائے گئے ہیڈ ورکس سے پانی کی تقسیم روکنے کیخلاف درخواست پر ...

ملتان (نمائندہ خصوصی )ہائیکورٹ ملتان بینچ نے شہریوں کی جانب سے بنائے گئے ہیڈورکس سے پا نی کی تقسیم روکنے کے خلاف(بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

درخواست پرچیف آفیسرمحکمہ انہارکوفریقین کو سماعت کرکے 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کاحکم دیاہے۔فاضل عدالت میں راجن پورکے محمدنوازاوردیگرشہریوں نے درخواست دائر کی تھی کہ دریائے سندھ سے نکلنے والاپانی قدرتی بہاؤ کے تحت 17 سال سے کوٹلہ مغلاں سے گذرتاہے جس کی وجہ ڈیڈھ لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہوتاہے اوریہ پانی 40 کلومیٹر کا چکرکاٹ کرواپس دریائے سندھ میں گذرتاہے اوراس قدرتی نعمت کی وجہ سے سینکڑوں کاشتکارآبپاشی کے لئے پانی حاصل کرکے اپنی فصلوں کوسیراب کرنے کے ساتھ ہزاروں افرادپرمشتمل اپنے خاندانوں کے پیٹ پال رہے ہیں بعدازاں حکومت پنجاب کی جانب سے 13 سال قبل اس قدرتی نہر کوکنٹرول میں لینے کافیصلہ کیاگیالیکن آج تک تخمینہ لگانے کی کارروائی ہی مکمل نہیں کی جاسکی ہے تاہم لوگوں نے اس پانی کاضیاع روکنے اوردرست استعما ل کے لئے اپنی مددآپ کے تحت پہاڑپورکے مقام پر اپنا ہیڈ ورکس قائم کیاجس کی قدرتی تقسیم سے 37 مواضعات سیراب ہورہے ہیں لیکن محکمہ انہاراس ہیڈورکس پر بلاوجہ اپناکنڑول ظاہرکرکے پانی کی تقسیم کوروکنے کے درپے ہے جس سے روکنے کا حکم دیاجائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر