فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 157

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 157
فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 157

  

ہوا یہ کہ نخشب صاحب اپنی اس فلم میں نامور موسیقار نوشاد علی صاحب سے موسیقی بنوانا چاہتے تھے۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق، محدود پیمانے پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے معذرت کی تو نخشب صاحب نے اسے توہین جانا اور وقار کا سوال بنالیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اصل چیز تو بول ہوتے ہیں۔ موسیقار سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اپنا یہ دعویٰ درست ثابت کرنے کیلئے انہوں نے ایک نئے موسیقار کو متعارف کرایا۔ شوکت علی طبلہ نواز تھے موسیقی میں کافی دسترس رکتھے تھے۔ خوش الحان بھی تھے۔ نخشب صاحب کی نظر ان پر پڑی اور انہوں نے شوکت علی کو ’’ناشاد‘‘ بنادیا۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو ناشاد اور نوشاد کے باریک سے فرق کو زیادہ محسوس نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ فلم کی موسیقی بہت اچھی اور دلکش تھی۔ ناشادصاحب طرز بنانے میں ماہر تھے۔ لہٰذا فلم کے سارے گانے ہٹ ہوگئے۔ اس طرح ایک نئے موسیقار نے جنم لیا۔ ناشاد صاحب نے بمبئی میں نخشب صاحب کی فلموں میں بھی موسیقی دی اور دوسری فلموں میں بھی یہ فرائض سرانجام دیے جن میں ’’بارہ دری‘‘ قابلِ ذکر ہے۔ قسمت مہربان تھی۔ گانے ہٹ ہونے لگے تو ناشاد صاحب بھی بطور موسیقار ہٹ ہوگئے۔

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 156 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نخشب صاحب نے بمبئی میں آخری فلم ’’زندگی یا طوفان‘‘ بنائی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار کے طور پر بھی ان ہی کا نام تھا لیکن جتنے منہ اتنی زبانیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ درحقیقت ہدیات کار اور کوئی تھا۔ بہر حال، یہ فلم بہت پسند کی گئی اور اسی زمانے میں نخشب صاحب اپنے گھوڑے وغیرہ فروخت کرکے پاکستان چلے آئے۔ وہ مجلسی آدمی تھے اور اس لیے وسیع مراسم رکھتے تھے۔ پاکستان میں اس وقت وزیرِ خزانہ ان کے دوست اور مداح تھے۔ بیوروکریسی میں اور بھی باثر دوست موجود تھے۔ چنانچہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی کے باوجود نخشب صاحب کی فلم یہاں درآمد کرلی گئی۔فلمی صنعت والوں نے بہت شور مچایا۔ فلم سازوں اور تقسیم کاروں نے بھی احتجاج کیا۔ مگر جسے پیا چاہے وہی سہاگن کہلائے۔ نخشب صاحب کی بااثر حلقوں تک رسائی تھی اور پاکستان میں یہی ہر مشکل کی کنجی ہے۔ ان کی فلم بڑی دھوم دھام سے پاکستان میں ریلیز ہوئی اور اس نے یہاں بھارت سے بھی زیادہ کامیابی حاصل کی۔ بس پھر کیا تھا، نخشب صاحب کے دن پھر گئے۔ شہرت اور پیسے کے معاملے میں وہ ہمیشہ خوش نصیب رہے۔ لیکن پاکستان آنے کے بعد تو ایسے بھاگ لگے کہ سارے دلدر دور ہوگئے۔ پیسے کی ریل پیل ہوگئی۔ نخشب صاحب کیلئے نہ کبھی پیسہ کمانا کوئی مسئلہ تھا، نہ خرچ کرنا۔ جس طرح آتا تھا، اسی طرح دونوں ہاتھوں سے لٹاتے تھے۔ نادرہ کے بعد انہوں نے جنم جنم کیلئے کنوارا رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ راجا اندر کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ اچھا کھانا، اچھا پہننا، اچھی طرح رہنا۔ اچھے لوگوں میں وقت گزارنا، یہی نخشب صاحب کا معمول بن گیا تھا۔

پاکستان میں آنے کے بعد جب پیسہ بھی آگیا تو سب سے پہلے تو انہوں نے ریس کی طرف توجہ دی۔ قیمتی گھوڑے خریدے اور ریس کے حلقوں میں مقبول ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری کی طرف توجہ دی۔ یہاں آکر انہوں نے پہلی فلم ’’فانوس‘‘ بنانے کا اعلان کیا اور حسبِ عادت یہ بھی کہا کہ یہاں نہ کوئی ہدایت کار ہے، نہ رائٹر۔ کسی کو فلم بنانی نہیں آتی۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ فلم کیسے بنائی جاتی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی گویا انہوں نے مقامی فلمی صنعت کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ بڑبولا پن تو ایک طرح کی بیماری ہے اور اسے گنبد کی آواز کہا جاتا ہے یعنی کہنے والا جو بھی کہتا ہے اس کی گونج دیر تک باقی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ باتیں بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرنے لگی تھیں اور وہ بھی ان کے خلاف باتیں بنانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ مگر نخشب صاحب کو کچھ پروا نہیں تھی۔ دوستوں کے وہ بہت اچھے دوست تھے مگر دشمنوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ دنیا ان کے بارے میں خواہ کچھ بھی کہتی رہے انہوں نے کبھی کان دھرے نہیں سنا۔ وہ تو اپنی ہی آواز سننے کے شوقین تھے۔

فلم ’’فانوس‘‘ کا شان دار سیٹ شاہ نور اسٹوڈیو میں تعمیر ہوا تو نخشب صاحب نے فرمایا کہ پاکستان والوں کو کیا پتا کہ سیٹ کیسے لگاتے ہیں اور اسے آراستہ کیسے کرتے ہیں۔ اس سیٹ کیلئے انہوں نے خاص طور پر فانوس بنایا۔ قیمتی صوفے، قالین اور پردے حاصل کئے اور ساتھ ہی اعلان کردیا کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی سیٹ پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ کسی کو بھلا کیا پڑی تھی کہ ان کے سیٹ پر جاتا۔ مگر نخشب صاحب نے سیٹ کے باہر دو بندوق برادرمحافظ تعینات کردیے۔ اس سے پہلے کسی فلم کے سیٹ کی حفاظت کیلئے مسلح گارڈ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔

نخشب صاحب نے اس فلم میں سلمان پیرزادہ کو ہیرو منتخب کیا۔ ہیروئن کے طور پر وہ شمیم آرا کو لینا چاہتے تھے مگر ان کی جہاں دیدہ نانی کو نخشب صاحب کی بدزبانی اور خود پسندی کا علم تھا اس لیے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے معذرت کردی۔ انہوں نے اس فلم کیلئے کومل کو ہیروئن منتخب کرلیا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ خود ہی کومل کو اپنی فلم کی ہیروئن منتخب کیا تھا مگر بھری محفل میں خود ہی ان پر ہوٹنگ بھی کرتے رہتے تھے۔ دراصل اپنی بڑائی اور دوسروں کی توہین کرنا نخشب صاحب کا شیوہ تھا اور یہ ایسی بری عادت تھی جو ان کی فطرت بن چکی تھی۔ اسی وجہ سے وہ خدا واسطے کے دشمن اور مخالفت پیدا کرلیتے تھے۔

’’فانوس‘‘ کے بارے میں نخشب صاحب کا کہنا تھا کہ یہ زبردست ہٹ فلم ہوگی اور اسے تو پولیس ہی سنیما سے اتارے گی۔ مگر یہ فلم بری طرح فلاپ ہوگئی۔

نخشب صاحب نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ ناکامی کی تمام تر ذمے داری انہوں نے ہیرو اور ہیروئن پر ڈال دی اور دوسری فلم ’’میخانہ‘‘ کا آغاز کردیا۔

اس زمانے میں ریڈیو سیلون ایک مقبول و معروف ذریعہ، تشہیر تھا اور عموماً بھارتی فلموں کی موسیقی نشر کرنے کیلئے مخصوص تھا۔ نخشب صاحب نے پہلی بار اپنی فلم ’’میخانہ‘‘ کی پبلسٹی ریڈیو سیلون سے پیش کی اور فلم کے نغمے ہندوستان اور پاکستان میں گونجنے لگے۔ اس فلم کی موسیقی بہت اچھی تھی۔ مگر فلم فلاپ ہوگئی۔ فلم کی بے انتہا پبلسٹی بھی اس کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اس لیے کہ لوگوں نے اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی تھیں۔

’’میخانہ‘‘ فلاپ ہوجانے کے بعد نخشب صاحب نے فلم بنانے کا خیال ہی ترک کردیا۔ یہ تو ایک طرح سے ان کا شوق اور مشغلہ تھا۔ ذریعہ معاش کیلئے وہ اس کے محتاج نہیں تھے۔ بطور ہدایت کار اور کہانی نویس پاکستان میں انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ گیت نگار وہ بہت اعلیٰ درجے کے تھے مگر کسی پاکستانی فلم ساز نے ان کو گیت نگاری کی دعوت دینے کا خطرہ مول نہیں لیا۔ نخشب صاحب نے اس بارے میں کبھی خواہش کا اظہار تک نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کے سبھی فلمی شاعروں، ہدایت کاروں اور موسیقاروں کوخود سے کمتر سمجھتے تھے تو پھر یہاں کی فلم میں گیت نگاری کیسے کرتے۔

۔۔۔۔ مگر قدرت بھی انسانوں کو سبق سکھاتی رہتی ہے۔ پاکستان میں ان کے پاس دولت، شہرت، اثر و رسوخ سبھی کچھ تھا مگر اوپر تلے دو فلموں کے فلاپ ہوجانے کی وجہ سے ان کی شیخیوں میں خودبخود کمی آگئی تھی۔ اس کے بعد تو وہ قریب قریب گمنام ہی ہوکر رہ گئے اور اپنے قریبی دوستوں تک محدود ہوگئے تھے۔ جب ایک روز اچانک ان کی وفات کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو حیرت ہوئی۔ چونکہ اس سے پہلے ان کی علالت کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی تھی۔ نئی نسل کے لوگ تو اس وقت تک انہیں بھول ہی چکے تھے۔ آج بھی نخشب جارچوی کا نام سن کر نئی پود کے لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں ہے کہ اس شخص نے محض اپنی ذاتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کتنا نام اور کیسا مقام پیدا کیا تھا اور کتنی بھرپور زندگی گزاری تھی۔ موت ہی خاکی انسان کا انجام ہے۔ وہ صاحب اولاد نہیں تھے اس لئے اس کا نام چلانے والا بھی کوئی باقی نہیں ہے۔ بھائی بہن اور دوسرے رشتے داروں کا ویسے ہی کبھی نام نہیں سنا۔ اس طرح نخشب جارچوی شہرت کی چار دن کی چاندنی میں دھومیں مچانے کے بعد ہمیشہ کیلئے موت کی تاریک وادی میں گم ہوگئے۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں انہوں نے کسی سے بناکر نہیں رکھی تھی جو انہیں یاد کرتا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ