جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 37

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 37
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 37

  

صبح میری آنکھ کھلی تو بچے ناشتہ کرکے سکول کے لیے تیار کھڑے تھے۔ میں نے جلدی سے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور گاڑی کی چابی لے کر باہر آگیا۔

’’آپ بچوں کو سکول چھوڑ آئیں میں جب تک ناشتہ تیار کرتی ہوں‘‘ صائمہ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔

’’ٹھیک ہے سرکار! جو آپ کا حکم سیدھا سادہ بندہ ہوں‘‘ میں نے مسکین سی صورت بنائی۔

’’بالکل جلیبی کی طرح سیدھے‘‘ وہ ہنسی۔

مجھے حیرت اس بات پرتھی کہ رادھا مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی؟ اگر وہ مجھ سے ناراض ہوتی تو میری مدد نہ کرتی۔ اس کا نہ آنا میری سمجھ سے باہر تھا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 36  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کیا وہ مجھ سے مایوس ہو کر مجھے چھوڑ چکی ہے؟‘‘ لاشعوری طور پر میں اس کا عادی ہو چکا تھا۔ کافی دیر تک اس دھیڑ بن میں مصروف رہا پھر سر جھٹک کر خیالات سے چھٹکارا حاصل کیا اور بچوں کو سکول چھوڑ کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں ایک سٹال پر رک کر میں نے اخبار خریدا اور یونہی کھڑے کھڑے سرخیوں پر نظر ڈالی۔ فرنٹ پیج پر نظر پڑتے ہی میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ خبر بڑی واضح تصاویر کے ساتھ موجود تھی۔ واقعے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔ اور کیوں نہ کیا جاتا مرنے والا یہاں کے معروف زمیندار اور ایم این اے کا اکلوتا بیٹا تھا۔ خبر کچھ یوں تھی۔

معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور قومی اسمبلی کے ممبر فیاض گھمن کا اکلوتا بیٹا نواز گھمن 5 دوستوں سمیت پراسرار طور پر قتل۔

’’(کرائم رپورٹر) معروف زمیندار اور قومی اسمبلی کے ممبر چوہدری فیاض گھمن کا اکلوتا بیٹا چوہدری نواز گھمن کل شام اپنے چار دوستوں کے ساتھ دریا کے کنارے واقع پارک میں پکنک منانے گیا۔ جہاں اسے اس کے دوستوں سمیت بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کے علاوہ پارک کے ایک مالی کی لاش بھی اس حالت میں ملی ہے کہ اس کا نرخرہ ادھڑا ہوا تھا۔ لاشوں کے چہرے اور جسم پر جا بجا نوکیلے پنجوں کے نشانات ملے ہیں۔ واردات میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مقتولین کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔ ان کے جسم جا بجا گوشت سے محروم تھے جیسے کسی درندے نے ان چاروں کو بے دردی سے ادھیڑ کر ان کے جسم کا سارا خون پی لیا ہو۔ جب اس سلسلے میں ماہرین جنگلی حیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا اس علاقے میں خون آشام درندوں کا وجود ہی نہیں ہے۔ مقتولین کے ادھڑے ہوئے جسم پارک کے ایک گوشے میں پڑے ملے۔ لاشوں کو سب سے پہلے پارک کے چوکیدار نے دریافت کیا جو اپنی شبینہ ڈیوٹی پر تھا۔ لاشیں دیکھ کر وہ حواس باختہ ہوگیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔ پارک انتظامی نے جب اس کی چیخیں سنیں اور وہاں پہنچے تو واردات کے بارے میں معلوم ہوا۔ پولیس سرگرمی سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارک کی کچی زمین پر جانوروں کے پنجوں کے واضح نشانات بھی ملے ہیں جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ کھوجی ماہرین کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں جو اس بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہر میں ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ نامعلوم مدت کے لئے پارک بند کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی درندے کو دیکھتے تو فوراً مندرجہ ذیل نمبروں پر اطلاع دے۔‘‘

’’چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ کس نے اتنی بے دردی سے ان گریبوں(غریبوں) کی ہتھیا کر دی ہے؟‘‘ میرے کان کے پاس رادھا کی آواز آئی۔ میں بری طرف اچھل پڑا ۔ پہلی بار رادھا کی آواز مجھے کسی پبلک پلیس پر سنائی دی تھی۔ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی اخبار کے سٹال پر کھڑے اس خبر کو پڑھ رہے تھے۔ دو تین افراد میرے ہاتھ میں موجود اخبار پر نظریں گاڑھے بالکل میرے ساتھ جڑ کرکھڑے تھے۔۔

’’پریتم! میری آواج تمرے بن کوئی نہیں سن سکتا۔‘‘ رادھا کی آواز دوبارہ آئی میں نے اخبار تہہ کرکرکے بغل میں دبایا اور گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔

’’لیکن اس دن تو تمہاری آواز صائمہ نے بھی سنی تھی‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔

’’پرنتو تمرے سپتر اور سپتری میری آواج نہ سن پائے تھے‘‘ اس نے دلیل دی۔

’’کیوں چنتا کرتے ہو جب میں کہہ رہی ہوں میر اچھا کے بنا کوئی میری آواج سن سکتا ہے اور نہ مجھے دیکھ پاتا ہے تو تمہیں میری بات پر وشواس کرنا چاہئے‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔

’’اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاؤ اس مالی کو کیوں مارا گیا جبکہ وہ بے قصور تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔

’’نردوش۔۔۔؟ وہ پاپی تو سب سے جیادہ نردئی تھا۔ وہی تو تھا جو ان پاپیوں کو وہاں مدھ(شراب) پینے اور ناریوں سنگ بلات کار کرنے کا اوسر دیتا تھا۔ تم نہیں جانتے وہ کتنا پلید تھا۔ پرنتو اس کی مرتیو کا کارن یہ نہیں اس نے تمہیں ان پاپیوں سنگ جھگڑا کرتے دیکھ لیا تھا۔ یدی وہ جیوت رہتا تو ساری بات پولیس کو بتا دیتا پھر جانتے ہو کیا ہوتا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

اس کی بات سن کر میں لرز گیا۔ میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ کوئی ہمیں جھگڑا کرتے دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت سارا پارک خالی تھا۔ میرے سینے سے طمانیت بھری سانس خارج ہوئی۔

’’میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں کہ تم نے اس برے وقت میں میری مدد کی۔ اگر تم نہ آتیں تو نہ جانے وہ بے غیرت ہمارا کیا حشر کرتے؟‘‘ میں نے رادھا کا شکریہ ادا کیا۔

’’کیسی گیروں(غیروں) جیسی باتیں کرنے لگے ہو موہن!‘‘ جب وہ سنجیدہ ہوتی تو مجھے موہن کہہ کر مخاطب کرتی۔’’کوئی میرے موہن کو کشٹ دے اور میں اسے نرکھ میں نہ پہنچاؤں‘‘ اس کی آواز میں اپنائیت تھی۔

’’اسی لئے تو میں تمہارا شکریہ ادا کر رہا ہوں‘‘ میں نے گاڑی سٹارٹ کرکے روانہ ہوا اور وہاں سے ذرا دور ایک ویران سی جگہ پر اسے روک دیا۔

’’رادھا۔۔۔!‘‘ میں نے اسے آواز دی۔

’’ہوں۔۔۔!‘‘

’’تم مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔

’’نہیں پریتم! یہ وچار تمرے من میں کیسے آیا؟‘‘ اس کی حیرت میں ڈوبی آواز آئی۔

’’تم رات کو مجھ سے ملنے جو نہیں آتیں‘‘ میں نے دل کی بات کہہ دی۔

’’کیا تم میرا انتجار کرتے ہو؟‘‘ اس کی آواز میں بے یقینی کے ساتھ خوشی کا تاثر بھی تھا۔

’’تم کئی راتوں سے نہیں آئیں تو میں نے سوچا کہیں تم مجھ سے ناراض نہ ہو‘‘ میں نے کہا۔

’’ہائے رام میں کتنی بھاگیہ شالی ہوں تم میری راہ تکتے ہو۔ مجھے تو وشواس ہی نہیں ہو رہا۔‘‘ اس کی خوشی سے بھرپور آواز آئی۔’’پریتم ! تم نہیں جانتے تمری اس بات سے میری بیاکل آتما کو کتنی شانتی مل ہے۔ ہے بھگوان۔۔۔! یہ میں کیا سن رہی ہوں۔‘‘ اس پر جیسے شادی مرگ کی کیفیت طاری تھی۔

’’اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ گاڑی میں اس کی ٹھنڈی آہ بھرنے کی آواز آئی۔

’’کیا بات ہے کیوں آہیں بھر رہی ہو؟‘‘

’’جب سے تمہیں دیکھا ہے میں روج بھگوان سے پرارتھنا کرتی ہوں وہ مجھے بھی منش بنا دے تاکہ میں تم سے مل سکوں ہر پل تمرے سنگ رہ سکوں جتنا سمے تم سے دور بتاتی ہوں جانو نرکھ میں ہوتی ہوں‘‘ اس نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ مجھ میں ایسی کیا بات ہے جو یہ نادیدہ مخلوق جس کے بار میں میں ابھی کچھ بھی نہ جانتا تھا مجھے اتنا چاہنے لگی ہے۔ یہی بات میرے ہونٹوں پر آگئی۔

’’رادھا۔۔۔!‘‘ میں نے اسے پکارا۔

’’پریم! کہو میں سن رہی ہوں‘‘ اس ی چاہت میں ڈوبی آواز میرے کان کے بالکل پاس ابھری۔

’’تم نے ایسا کیا دیکھا ہے جو مجھ سے اتنی محبت کرنے لگی ہو؟ اب سے کچھ عرصہ پہلے تو تم مجھے جانتی ہی نہ تھیں‘‘

’’بتا دوں۔۔۔؟‘‘ اس کی آواز میں شوخی تھی۔

’’اگر نہیں بتاؤ گی تو میرے دل میں خلش رہے گی۔‘‘ میں نے کہا۔

’’تم میرے موہن کا دوجا جنم ہو۔ میرا موہن تم جیسا سندر تھا مجھے اس سے ادھیک پریم تھا پرنتو۔۔۔میں نے تمہیں بتایا تھا نا تمرے دھرم کے ایک پاپی نے اسے بھسم کر دیا تھا۔ میرا جیون اس کے بنا ایسا تھا جیسے بنا آتما کے شریر۔ جب میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے وشواس ہی نہ آیا۔ پہلا وچار جو میرے من میں آیا وہ یہ تھا بھگوان نے میری پرارتھنا سویکار کرکے میرے موہن کو ایک بار پھر سنسار میں بھیج دیا ہے۔ میں ہر پل بھگوان سے ایک ہی پرارتھنا کرتی تھی میرا موہن مجھے لوٹا دے۔ اسی کارن مجھے یوں لگا جیسے موہن واپس آگیا ہے۔ تم سارے کے سارے موہن جیسے ہو۔ اسی جیسے سندر تمرے نین ، تمرا شریر۔۔۔سب کچھ ویسا ہے جیسا میرا موہن تھا۔ ‘‘ اس کی آواز بھر آئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔ ’’میری سکھیاں تو تم نے دیکھیں ہیں۔۔۔‘‘

’’وہ بلیاں جنہوں نے سادھو امر کمار کا گوشت کھایا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں وہی۔۔۔ساری نٹ کھٹ ہیں۔ ہر رینا وہ منشوں کو ستانے کے کارن کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہیں۔ وہ رینا تمہیں یاد ہوگی جب تم لاری میں جا رہے تھے۔ میری ایک سکھی جو بہت سندر ہیلا ری جلانے والے منش کی راہ میں کھڑی ہوگئی۔ اسے یوں لگا جیسے ایک کنیا لاری سے ٹکر کھا گئی ہے۔ وہ مورکھ بہت ڈر گیا اور لاری کو روک دیا۔ سارے منش لاری سے نیچے آگئے تم بھی۔۔۔‘‘

مجھے یاد آیا جب میں ملتان جا رہا تھا اور راستے میں ڈارئیور نے یکدم بریک لگا دی تھی۔ اس کا کہنا تھا ایک لڑکی سڑک کے بچوں بیچ کھڑی تھی جو بس کے نیچے آگئی۔

’’ہاں مجھے یاد ہے پھر کیا ہوا۔۔۔؟‘‘

’’تم بھی لاری سے نیچے اتر آئے تھے۔ میں اس سمے وہیں تھیں۔ میں نے جب تمہیں دیکھا مجھے وشواس ہی نہ آیا۔ میں تمرے پاس آئی اور تمہں دیکھتے ہی من میں دھیان آیا میرا موہن اس سنسار میں پھر سے آگیا ہے۔ تمرے بارے جانکاری کے کارن میں ہرپل تمرے سنگ رہنے لگی۔ پرنتو جب معلوم پڑا تم میرے موہن نہیں ہو۔۔۔میں نراش ہوگئی۔ من چاہا تمری ہتھیا کردوں یا آتم ہتھیا(خودکشی) کرلوں۔ پرنتو جب تمری سنتان کو دیکھا تو وہ مجھے بڑے بھلے لگے۔۔۔جیسے انہوں نے میری کوکھ سے جنم لیا ہو۔ میرے من نے کہا۔۔۔رادھا! جانے کتنے ورشوں بعد تمری آشا پوری ہوئی ہے یہ موہن نہ سہی موہن جیسا توہے اس کے بعد میں نے اپنے من میں ٹھان لی تھی یہاں میرے سنگ رہو گے۔ کیول اتنی سی بات ہے ۔ میں تمہیں اس استھان پر لے آئی پریم ! تم کھد یہاں نہیں آئے۔ میں تمہیں یہاں لائی ہوں۔ کیول مجھے اتنا کرنا پڑا کہ میں تمرے بڑے گرو(افسر) کے من میں یہ ڈال دیا کہ تمہیں یہاں بھیج دے۔ اس نے میری آگیا کا پالن کرتے ہوئے تمہیں اس استھان پر بھیج دیا۔ میں نے من میں ٹھان لی اب میں تمرے سنگ رہوں گی پرنتو میری سکھیاں میرے بنا نہ رہ پائیں انہوں نے کہا رادھا! تمرے بن ہمرا من نہیں لگتا تم۔۔۔اپنے پریمی کو یہاں لے آؤ۔ اسی کارن میں تمہیں یہاں لے آئی۔ نہیں تو اس سے پہلے جتنے منش بھی یہاں بسنے آئے میں نے ان کو ٹکنے نے دیا۔ جس نے میری اچھا کے انوسار اس استھان کو نہ چھوڑا اسے سنسار چھوڑنا پڑا۔ میں تم سے پریم کرتی رہی۔ یدی تمرا بوڑھا منتر اور تمری پتنی تمہیں مجھ سے دور نہ کرتے تو میں اسی طرح تمری پوجا کرتی رہتی۔ پرنتو جب ان پاپیوں نے تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہا تو میں۔۔۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ میں حیرت سے منہ کھولے اس کی باتیں سن رہا تھا۔

’’تو وہ سب کچھ تمہارا کیا دھرا تھا۔‘‘

’’ہاں پرتیم! میں ہی تمہیں یہاں لائی ہوں۔ میں تمرے بن رہنے کا وچار بھی من میں نہیں لا سکتی۔‘‘آج وہ اپنے بارے میں بتا رہی تھی۔ یہ ایک اچھا موقع تھا اس کے بارے میں جان لینے کا اس لئے میں نے فوراً پوچھا۔

’’رادھا تم نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دو گی تمہیں یاد ہے نا؟‘‘

’’ہاں میرے میت! سب یاد ہے پرنتو ابھی اس سے جیادہ(زیادہ) میں نہیں بتا سکتی۔ پھر تمہیں کاہے کی چنتا ہے؟ ردھا جو کچھ بھی ہے تمری داسی ہے کیا یہ کم ہے؟‘‘ اس نے اس بار بھی میرے سوال کا جواب نہ دیا بلکہ بڑے خوبصورت انداز میں بات کو ٹال گئی۔

’’اچھی بات ہے میں اس وقت کا انتظار کروں گی جب تم خود ہی سب کچھ بتا دو‘‘ گہری سانس لے کر میں نے کہا۔

’’اوہو۔۔۔اتنے نراش کس کارن ہو رہے ہو؟ بس تھوڑا سمے رہ گیا جب تمہیں میرے بارے مٰن سب جانکاری ہو جائے گی۔ پرنتو تمہیں وچن دینا ہوگا تم میرے بارے جان لینے پر بھی مجھ سے پریم کرتے رہو گے۔‘‘ اس کی شوخ آواز آئی۔

’’تمہارے دل می یہ خوش فہمی کس نے ڈالی ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔

’’اچھا جی۔۔۔یہ بات ہے تو کس کارن میرا انتجار کرتے ہو‘‘ وہ بھی شوخی سے بولی۔

’’تم سے ڈر بھی تو لگتا ہے تمیہں غصہ آجائے اور میں غریب مفت میں مارا جاؤں۔‘‘ آج اسے چھیڑنے میں مزہ آرہا تھا۔

’’سجنا!۔۔۔یدی تم تھوڑی دیر اور گھر نہ گئے تو تمری پتنی اوش تمہیں مار دے گی۔‘‘ آج رادھا حد سے زیادہ شوخی ہو رہی تھی۔

’’اوہ۔۔۔میرے خدا تمہارے ساتھ باتوں میں میں اس قدر محو ہوگیا کہ مجھے اس بات کا خیال ہی نہ رہا۔‘‘ میں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ رادھا کا قہقہہ گونج اٹھا۔ نہجانے اس کے حسن کا کرشمہ تھا یا پراسرارقوتوں کا میں آہستہ آہستہ اس کی طرف کھنچتا چلا جا رہا تھا۔ مجھے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ اس قدر طاقتور رادھا میرے ایک اشارے پر کچھ کرنے کو تیار ہے اور اس بات نے میرے دماغ میں فتور بھر دیا تھا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں )

مزید : رادھا