لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر19

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر19
لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر19

  

ایک دن صبح صبح میں نے دوکان کھولی ہی تھی کہ یہ وہاں آگئے اور کہنے لگے ۔ ’’قتیل صاحب مبارک ہو‘‘ میں نے کہا’’ کس بات کی ‘‘

کہنے لگے ’’مجھے ترقی مل گئی ہے ‘‘ اس وقت انہیں ڈپٹی اسسٹنٹ کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس کی ترقی ملی تھی۔ کہنے لگے ’’میں اس لباس میں بڑا افسر نظر آتا ہوں یا نہیں؟‘‘

میں نے کہا’’ عدم صاحب آپ کی اپنی حیثیت ہے ۔ آپ کو لوگ لباس سے تھوڑا ہی پہچانیں گے ‘‘

کہنے لگے ’’نہیں نہیں یہ پتلون بہت خراب ہے۔ آپ یوں کریں کہ میری پتلون آپ لے لیں اور اپنی پتلون مجھے دے دیں۔‘‘

میری پتلون بالکل نئی تھی جو میں نے بڑے شوق سے سلوائی تھی۔ اس لئے میں نے سمجھانا چاہا کہ عدم صاحب سائز کا بھی تو فرق ہے ۔کہنے لگے ’’کوئی فرق نہیں آپ پتلون اتار دیئے اور دے دیجئے ‘‘

میں نے ان کی پتلون پہنی تو بہت کھلی تھی۔ میں نے اسے تہمند کی گانٹھ دے کر گزارا کیا اور جب انہوں نے میری پتلون پہنی تو وہ انہیں اتنی تنگ تھی کہ انہیں اوپر کے تین بٹن کھلے چھوڑ نے پڑے ۔ ہم دونوں ہی عجیب مضحکہ خیز نظر آرہے تھے۔

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر18 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے پبلشرز

کسی لکھنے ولے کو اپنے آغاز ہی میں صاحب تصنیف بن جانے کا بڑا شوق ہوتا ہے جبکہ دیکھا جائے تو خاص پختگی کے زمانے میں ہی کوئی تصنیف لے کر میدان میں آنا چاہیے۔ لیکن بہر حال یہ ایک اضطر ابی کیفیت ہوتی تھی ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ ہر مبتدی سوچتا ہے کہ میں صاحب تصنیف بن جاؤں ۔ چنانچہ میں نے بھی سوچا کہ اب میری بھی ایک کتاب آجانی چاہیے۔ اس زمانے میں بہاولپور میں ایک ادارہ تھا جس کا نام عباسیہ اکیڈمی تھی۔ اس کے مالک حیات ترین تھے جو میرے دوست بن گئے۔ وہ بہت اچھے انسان تھے اور ایک رسالہ ’’ستلج‘‘ بھی نکالتے تھے۔ میں ستلج میں باقاعدگی سے چھپتا تھا چنانچہ انہوں نے جب عباسیہ اکیڈمی سے پبلشنگ کا پروگرام بنایا تو خود مجھ سے کہا کہ آپ اپنی کوئی تصنیف مجھے دے دیں۔ ذہن میں تو پہلے سے ہی تھا اس لئے میں نے ان سے کہا کہ گیتوں کا مجموعہ چھاپ دیجئے۔

دوسو روپے معاوضہ طے پایا۔ لیکن میں بہر حال وہ خوش نصیب تھا جسے اپنی پہلی تصنیف پر ہی کچھ معاوضہ ملا ۔ معاوضہ مجھے دے دیا گیا اور 1947 ء ہی میں مجموعہ چھپ گیا۔ اگر اسے میرے بچپن کے گیتوں کا مجموعہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ یہ مجموعہ ابھی تک چھپ رہا ہے اور اب اس کا آٹھواں ایڈیشن چھپنے والا ہے۔ اب اسے دیکھتا ہوں تو تھوڑی سی ہنسی بھی آتی ہے کہ میں نے کیا چیز چھپوادی لیکن اس عمر کے اعتبار سے وہ بہر حال اچھے گیت تھے۔

اس مجموعے کے اور لاہور آنے کے بعد مکتبہ جدید نے مجھ سے ایک مجموعے ’’جلترنگ ‘‘ کا معاہدہ کیا اور اس کے پانچ سو روپے طے پائے ۔ پھر نیا ادارہ نے میرا مجموعہ ’’گجر ‘‘ لیا اور اس کے بھی پانچ سو روپے طے پائے۔ اس کے بعد محمد طفیل صاحب نے مجموعہ ’’روزن ‘‘ لیا تو اس کے بھی پانچ سو روپے طے پائے یہ سب معاوضے یکمشت کے حساب سے چل رہے تھے۔

اس زمانے میں کسی مصنف کو معاوضہ مل جانا بڑی بات تھی۔ ایک مصنف اور ایک پبلشر کا واقعہ مشہور ہے کہ مصنف پبلشر کے پاس گیا اور کہنے لگا۔ یہ پیسے لیجئے اور معاہد منسوخ کر دیجئے۔ پبلشر نے کہا اچھا تو اور پیسے دوں اور پیسے دینے کی بجائے اسے تھپڑ دے مارا ۔ یہ کتنا افسوسناک واقعہ ہے۔

اس زمانے میں اندرون لوہاری گیٹ وغیرہ میں بھی پبلشر ہوا کرتے تھے جو مسودے کی قدروقیمت کا اندازہ اس کے نفس مضمون یا اس کی ادبی قدر سے نہیں بلکہ ہاتھ پر تول کر کرتے تھے۔ بہرحال اس پیشے میں شروع سے وہ لوگ زیادہ رہے ہیں جن کا مسئلہ ادب کی ترویج و اشاعت نہیں تھا بلکہ پیسے کمانا تھا۔ وہ ہمیشہ ایسا ادب چھاپتے تھے جس سے ان کو آمدن ہو جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ پبلشر بڑے نفاست پسند بھی تھے۔

ایک نام لیتے ہوئے مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ یہ نام چودھری نذیر احمد کا ہے جو پہلے اپنے چچا چودھری برکت علی کے ساتھ مکتبہ جدید سے وابستہ تھے لیکن بعد میں انہوں نے نیا ادارہ کے نام سے اپنا علیحدہ ادارہ قائم کیا اور پرچہ ’’سویرا ‘‘نکلا۔ یہ صاحب انتہائی طور پر کاروباری ذہن رکھتے ہوئے بھی کتاب کی چھپائی اور نفاست کے معاملے میں اتنے محتاط تھے کہ جب کاغذ لاتے تو کاغذ کی ہر ایک شیٹ کو پرکھتے اور پھر لیتے اور کوئی کاغذ تھوڑا سا ناقص ہوتا تو اسے الگ کر دیتے ۔ اس کے بعد جب کتابت کا مرحلہ آتا تو وہ چار چار بار پروف ریڈنگ کرواتے تھے۔ جب چھپائی کا وقت آتا تو پریس میں جا کر سنگساز کے ساتھ چائے وغیرہ لے کر بیٹھ جاتے۔ اس زمانے میں پتھر کا کام ہوتا تھا ۔ آخر میں وہ جلد ساز کے پاس جا کر بھی خود بیٹھتے اور انہوں نے کتابوں کے جو پشتے بنوائے وہ آج بھی کسی کو نصیب نہیں ہیں۔ یہ ان کا ذاتی ذوق تھا حالانکہ کتاب ویسے بھی بک سکتی تھی۔ اس لئے انہیں خراج تحسین عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ان ک بعد کئی سال تک ایسا پبلشر نہیں آیا۔

ایک چیز جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے‘ کم ہے یا یہ کہ اس پیشے میں جتنے بھی لوگ آئے مصنف کے ساتھ ان میں سے بیشتر کا سلوک دیانتدارانہ نہیں تھا۔ اگر کوئی پبلشر ایک ہزار کا ایڈیشن چھاپ لیتا تھا تو وہ عام طور پر اس کی زندگی تک ختم ہو تا نظر نہیں آتا ۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے بلکہ اب تو کچھ ایسا ہے کہ پبلشرز نے مصنف کا مال ہضم کرنے کی عجیب عجیب ترکیبیں نکال لی ہیں۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : گھنگروٹوٹ گئے