وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21
وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

  

رحیم سیندوریہ طاقت اور فن کا سرچشمہ تھا۔اس کے بازوؤں میں بے پناہ طاقت تھی اور ٹانگیں تیز دھار تلوار تھیں۔ جن کی لپیٹ میں اگر چھوٹا موٹا ہاتھی بھی آجائے تو ایک لمحہ میں اس کو ٹانگوں پر اچھال کر دور پھینک دیتا تھا۔ ایک عام یا بڑا پہلوان اس کی ٹانگوں کی تاب ہی نہ لا سکتا تھا۔ رحیم سلطانی والا کا انگ انگ اپنے مقابل سے لڑتا تھا۔ اونچا لمبا قد تھا اور وہ اتنے بڑے قد کے ساتھ بھی اگر کسی کی بغل ڈوبنا چاہتا تو ایک چھوٹے سے بچے کے بھی ڈوب سکتا تھا۔ یہ اس کے فن کا کمال تھا۔

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

رحیم سلطانی والا کا سارے ہندوستان میں ایک نام اور مقام بن چکا تھا۔ ایک طرح سے اسے پہلوانی دنیا کی لاج کہا جاتا تھا۔ وہ جس تکنیک سے جتنی کشتیاں جیت چکا تھا اب اس کے حریفوں کی جرات نہ تھی کہ زیادہ سے زیادہ رقم لے کر بھی اس کا مقابلہ کرتے۔ مگر ایک انیس سالہ گاماں تھا نے رحیم سلطانی والا کے کس بل نکال دیئے تھے اور اسکے نام کو دھبہ لگا دیا تھا۔ رحیم نے گو شکست نہیں کھائی تھی مگر ایک انیس سالہ چھو کرے کو گرا نہ سکنا اس کی پہلوانی کی توہین تھی۔ وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتا رہا تھا۔ اکھاڑے سے دل اچاٹ ہو گیا۔ رحیم اس کشتی کے بعد جب دوسرے روز اکھاڑے نہ آیا تو کلو پہلوان رستم ہند اس کے پاس پہنچ گیا۔ دیکھا کہ رحیم افسردہ ہے اور گھاٹ پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔ کلو پہلوان نے رحیم کو پریشان نظروں سے دیکھا اور پوچھا۔

’’یار سیندوریئے کیا بات ہے۔ آج اکھاڑہ کرنے نہیں آئے۔ اللہ خیر کرے طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘

رحیم نے بے جان سی نظروں سے اپنے استاد کو دیکھا اور اصل بات چھپا کر بولا۔ ’’استاد جی!کوئی خاص بات نہیں۔بس آج دل نہیں چاہ رہا۔‘‘

’’نہیں یار رحیم کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھ سے چھپا رہا ہے۔‘‘کلو نے رحیم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شفقت سے پوچھا۔’’بتا دے خیر میرہی سے ناں۔‘‘

’’استاد جی!اصل بات یہ ہے کہ ایک چھچھورا سا چھوکرا میرے سے برابر لڑ گیا ہے۔ میں اسے چت نہ کرسکا۔‘‘

کلو بات سن کر مسکرادیا۔ ’’واہ سیندوریئے!کیا خوب بات کہی ہے۔یاریہ پہلوانی تو نہ ہوئی ناں۔ ابے دل چھوٹا کرنا پہلوانوں کی شان نہیں۔‘‘ پھر اس نے سمجھایا۔ ’’دیکھ رحیم یار!تو ایک بڑا پہلوان ہے۔ تیرا ظرف بھی بڑا ہونا چاہئے۔ اللہ نے تجھے عزت دی ہے۔یہ جو اتنی بڑی دنیا ہے ناں۔ اس میں تجھ جیسے اور بھی بہت پہلوان ہیں۔تجھے یاد ہے کہ بڑے بھا(غلام پہلوان رستم زماں)نے چھوٹی سی عمر میں جموں کے دربار میں اس وقت کے رستم کیکر سنگھ کو للکارا اور اسے شکست دی۔ مگر کیکر سنگھ کو دیکھو حوصلہ نہیں ہارا اور کئی بار مقابلہ کیا۔ دیکھ ،کشتی میں تو ہار جیت ہوتی ہی رہتی ہے۔ تو خوش بخت ہے کہ ہارا نہیں بلکہ برابر چھوتا ہے اور سن!گاماں چھچھورا نہیں۔ میں نے اس میں ایک بڑے پہلوان کے جراثیم دیکھے ہیں۔آخر اس کا باپ عزیز بخش اور نانا بھی تو بڑے پہلوان تھے۔ میرا دل کہتا ہے وہ ضرور بڑا پہلوان بنے گا۔ میں تو تجھے شاباش دوں گا کہ یہ تیرا ہی حوصلہ تھا جوتو اس کے برابر چھوٹ گیا۔ ورنہ وہ تو اب تک بڑے بڑے پہلوانوں کے پسینے چھڑا چکا ہے۔‘‘

رحیم نے کلو کی بات دھیان سے سنی اور اعتراف کیا۔’’ہاں استاد یہ آپ نے ٹھیک ہی کہا ہے۔ اس میں زیادہ قصور میرا ہی ہے۔ میں غرور اورتکبر میں پڑ گیا تھا۔‘‘ دونوں کانوں کوہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔’’اللہ سوہنا معاف کرے۔ کالی کملی والے دے صدقے میرا یہ زعم ختم کرے۔ استاد جی میں خود کو بڑا پہلوان خیال کرنے لگ گیا تھا۔ مجھے خوش فہمی ہو گئی تھی کہ اب ہندوستان بھر میں میرے جوڑ کا کوئی پہلوان نہیں رہا۔ میں نے محنت سے جی چرالیا اورپہلی سی ریاضت بھی نہ کی۔مگر آج اس چھوکرے نے میرے احساس برتری کے شیشے کوپاش پاش کر دیا ہے۔‘‘پھر عزم سے کہا۔’’مگر اب ایسا نہیں ہو گا استاد جی۔ اگر آپ کی یہ پیش گوئی ہے کہ گاماں ایک بڑا پہلوان بنے گا تو میری بھی بات یادرکھ لیں۔میں گامے کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا اورزندگی کی آخری سانسوں تک اس کا مقابلہ کروں گا۔‘‘

کلو پہلوان نے رحیم کا کندھا تھپتھپایا۔’’ایک بات یاد رکھنا رحیم! جو انسان اپنی خامیوں پر نظر رکھتا ہے اور اعلیٰ ظرفی کا احساس دل میں رکھتا ہے وہ اپنی تعمیر کرتا رہتا ہے۔ انسان اگر اپنی خامیاں دور کرلے تو وہ بے مثل ہو جاتا ہے۔ غرور ،تکبر، گھمنڈرعونت اس کے قریب نہیں آتے۔ وہ بس اپنی ذات کی اصلاح میں مگن ہو جاتا ہے۔تجھے رب دیاں رکھاں۔۔۔چل اب اکھاڑے ورنہ دوسرے پہلوان بھی جی چھوٹا کرلیں گے۔‘‘

رحیم سلطانی گوجرانوالیہ غلام پہلوان رستم زمان کا قابل ترین شاگرد تھا۔ کلو غلام کا چھوٹا بھائی تھا مگر رحیم اسے بھی استاد ہی کہتا تھا۔ حالانکہ ایک وقت وہ تھا جب کلو پہلوان کو رحیم ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔دونوں میں ہر ووقت ٹھنی رہتی۔ کلو پہلوان کو رحیم کا غلام پہلوان کے ساتھ ہر وقت چپک کے رہنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ غلام پہلوان کو رحیم کے اندر ایک بڑا پہلوان بننے کے آثار نظر آتے تھے لہٰذا وہ اسے کلو سے بھی عزیز رکھتے تھے۔ مگر کلو ہر وقت رحیم کو مات دینے کے چکر میں رہتا۔ آخر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کلوجوغلام سے اجازت لے کر رحیم کو اکھاڑے میں مقابلہ کے لئے لے آیا مگر جب دونوں اکھاڑے میں اترے تو کلو کو رحیم کی طاقت اور فن کو تسلیم کرناپڑا۔ ایک بار تو دونوں کا لاہور میں مقابلہ بھی ہوگیا جو بعض وجوہ کی بنا پر نہ ہو سکا۔

رحیم سلطانی والا استاد پرست اوروضع دارپہلوان تھا۔اس نے غلام پہلوان کے خاندان سے استادی کا رشتہ خوب نبھایا اور ہمیشہ سعادت مندی کا ثبوت دیا۔ غلام پہلوان نے اپنے ہونہار شاگرد کے فن کو تسلیم کیا اور اپنے بھتیجے گامی پہلوان پسر کلو پہلوان رستم ہند کو اس کا شاگرد بنا دیا تھا جبکہ گامی ابھی بچہ تھا۔ اسی طرح بعد میں رحیم نے اپنے بیٹوں معراج پہلوان اور فیروز پہلوان کو گامی پہلوان پسر کلو پہلوان کی شاگردی میں دے دیا تھا۔یوں یہ رشتہ چار پشتوں تک چلا۔

رحیم سلطانی والا زندگی بھر دنیائے پہلوانی کے عظیم شاہ زور گاماں رستم زماں کا سب سے بڑا حریف رہا۔گاماں نے بھی زندگی میں کسی کے فن کو تسلیم کیا تو رحیم سلطانی والا کے فن کو۔ رحیم سلطانی والا کے والد بابا سلطان اور گاماں کے نانا نون پہلوان کے درمیان بھی کشتی ہوئی تھی یوں یہ دونوں پہلوان اپنے بزرگوں کی طرف سے پیدائشی حریف تھے۔ اس کے علاوہ رحیم پہلوان کے شاگردوں اوربھولو پہلوان رستم زماں کے درمیان بھی متعدد کشتیاں ہوئیں۔یوں گاماں اور رحیم کے شاگرد ہندوستان کے اکھاڑوں کو آباد کرتے رہے اورمسابقت کی اس فضا میں بڑے بڑے نامی گرامی پہلوان پیدا ہوئے جنہوں نے اکھاڑوں میں تاریخ ساز کشتیاں پیش کیں۔

یوں رستم زماں گاماں امام بخش اور بعد میں بھولو کے سب سے بڑے حریف کی حیثیت سے رحیم سلطانی والا کی حیات کا ذکر بھی تفصیل طلب ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہو سکے کہ رحیم کا خاندان ،اس کے شاگرد کس کینڈے کے پہلوان تھے اور خود رحیم سلطانی والا یارحیم سیندوریہ کس جوالا مکھی کا نام تھا۔

رحیم بخش سلطانی والا گوجرانوالیہ بابا سلطان کا فرزند تھا بابا سلطان عمر بخش پہلوان کا عظیم سپوت تھا۔ یہ خاندان کشمیر سے ہجرت کرکے پنجاب میں آبسا تھا۔ اس خاندان کی نقل مکانی بھی دوسرے پہلوان خاندانوں کی طرح ہجرت بنی جب کشمیر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے1819ء میں کشمیر پر قبضہ کرلیا اور بڑے اورشریف النفس پہلوانوں کے لئے وہاں عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو انہیں ہجرت کرنا پڑی۔ ان میں بھکی والا ،نون والا اور سلطان والا خاندان سرفہرست ہے ان کے فرزندوں نے دنیائے پہلوانی میں عظیم شاہ زور پیدا کئے جبکہ علیا اور نانی والا خاندان قندھار سے ہجرت کرکے ملتان میں آبسے تھے۔

ہندوستان کے تقریباً تمام نامی گرامی پہلوانوں (خصوصاً مسلمان)کے آباؤ اجداد کشمیر کے باشندے تھے۔ ان میں نورے والی دف، گوہر کوٹ والی اورکالو والی دف کے پہلوان ہجرت کے بعد پنجاب کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی پھیل گئے۔ البتہ زیادہ تر خاندان پنجاب میں ہی ٹھہر گئے۔ان خاندانوں کی کشمیر سے ہجرت کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو یہ رہی کہ1818-20ء کے قحط کے دنوں میں کئی گھرانوں نے ذریعہ معاش کے لئے ادھر کا رخ کیا،لیکن خیال ہے کہ ان میں عام پہلوان اور عام لوگ ہی تھے جبکہ بڑے پہلوان جو جموں کے دربار سے منسلک تھے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس سے قبل1813ء میں بھی ایک قحط آیا تھا(جسے ست سیرہ قحط کہا گیا)اس میں بہت سے لوگ ہجرت کرکے پنجاب میں آبسے تھے۔ جبکہ1833ء میں تیسرا قحط آیا تو کئی کشمیری خاندان امرتسر آکر آباد ہوگئے۔ اسی دور میں گاماں کے جد امجد بھی ہجرت کرکے امرتسر آئے تھے۔بعض سکھ مؤرخین پنجاب میں کشمیریوں کی ہجرت کی وجہ تسمیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ1818-20ء والے قحط کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کشمیر میں عہد اسلامیہ کے آخری حاکم سردار جبار خاں رمضان تھے۔ وہ ریاست سے سالانہ لگان ساٹھ لاکھ روپیہ وصول کرتے تھے۔ وادی اس سے بہت ہراساں تھی اور وہاں بے چینی پائی جاتی تھی۔ لہٰذا1819ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا اور حکیم عزیز الدین کی سفارش پر دیوان موتی رام کو کشمیر کا گورنر بنادیا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں )

مزید : طاقت کے طوفاں