چلتے ہو تو زیارت چلو

چلتے ہو تو زیارت چلو
چلتے ہو تو زیارت چلو

  

قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین پاکستان میں وہ قابلِ ذکر حیرت انگیز مقامات بھی شامل ہیں جو برطانوی دورِ حکومت کے دوران تعمیر کیے گئے تھے۔ ایک وقت تھا کہ لوگ ان خوبصورت مقامات کی سیر کو جانے کیلئے ترستے تھے کیونکہ وہاں تک پہنچنا بڑا مشکل اور خطرناک ہوتا تھا مگر دنیا نے جیسے ترقی کی ویسے ہی لوگ کے لئے بھی ان مقامات تک پہنچنا آسان ہوگیا۔ ان سحر انگیز مقامات میں وادی زیارت بھی شامل ہے جس کا فسوں آج بھی دلوں کو مسخر کرتا اور ہیبت طاری کردیتا ہے۔ وادی زیارت کی زیارت کیلئے لاکھوں لوگ ہر سال آتے ہیں ۔زیارت جو اپنی خوبصورتی اور پر فضا ماحول کی وجہ سے دنیا میں شہرت رکھتا ہے ۔کوئٹہ سے ایک سو بائیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع زیارت ایک پْرفضا سیاحتی مقام ہے جواپریل سے لیکر ستمبر تک ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ کو دیدکراتا ہے ۔

زیارت کا نام پہلے غوسکی تھا۔ پھر ایک بزرگ خرواری بابا کی وجہ سے زیارت پڑ گیا۔ پشتو زبان میں زیارت مزار کو کہتے ہیں۔ زیارت میں صنوبر کے جنگلات واقع ہیں جبکہ دوسرے کئی پھلوں کے ساتھ زیارت کی چیری بھی پورے ملک میں بہت مشہور ہے۔چیری کا سیزن ایک مہینے تک چلتا ہے۔ اس کے بعد یہاں سیب کا سیزن شروع ہوجاتا ہے۔ زیارت کی خوب صورتی یہاں کے جونیپر کے جنگلات سے وابستہ ہے۔ جونیپر کے درختوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درخت سال میں اپنے قد میں صرف ایک انچ کا اضافہ کرتے ہیں۔ زیارت میں ایسے جونیپر کے قد آور درخت بھی موجود ہیں جن کی عمر ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔مگر ان سب سے زیادہ زیارت میں مشہور ہے وہ قائداعظم ریزیڈنسی ہے۔پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اپنی وفات سے قبل یہاں زیارت ریزیڈنسی میں مقیم تھے۔

قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اسی رہائش گاہ میں قیام کیا۔ جس کے بعد اس رہائش گاہ کو قائداعظم ریزیڈنسی کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دیا گیا۔ اور ایک سو روپے پہ اس ریزیڈنسی کا فوٹو بھی دیا گیا۔ قائد اعظم کی رہائش گاہ دیکھنے کے لئے ملک اور بیرون ممالک سے لوگ سیاحت کیلئے آتے ہیں لیکن موسم گرما کے شروع ہوتے ہی یہاں سیاحوں کی آمد میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے ۔

زیارت بنیادی طور پر پشتونوں کا علاقہ ہے جہاں پر زیادہ تر پشتون قبیلہ کاکڑ آباد ہے۔ کاکڑ قوم جو اٹالن ڈانس کے حوالے سے بہت مشہور ہے یہ ڈانس دیکھنے سیکڑوں لوگ زیارت کی وادی کا کا رخ کرتے ہیں۔ زیارت کے لوگوں کا ذریعہ کاروبار زراعت اور سیاحت کا پیشہ ہے ۔وہ ان شعبوں سے وابستہ ہوکر روزی روٹی کماتے کھاتے ہیں۔ زیارت میں جمعیت العلما اسلام ف کا زیادہ اثر رسوخ ہے اور اکثر ایم پی اے ایم این اے اْن ہی کے جماعت کے منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے مد مقابل دوسری بڑی سیاسی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی ہے ۔

قائد اعظم کی رہائشگاہ انگریزوں نے سنہ 1892 کے آس پاس لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اس دور میں جو بھی حکومتِ برطانیہ کے افسران یہاں آتے تھے وہ اس رہائشگاہ میں قیام کرتے تھے۔لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ خوبصورت رہائش گاہ اپنے بنانے والے کے اعلیٰ فن کی عکاس ہے۔ عمارت کے بیرونی چاروں اطراف میں لکڑی کے ستون ہیں اور عمارت کے اندرونی حصے میں بھی لکڑی کا ا ستعمال بہت خو بصورتی سے کیا گیا تھا۔ لیکن 2013 ء میں کچھ شدت پسندوں نے قائداعظم کی ریزیڈنسی پر حملہ کیا۔چار بم پھٹنے سے زیارت ریزیڈنسی میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں نہ صرف عمارت تباہ ہوگئی بلکہ بانی پاکستان کے زیرِ استعمال جن اشیا کو قومی ورثے کے طور پر محفوظ کیا گیا تھا، وہ بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔اس حملے میں چار سیکیورٹی پر مامور گارڈ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ریزیڈنسی کی عمارت بھی آگ میں جل گئی۔زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی ہمارا قومی ورثہ تھا اسلیئے اس ریزیڈنسی کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور 14 اگست کو یوم آزادی کے دن وزیراعظم پاکستان نے دوبارہ اس ریزیڈنسی کا افتتاح کیا تھا اور دوبارہ اب بھی لاکھوں لوگ اس سیاحتی مقام کی جانب آتے جاتے رہتے ہیں۔ہر پاکستانی چاہے زیارت تک نہ بھی پہنچ سکا ہو لیکن ایک بات کی تمنا سب میں موجود ہے کہ وہ وقت کبھی تو آئے جب انہیں زیارت دیکھنا نصیب ہو۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ