نواز شریف نے تین نسلوں کاحساب دیدیا ، اب عمران کی باری ہے: خواجہ آصف

نواز شریف نے تین نسلوں کاحساب دیدیا ، اب عمران کی باری ہے: خواجہ آصف
نواز شریف نے تین نسلوں کاحساب دیدیا ، اب عمران کی باری ہے: خواجہ آصف

  

سیالکوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) نواز شریف نے اپنی تین نسلوں کاحساب دے دیا ہے اب عمران کی باری ،جہانگیر ترین بھی اپنے والد کا بھی حساب دیں ، عمران نے 1فیصد دے کر اپنا کالا دھن سفید کیا ، عمران خان کی تلاشی شروع نہیں ہوئی تو وہ ریکارڈ دینے سے مکر گئے ہیں ،میں بھی اپنے والد کا حساب دینے کو تیا ر ہوں ،سیاست بے رہم پیشہ ہے اس میں تو کپڑے بھی اتار لئے جاتے ہیں اب عمران کو شوکت خانم کے پیشے چھپنے نہیں دیں گے ، جس پیمانے پر ہمیں تولا گیا سب کا اسی پر احتساب کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹی کو بھارت اور یہودیوں سے ڈو نیشن ملتی ہے مگر کیوں ؟ عمران نے بھارتی متل کے داماد کا ڈونیشن پر ٹوئیٹ کے ذریعے شکریہ بھی ادا کیا تھا ہم اس سب کا حساب مانگیں گے اور پوری طرح سے پیچھا کریں گے۔ نواز شریف خیرات کا بھی حساب دے چکے مگر عمران لوگوں کی خیرات پر کاروباروں میں ڈبو رہا ہے مگر حساب نہیں دے رہے ، نوازشریف استثنیٰ لے سکتے تھے مگر نہیں لی کیونکہ ان کا دامن صاف ہے ، سازش بیرون ملک سے ، نواز شریف پر مشکل وقت کئی بار آیا اب بھی سرخرو ہونگے ، عوام ہماری رپورٹ کارڈ پر ہمارا امتحان لیں گے ۔سازش بیرون ملک سے ہو رہی ہے ہمارے ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر دفاع و بجلی و پانی خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ 

انہوں نے کہاکہ جس ترازو پر ہمیں تولا گیا ہے ہم بھی دوسروں کو اسی ترازو پر تولیں گے ، کسی کو یہ بھو ل نہیں ہو نی چاہیے کہ ہم اپنا حساب دینے کے بعد بھول جائیں گے ایسا نہیں ہو گا ہم پوری طرح سے تعاقب کریں گے اور ان کے انجام تک پہنچائیں گے ، نواز شریف پر بہتان اور الزام لگانے والوں کے ہاتھ خود کالک سے بھر ے ہوئے ہیں اور ان کے دامن داغ دار ہیں ، ہم نے تو اپنا احتساب تین نسلوں تک کروایا ہے اب عمران لند ن والی نسل کا بھی کروائیں اور اپنے ورثہ میں ملنے والی رقم کا بھی احتساب کریں ۔

انہوں نے کہا کہ عمران جس دور میں کرکٹ کھیلتا تھا تب تو پیسے ہی بہت کم ملتے تھے اور عمران نے فلیٹ کی خریداری کا جو موقف اپنایا تھا اس میں بتایا گیا ہے کہ فلیٹ کے لئے بیس سال کے لئے لون لیا مگر پھر چندماہ میں ہی واپس کردیا گیا ، اتنا پیسہ کہاں سے آئے اور کون انہیں پیسے دے رہا تھا ، انہوں نے کہا عدالت میں اب ثابت کریں کہ یہ میری منی ٹریل ہے اور میرے اثاثوں کا یہ ثبوت ہے ، عمران خان کا بنی گالہ کا ہزاروں کنال کا گھر بھی متنازعہ ہے کیونکہ وہ کبھی اپنی متعلقہ بیوی کے پیسوں سے خرید اری کا کہتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں باہر فلیٹ خرید کر بنایا تھا لیکن قوم کو حقیقت معلوم ہو نی چاہیے اور اس کے ذرائع واضح کرنے ہو نگے ورنہ عمران کو ہم نہیں چھوڑیں گے احتساب ضرور کروائیں گے ۔

انہوں نے کہا نواز شریف کا لمبا احتساب ہوا ہے اور اب عمران کی باری ہے کیونکہ ہر کسی کو اب اسی کسوٹی سے گزرنا ہو گا عمران خیرات کے پیسے سے بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں اور میں اس الزام پر قائم ہوں اور میرے خلاف عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ ہے اور میں اس الزام پر قائم ہو ں کہ قوم کی خیرات کو لٹایا گیا ہے جس کا عمران خان کو کوئی اختیار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ میں پوری ہمت سے کھڑا ہوں مگر عمران کا وکیل آتاہی نہیں اور عدالت میں حیلے بہانوں سے کام لیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا ہم نے جن روایات کو قائم کیا ہے اب اسی پر ساروں کو چلنا چاہیے اور تمام سیاستدانوں کا اسی پر احتساب ہو نا چاہیے میں خودکو بھی پیس کرتا ہوں اور اس طرح عمران اور جہانگیر ترین کو بھی اپنے والد کا حسا ب دینا چاہیے ۔ عمران ملکی ترقی کا دشمن ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر ترقی ہو گئی تو میر پتہ ہی صاف ہو جائیگا اور وزیر اعظم بننے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا اور اس لئے دھرنے کے باعث سی پیک کو سات سے آٹھ ماہ تک تاخیر کا شکا رکیا گیا جس کا نقصا ن ملک کو اٹھانا پڑا ہے ہم نے اپنی خدمت کا کارڈ عوام کے سامنے پیش کرنا ہے اور انہوں نے ہی ہمیں پاس یا فیل کرنا ہے ہم نے عوام کی خدمت کی ہے اور عوام ہمیں اس کا صلہ بھی دیں گے ، سیالکوٹ کے ترقیاتی کام آپ سب کے سامنے ہیں اور اسی طرح پورے پنجاب میں کاپی پیسٹ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹی کو بھارت اور یہودیوں سے ڈو نیشن ملتی ہے مگر کیوں ؟ عمران نے بھارتی متل کے داماد کا ڈونیشن پر ٹوئیٹ کے ذریعے شکریہ بھی ادا کیا تھا ہم اس سب کا حساب مانگیں گے اور پوری طرح سے پیچھا کریں گے ۔نواز شریف کہیں نہیں جار ہے اور نہ ہی اس بارے پارٹی میں کسی نے سوچا ہے کیونکہ اس سوچ کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا ۔ سیاستدان اپنا کاروبار چلانے کے لئے دوسری پارٹیوں کے خلاف افوہیں اڑاتے رہتے ہیں اور ایسا نہ کریں تو ان کی دکان ہی بند ہو جاتی ہے ، انہوں نے کہا ورکر لوٹے نہیں ہوتے سیاستدان لوٹے ہوتے ہیں اور شیخ رشید کی تقلید کو ئی نہ کرے کیونکہ ہر کوئی اس قدر بے ضمیر نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ زرداری کا وقت احتساب کر رہا ہے ملک کے لیول کی پارٹی کو صوبہ تک محدود ہونا باعث افسوس ہے ۔

مزید : قومی