بھارتی بے باک اداکارہ سنی لیونی کو یتیم بچی گود لینے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا ،لوگوں نے سابق فحش اداکارہ کے ساتھ مودی سرکار کو بھی نشانے پر رکھ لیا

بھارتی بے باک اداکارہ سنی لیونی کو یتیم بچی گود لینے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا ...
بھارتی بے باک اداکارہ سنی لیونی کو یتیم بچی گود لینے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا ،لوگوں نے سابق فحش اداکارہ کے ساتھ مودی سرکار کو بھی نشانے پر رکھ لیا

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہندوستانی فلم انڈسٹری کی بے باک اور فحش فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی سنی لیونی ایک بار پھر انڈین میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئی ہوئی ہیں لیکن اس بار میڈیا کی زینت بننے کی وجہ ان کا کوئی فحش اور بے باک کردار نہیں بلکہ اکثر بھارتی شہری سنی لیونی کو ایک 21ماہ کی یتیم بچی کو گود لینے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور مودی حکومت سے بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ مودی سرکار نے کیسے ایک فحش سٹار کو ایک معصوم بچی گود لینے کی اجازت دی؟۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کی بے باک اداکارہ سنی لیونی اور ان کے شوہر ڈینیل ویبر نے 2روز قبل لاتور کی ایک 21مہینے کی یتیم بچی کو گود لیا اور اس کا نام ’’نشا ‘‘ رکھا ،سنی لیونی نے اپنے شوہر کے ہمراہ سوشل میڈیا پر بچی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بچی کو گود لینے کے بعد بہت جذباتی ،خوش اور ایک مختلف قسم کے احساس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ،سنی لیونی کو بھارتی فلم انڈسٹری اور ان کے چاہنے والوں کی طرف سے جہاں اس فیصلے پر مبارکبادیں مل رہی ہیں وہیں کئی لوگ سنی لیونی کے ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے معصوم بچی کو گود لینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ کئی لوگ تو مودی سرکار کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھا رہیں کہ مودی سرکار نے آخر کس طرح ایک فحش سٹار کو بھارت کی ایک 21ماہ کی معصوم بچی کو گود لینے کی اجازت دی ؟۔دوسری طرف سنی لیونی کا کہنا تھا کہ نشا کی تصویر دیکھنے کے بعد اسے گود لینے کا فیصلہ کرنے اور معاملات کو حتمی شکل میں انہیں اور ڈینیل ویبر کو تین ہفتے لگے ،جبکہ اس میں 9ماہ لگتے ہیں ۔

مزید : تفریح