17 سالہ لڑکی کا 5افراد کی جانب سے گینگ ریپ، تھوڑے دن بعد گھر کے باہر چہل قدمی کررہی تھی کہ 2 رکشہ ڈرائیوروں نے گھیرلیا اور پھر۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ انسان کانپ اُٹھے

17 سالہ لڑکی کا 5افراد کی جانب سے گینگ ریپ، تھوڑے دن بعد گھر کے باہر چہل قدمی ...
17 سالہ لڑکی کا 5افراد کی جانب سے گینگ ریپ، تھوڑے دن بعد گھر کے باہر چہل قدمی کررہی تھی کہ 2 رکشہ ڈرائیوروں نے گھیرلیا اور پھر۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ انسان کانپ اُٹھے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) گزشتہ سال اکتوبر میں ایک نوعمر بھارتی لڑکی کو پانچ اوباش افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ درندہ صفت مجرموں کو سزا اور متاثرہ لڑکی کو انصاف مل گیا ہو گا، لیکن یہ جان کر یقینا آپ کو بے حد دکھ ہوگا کہ انصاف تو کیا ملتا بدنصیب لڑکی کو ایک بار پھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس بار متاثرہ لڑکی کو دو رکشہ ڈرائیوروں نے گھر کے قریب سے اغواءکرکے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ذہنی مسائل سے دوچار لڑکی گزشتہ ہفتے کے روز گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ گھر والوں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا جس کے بعد دندوشی پولیس سٹیشن میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادی گئی۔

بیوہ خاتون کو رشتے کرانے والی ویب سائٹ پر اپنے لئے ایک آدمی پسند آگیا، بات چیت شروع ہوئی تو فوراً ہی 74 لاکھ روپے سے ہاتھ دھو بیٹھی، کیسے لوٹا گیا؟ جان کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

پولیس کا کہنا ہے کہ شام کے وقت جب لڑکی اپنے گھر کے قریب ہی موجود تھی تو دو رکشہ ڈرائیوروں نے تنہا پاکر اسے اغواءکرلیا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مقامی پولیس کے ایک افسر نے بتایا ”ملزمان کی گرفتاری کیلئے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ دندوشی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے ہرممکنہ جگہ پر ان کی تلاش کی اور 24 گھنٹے میں ہم نے کندیولی کے علاقے سے دونوں ملزمان کو گرفتارکرلیا۔“

گزشتہ سال اکتوبر میں لڑکی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا انکشاف اس وقت ہوا جب طبیعت بگڑنے پر اسے ہسپتال لیجایا گیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاملہ تھی۔لڑکی کی ذہنی حالت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پانچ افراد اسے اغواءکرکے قریبی ریلوے لائن کے پاس لے گئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

پولیس ان پانچوں ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کرچکی ہے اور ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔ لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ پہلے گرفتار ہونے والے پانچ افراد کا اس بار ہونے والے جرم میں ہاتھ ہے کیونکہ وہ انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے اور انہوں نے ہی دوبارہ لڑکی کی عصمت دری کروائی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس