’سعودی خواتین میں اب یہ روایت زور پکڑرہی ہے کہ طلاق کے فوراً بعد وہ لوگوں کو گھر بلاتی ہیں اور۔۔۔‘ سعودی اخبار نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

’سعودی خواتین میں اب یہ روایت زور پکڑرہی ہے کہ طلاق کے فوراً بعد وہ لوگوں کو ...
’سعودی خواتین میں اب یہ روایت زور پکڑرہی ہے کہ طلاق کے فوراً بعد وہ لوگوں کو گھر بلاتی ہیں اور۔۔۔‘ سعودی اخبار نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) کیک، مٹھائیاں، موم بتیاں، آرائش و زیبائش، اور مہمانوں کو بھیجے جانے والے دعوت نامے، یقینا یہ کسی شادی کے لوزامات ہی ہوسکتے ہیں، لیکن ذرا ٹھہرئیے کہ یہ منظر کسی شادی کا نہیں بلکہ طلاق کا ہے۔ اور یہ بات اور بھی باعث حیرت کہ ایسی طلاقیں سعودی عرب جیسے قدامت پسند ملک میں ہو رہی ہیں۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک کی طرح اب سعودی عرب میں بھی یہ رجحان فروغ پارہا ہے کہ خواتین طلاق جیسے المناک واقعے پر رونے دھونے کی بجائے جشن کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایسی تقریبات کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں جنہیں اب ’طلاق پارٹی‘ کے نام سے ہر کوئی جاننے لگا ہے۔

’یہ مجھے بلیک میل کررہا ہے اور میرے ہونے والے شوہر کو فون کرکے کہتا ہے کہ۔۔۔‘ دبئی میں مقیم پاکستانی شہری کے خلاف شکایت لے کر دبئی کی عدالت میں جانے والی برطانوی لڑکی کو ہی پولیس نے گرفتار کرلیا، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

عموماً ان پارٹیوں کا اہتمام ایسی سج دھج سے کیا جاتا ہے کہ ان پر کسی شادی کی تقریب کا گمان ہوتا ہے۔ مطلقہ خاتون اپنی طلاق پارٹی میں عموماً سفید یا رنگین لباس پہن کر آتی ہے اور اپنی سہیلیوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر خوب ہلا گلا کرتی ہے۔ یہ تقریبات گھر پر یا بعض اوقات شادی ہال میں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ طلاق کے حوالے سے خصوصی کیک بھی بنوائے جاتے ہیں اور عموماً ان پارٹیوں کے اخراجات ہزاروں ریال میں ہوتے ہیں۔

ویب سائٹ میڈیا لائن پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں طلاقوں کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت انصاف کے گزشتہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق مملکت میں یومیہ 127 طلاقیں ہورہی ہیں۔ جدہ جیسے شہر میں طلاقوں کی شرح 50فیصد سے زائد ہوچکی ہیں۔

مزید : عرب دنیا