5رکنی بینچ فیصلہ دے کر ختم ہوچکا ،موجودہ بینچ دوایک یا تین صفرسے فیصلہ دے گا، سلمان اکرم راجہ

5رکنی بینچ فیصلہ دے کر ختم ہوچکا ،موجودہ بینچ دوایک یا تین صفرسے فیصلہ دے گا، ...
 5رکنی بینچ فیصلہ دے کر ختم ہوچکا ،موجودہ بینچ دوایک یا تین صفرسے فیصلہ دے گا، سلمان اکرم راجہ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ 20اپریل کا فیصلہ عبوری نہیں تھا بلکہ 5رکنی بینچ کا فیصلہ دے کر ختم ہوچکا ،اب موجودہ بینچ دوایک یا پھر تین صفرفیصلہ دے گا، جے آئی ٹی رپورٹ سفید کاغذ پر لکھا غیر تصدیق  اور خفیہ ذرائع سے حاصل شدہ  جعلی ہے ، عمران بھی منی ٹریل کی عدم دستیابی کا عدالت میں کہہ چکے ، 50سالوں کی پرانی منی ٹریل نہیں طلب کی جاسکتی ، لاہور اور اسلام آباد کے بلیو ایریا کے بلیوارڈ پر واقع گھروں کی منی ٹریل مانگ لی جائے تو ملنا نا ممکن ہے ، دونوں اطراف سے اس کیس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جارہی ہے ، مریم نواز نے فلیٹس کے متعلق وضاحت دے چکیں ، حسین نوا زاپنی ملکیت کا برملا اعتراف کرتے ہیں ، جے آئی ٹی نے مخصوص جواب حاصل کرنے کے لئے سوالات کئے جو انتہائی پر اسرار تھے ، وزیر اعظم کسی بھی کمپنی کے شیئر ہولڈر نہیں تھے اس لئے صادق اور امین کے قانون کا اطلاق نہیں ہو تا ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے نجی ٹی وی اے آر واے اور جیونیوز کے پروگرموں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھاکہ یہ کہنا کہ وزیر اعظم ایک اعزازی عہدہ جوان کے بیٹے کی طرف سے دیا گیا تھا اس کے باعث وہ نا اہل ہو جائیں گے تو اس کے تاریخ پر بہت گہرے اثرات مرتب ہونگے ، وزیرا عظم کسی طور بھی شیئر ہولڈر تھے اور نہ ہی وہاں سے تنخواہ لیتے تھے ،وہ کمپنی  ان کے وزیر اعظم بننے سے قبل ختم ہو چکی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ موجودہ مواد کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی اور اس معاملے کو کسی متعلقہ فورم پر بھیجنا ہو گا ،  موجودہ کیس میں سیاسی شعبدہ بازی ہوئی اور دونوں اطراف سے پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حسین نواز نے فلیٹس کی ملکیت سے کبھی انکار نہیں کیااور نہ ہی یہ بتانے سے انکار کیا کہ کیا ذرائع تھے؟ ہم نے عدالت میں یہی موقف اپنایا تھا اور ہمار ا دفاع بھی یہی تھا کہ دادا نے اپنے پوتوں کو ورثہ میں سب کچھ دیا، اس کا وزیر اعظم سے کوئی تعلق نہیں اورنہ ہی جوڑا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا اسمبلی میں بیان کہ اثاثہ جات کے یہ کاغذات ہیں اس کسی طور پر بھی غلط بیانی نہیں گردانا جا سکتا کیونکہ یہ ان کے مطابق تھا کہ یہ کاغذات اثاثوں کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں اگر کوئی اس سے اختلاف کرے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دانستہ طور پر کسی کو دھوکے دے رہے ہیں لہذا ان باتوں پر وزیر اعظم کی نا اہلی کسی طو ر پر بھی نہیں بنتی اور نا ہی عدالت ایسا کچھ کرے گی کیونکہ ججز کے کمنٹس اور فیصلے علیحدہ ہوتے ہیں اور ہر کمنٹ فیصلے کا حصہ نہیں بنتا ۔

مزید : قومی