دھرنوں کے پیچھے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھے ،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ

دھرنوں کے پیچھے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھے ،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ
دھرنوں کے پیچھے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھے ،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دھرنوں کے پیچھے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھے ،دھرنوں میں عمران خان نے ایجنسیوں کے مہرے کے طور پر کردار ادا کیا،اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 62اور 63کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ن لیگ اور فضل الرحمان نے مخالفت کی تھی اب یہ اسے بھگت رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں نظام چلتا رہے لیکن نیا وزیر اعظم آ جائے ۔میں تو چار سال کا پارلیمنٹ کے دورانیہ کا حامی ہوں ، نواز شریف کی بھارت سے دوستی ،سعودی عرب اور دبئی خاص وجہ سے ناراض ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن اگر وزیرا عظم کے امیدوار ہونگے تو حمایت کرینگے،  نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے محبت مخلص نہیں لیکن مولانا کا نواز شریف سے عشق یکطرفہ ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کی تباہی میں لوڈشیڈنگ نے اہم کردار ادا کیا، پارٹی کے موجودہ حالات دہشتگردی کے باعث بھی ہوئے ہیں لیکن ہم نے بھر پور مقابلہ کیا ۔عمران خان دھرنوں میں ایجنسیوں کا مہر ہ بنا ہوا تھا اور ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کے باہر 30ہزار افراد 3کروڑ سے زائد کے مینڈیٹ کو کیسے رد کر سکتے ہیں اور ہمیں ایجنسیوں کے کردار کا پتہ چل گیا تھا اس لئے نواز شریف کا ساتھ دیا تھا ۔اب نواز شریف کے ساتھ اس لئے کھڑے نہیں کیونکہ ان کے خلاف ایجنسیاں نہیں ان کی اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہے اور اپنے کیے کی سزا پا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا نیا وزیرا عظم لا کر اپنا دور مکمل کیا اور نواز شریف کو بھی اپنا دور مکمل کر نا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں ، مودی کے ساتھ تین خفیہ میٹنگ ہوئیں ، سعودی عرب اور دبئی میاں صاحب سے کسی خاص وجہ سے ناراض ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف مولانا فضل الرحمان کووزارت اعظمیٰ کا امیدورلے کرآئے تو ان کی حمایت کرینگے لیکن نواز شریف دل سے مولانا فضل الرحمن سے محبت نہیں کرتے بلکہ مولانا کا عشق یکطرفہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی کو دیکھتے ہوئے پانامہ جے آئی ٹی کی مخالفت کی ہے مگر وقتی طور پر ہمیں شکست ہو رہی ہے کریڈٹ عمران خان کو جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے رسک لیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نثار میرا دوست تھا سال میں دو بار اکٹھے کھانا کھاتے تھےوہ اقتدار میں آیا تو آنکھیں پھیر لیں ، جو باتیں ہم سن رہے ہیں نثار کا موقف درست ہے ، نثار استعفیٰ دے سکتا ہے لیکن نواز شریف کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتا ۔

مزید : قومی