انتخابات اور خدشات، حوصلے بلند رکھیں

انتخابات اور خدشات، حوصلے بلند رکھیں
انتخابات اور خدشات، حوصلے بلند رکھیں

  

اسلام آباد جسے گریڈوں کا شہر کہتے ہیں، یہاں عالمی سطح کے حوالے ہیں۔ مبینہ طور پر شام ڈھلتے ہی کاگ اڑتے ہیں، ایک سے زیادہ عالیشان کوٹھیوں میں محفلیں جم جاتی ہیں، ہر ایک مقام اپنی نوعیت کا ہوتا ہے اور اسی تناسب سے مہمان بھی ہوتے ہیں، ہمارے بعض صحافی دوستوں کے لئے مشکل بھی ہوتی ہے وہ ایک سے زیادہ محافل کے لئے مدعو کئے جاتے ہیں،اکثر اوقات ان کو ان میں کسی ایک کو پسند کر کے دوسروں سے معذرت کرنا پڑتی ہے۔

اگرچہ بعض دوست ایک سے دوسری جگہ کا بھی چکر لگا لیتے ہیں۔ یہ ہم نہیں کہتے خود انہی دوستوں کی زبانی ہے کہ یہاں سازشیں پلتی ہیں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار ہوتا ہے اس اسلام آباد سے کبھی ’’خیر‘‘ کی خبر موصول نہیں ہوتی،ہر دم خدشات ہی کا اظہار ہوتا ہے اور بڑے وثوق سے ان میں کوئی خبر دی جاتی ہے جو سینہ بہ سینہ چل کر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوتی ہے، تب تک اس اطلاع یا خبر کا حلیہ بھی بگڑ چکا ہوتا ہے،لیکن اب تو بات آگے بڑھ گئی ہے۔

صحافت پر آڑے وقت کا ذکر کرنے والے بھی دانستہ یا نادانستہ ان محافل کے حوالے سے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، انتخابات کے التوا کی سازش، اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور پھر سے مداخلت کی بات بھی وہیں سے ہوتی آئی ہے۔

اگرچہ اس میں انداز دعائیہ ہے کہ اللہ نہ کرے ایسا ہو،لیکن اللہ نہ کرے کے اندر ہی اس خواہش کا اظہار دیکھا جا سکتا ہے کہ ایسا ہو جائے۔

یہ بات تو وفاقی دارالحکومت کی ہے جو خوبصورتی کے ساتھ ہی آج کل اچھے موسم کی وجہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے، یہاں کوٹھیوں میں تو جو باتیں ہوتی ہی ہیں، پانچ ستاروں والے دو ہوٹل بھی حالاتِ حاضرہ کا حال سناتے ہیں کہ یہاں کافی اور چائے کی پیالی پر تبادلہ خیال ہوتا اور بہت سنجیدہ قسم کی گفتگو ہوتی ہے،ہمیں کئی بار ایسی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا،یہاں کوٹھیوں والے بیانئے کی نسبت بڑی دردمندی سے حالاتِ حاضرہ کا ذکرِ خیر ہوتا اور پھر تشویش پر اختتام ہوتا ہے۔

یوں بات یہاں بھی ویسی کی ویسی ہے، یہیں پیروں کی بات بھی چلتی اور مستقبل کا نظارہ کرا دینے یا حالات کو تبدیل کرنے کے دعویداروں کا بھی ذکر ہوتا ہے اور بابوں کی بات چلتی ہے۔اگرچہ اب اس میں معتدبہ کمی آ چکی ہے، تاہم گزارش یہ ہے کہ یہ جتنی بھی خوفناک یا خطرناک قسم کے خدشات والی خبریں ہیں وہ انہی محافل کا ثمر ہیں،ہم ان سے محظوظ ہوتے ہیں کہ لاہور میں بیٹھ کر کوشش کی جائے تو کچھ بہتر صورت نظر آنے لگتی ہے۔

ہمارے ایک پیارے سے دوست نے اپنے کالم میں5جولائی77ء کی بات کی ہے اور خدشے کا اظہار کیا،ہم اپنی معلومات اور حالات کے جائزے کے بعد یہ کہنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ فی الحال ایسا کوئی خدشہ نہیں،تمام تر الزامات کے باوجود انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ انتظامات بھرپور ہیں اور امن و امان کے لئے بھی بہت کچھ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن اور عبوری حکومت کے اعلامیوں اور بیانات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات یقیناً(ان شاء اللہ) 25جولائی ہی کو ہوں گے اور ہو جائیں گے۔

اب جہاں تک نتائج کا معاملہ ہے تو اِس حوالے سے ہر ایک کے کچھ اپنے اندازے اور تجزیئے ہیں،کپتان اپنی فتح پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کو اتنی زیادہ اکثریت مل جائے کہ وہ واحد اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے اقتدار سنبھال سکیں کہ ’’ان کا پاکستان‘‘ تو اسی طرح بن سکتا ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی اپنی جدوجہد ہے اور اس میں سب کچھ ہونے کے علاوہ یہ پہلو بھی موجود ہے کہ شیر دھاڑے گا اور شیر کی فتح کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی جیل سے باہر ہوں گے۔صدرِ پاکستان مسلم لیگ(ن) محمد شہباز شریف کے اس بیانیے کی ہمیں تو سمجھ نہیں آ رہی۔

کیا ان کا مقصد یہ ہے کہ حکومت ملی، اکثریت ہوئی تو وہ اسمبلی سے کوئی قرارداد یا قانون منظور کرا کے اپنے قائد اور بڑے بھائی کو باہر لے آئیں گے،حالانکہ ان کو اپیلوں کا جو حق ہے اس کا پہلا حصہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت منظور کر لی اور آئندہ تاریخ 30جولائی ہے، یوں قانونی حق کی وجہ سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ نواز شریف،مریم نواز اور صفدر کو شاید ضمانت مل جائے اور وہ اپیل کے فیصلے تک باہر آ جائیں۔

بہرحال بعض حضرات دونوں بھائیوں کے بیانیے میں تضاد اور اختلاف تلاش کر رہے ہیں،لیکن ہمارے نزدیک یہ بہت مشکل ہے۔ شہباز شریف کا ماضی گواہ ہے وہ اب تک ذہنی تحفظ کے باوجود ’’باغیانہ رویہ‘‘ نہیں اپنا سکے، اِس لئے یہ ناممکن ہے کہ دونوں میں شدت پیدا ہو، ہمارے نزدیک اس صورتِ حال میں یہ بات محلِ نظر ہے کہ حالات کو 70ء سے مماثل قرار دیا جائے اور نواز شریف کو آج کے دور کا ’’شیخ مجیب الرحمن‘‘ کہنے کی کوشش کی جائے۔دونوں ادوار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

آج کی اسٹیبلشمنٹ بار بار جمہوریت کی حمائت کا اعلان کرتی چلی آ رہی ہے اور ایسا محسوس بھی نہیں ہوتا کہ مداخلت ہو، تاہم اگر خدانخواستہ انتخابات کے بعد سیاست دان حضرات نے تحمل اور بردباری سے کام نہ لیا اور مایوسی کے عالم میں انتخابی دھاندلی کے الزامات کے تحت کوئی تحریک چلائی تو پھر یہ جماعتیں ازخود عبوری انتظامات کو طوالت دینے کا سبب بن سکتی ہیں کہ ایک آپشن ایمرجنسی کا ہے، جسے موجودہ صدر شاید انکار نہ کر سکیں اور اگر مجبوری ہوئی تو وہ چھٹی پر جا سکتے ہیں، اور ان کے قائم مقام دستخط کر دیں گے۔

اِس سلسلے میں ایک بات کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی اور موجودہ پیر پگارو کے بیانئے، جی ڈی اے کے قیام اور عمران خان کے علاوہ مجلس عمل کی طرف سے پیپلزپارٹی کی مخالفت کو پیپلزپارٹی کی سندھ میں بھی شکست کو ’’مقدر‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

دلائل تو بہت ہیں، مگر یہ جو اعتماد ہے ایک امر کو نظر انداز کر رہا ہے کہ سندھ میں لوگ بے نظیر بھٹو کو بی بی یا بے نظیر نہیں، ’’شہید رانی‘‘ کہتے ہیں اور یہ درجہ ان کو شہادت ہی سے ملا، سندھی عوام کے لئے گڑھی خدا بخش کا مقبرہ اب بابرکت زیارت ہے۔

مزید : رائے /کالم