الیکشن 2018جمہوریت کی ہیٹ ٹرک ؟!!

الیکشن 2018جمہوریت کی ہیٹ ٹرک ؟!!
الیکشن 2018جمہوریت کی ہیٹ ٹرک ؟!!

  

الیکشن سر پر ہیں ہر امیدوار جیتنا چاہتا ہے ویسے بھی ہمارا معاشرہ جذباتی اورعدم برداشت کا شکار ہے ہر سیاسی جماعت کاامیدواراپنے مد مقابل مخالف سیاسی جماعت کے امیدوارکوچاروں شانے چت کرنا چاہتا ہے ہم سے پہلے ہمارے ساتھ اور ہمارے بعدآزادی پانے والی قوموں کے ہاں پہلے سیاسی شعور کی پختگی اورپھرجمہوری اقدارکی آبیاری اوراب ایک پختہ بنیاد پرکھڑی مضبوط جمہوری عمارت بن چکی ہے ان ممالک میں جمہوری ادارے ملکی ترقی کی ضمانت بن چکے ہیں ہمارے لئے یہ امرباعث طمانیت ضرور ہے کہ اقتدار پر 40سالہ قبضے کی داستان میں دومسلسل پانچ سالہ جمہوری ادوارشامل ہیں 70سال میں پہلی مرتبہ مسلسل تیسرے عام انتخابات ہونے جارہے ہیں 25جولائی بروزبدھ ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہونے جارہے ہیں وفاق کی 272 نشستوں کے لئے 3ہزار675 امیدوار آمنے سامنے ہوں گے، جس میں 44اقلیتی امیدواربھی شامل ہیں چاروں صوبوں میں صوبائی نشستوں کے لئے 8ہزار895امیدوارپنجہ آزمائی کے لئے میدان میں اتریں گے، مُلک کی 22کروڑسے زائدآبادی 60فیصدنوجوان طبقے پرمشتمل ہے، جس میں زیادہ تعدادخواتین کی ہے ملکی آبادی کانصف سے زائدنوجوان طبقہ عقل منداورقابل بھی ہے اورفہم وفراست بھی رکھتا ہے اس نوجوان طبقے میں سے 50فیصدربالغ بچے بچیاں تعلیم یافتہ اور 20 سے30فیصد برسر روزگار ہیں یہی سمجھ بوجھ رکھنے والا طبقہ انتخابات میں گیم چینجر ہو گا گوجرانوالہ 50لاکھ 14ہزار 196مرد و خواتین پر مشتمل ہے۔

ووٹر کی تعداد25لاکھ 63ہزار 172جن میں 14لاکھ 68ہزار 300 مرد 10لاکھ 94ہزار 872 خواتین ہیں یہاں این اے کے 6اورپی پی کے 14حلقے شامل ہیں گوجرانوالہ میں دھڑے بندی برادریوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے ووٹ بھی ہیں این اے 79پی ٹی آئی کے چودھری احمدچٹھہ مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر نثار چیمہ اورتحریک لبیک کے محمدفیاض گوندل میدان میں موجود ہیں اوراین اے 79میں پی ٹی آئی کا پلڑابھاری ہے این اے 80سے تحریک لبیک کے محمد احمد محمدی سیفی پی ٹی آئی کے میاں محمد طارق اور مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد بشیر ورک جو کہ سابق وزیرقانون ہیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

این اے 81سے مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیرخان جو کہ سابق وفاقی وزیر، پی ٹی آئی کے چودھری محمد صدیق مہر تحریک لبیک سے ناراض ہو کر اپنی جماعت بنانے والے ڈاکٹر محمداشرف آصف جلالی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے محمد فیاض گوندل ہیں اِن دونوں کے مذہبی ووٹ کا فائدہ پی ٹی آئی کے چودھری محمدصدیق مہر کو ہوگا این اے 82سے مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیرعثمان ابراہیم پی ٹی آئی کے علی اشرف مغل کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے یہاں سے تحریک لبیک کے شہباز نثار خاں کھڑے ہیں این اے 83 سے رانا محمد نذیر پاکستان تحریک انصاف اور ذوالفقار بھنڈر مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں رانا نذیرگروپ کومسلم لیگ (ن) گروپ پر اکثریت حاصل ہے این اے 84 میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا بلال اعجازجوکہ اپنے مرحوم والد رانا اعجازاحمدکی وجہ شہرت اور راجپوت برادری میں اثرورسوخ رکھنے کے حامل گردانے جاتے ہیں اورمسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے سابق رکن قومی اسمبلی اظہرقیوم ناہراحصہ لے رہے ہیں،جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابریعقوب فتح محمد کے بھائی ڈاکٹرعامرحسین کوپی ٹی آئی کاٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزادحیثیت سے انتخابات میں حصہ لینا پڑا، جس کی وجہ سے راجپوت برادری کا ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ مسلم لیگی امیدوار کو براہِ راست حاصل ہو رہا ہے۔

مُلک میں موبائل فون صارفین کی تعداد15کروڑ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے اور آدھے صارفین کے پاس انٹرنیٹ سروسز کی سہولت موجود ہے سوشل میڈیا زوروں پر ہے،جس کاموجودہ سیاسی عمل امیدواروں کی ساکھ خاندانی شہرت اورانتخابی مہم موثراندازمیں چلائے جانے کی بنیاد پرانتخابی نتائج پربھی گہرااثردکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے عوام کسی نہ کسی لحاظ سے سیاسی وجمہوری شعورکے حامل ہوگئے ہیں عوام کے لئے مشکل نہیں کہ وہ حالات کادرست اندازہ کرکے بیلٹ پیپرکے صحیح استعمال کاعملی نمونہ پیش کریں سیاسی پہلوانوں کی اکھاڑپچھاڑاورحلقہ بندیوں میں تبدیلی کے نام پر کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔

عسکری اداروں کے اہلکاروں کی پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعیناتی اور میڈیا کو ایک گھنٹے کے بعد انتخابی نتائج کااعلان کرنے کے پابند کرنے کا معاملہ بھی عام انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان بن سکتا ہے جس پر ابھی سے ملک کے اندراورعالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے نگران حکومت کے عام انتخابات کو بروقت غیر جانبدار اور شفاف الیکشن کمیشن کے پولنگ عملے کے لئے باضابطہ اخلاق کا اجراء خوش آئند ہے۔

مزید : رائے /کالم