انتخابات کے بعد سیاسی طوفان کے خدشات

انتخابات کے بعد سیاسی طوفان کے خدشات

پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے ارکانِ سینیٹ نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شفاف انتخابات کے انعقاد میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، جو بھی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا اسے بے نقاب کریں گے، 25جولائی کو بیلٹ پیپر کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ ہوئی تو اس کا ردعمل خطرناک ہو گا۔راجہ ظفر الحق نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ(ن) نگران حکومتوں کے نظام کو ختم کرنے کے لئے آئینی ترمیم لائے گی۔ یہ سسٹم فراڈ ہے، سینیٹر نگہت مرزا نے کہا کہ الیکشن شروع ہی سے متنازع بنا دیا گیا ہے،ایم کیو ایم جھنڈے نہیں لگا سکتی، امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، پتنگ کا نشان نہیں لگانے دیا جا رہا،کراچی میں دو پارٹیوں کو اقتدار میں لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ سینیٹر چودھری محمد سرور نے کہا کہ سب کو لیول فری گراؤنڈ دیا جائے ہم فیئر اور فری الیکشن کے حق میں ہیں۔ سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ عدالتیں ہر وہ کام کر رہی ہیں جو نہیں کرنا چاہئے،ادارے اپنا اپنا کام نہیں کر رہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہر قسم کی انجینئرنگ کی جا رہی ہے، کوئی رات کو ہمارے پوسٹرز اور بینرز اُتروا رہا ہے کوئی مقدمات درج کرا رہا ہے، کوئی عدالتوں سے فیصلے کرا رہا ہے۔ سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ یہ شفاف الیکشن کا ماحول نہیں ہے، لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے دیں۔ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی نگران حکومتیں جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جو آج بھی جیلوں میں ہیں، ہمارے ہاتھ پاؤں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر میدان میں چھوڑ دیا گیا ہے، سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی ذمے داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کریں، انتخابات پر روز بروز گہرے بادل چھا رہے ہیں، بہت سے دوسرے سینیٹروں نے بھی ان سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا۔

مسلم لیگ(ن) اور کئی دوسری جماعتوں کو انتخابات کے سلسلے میں جو شکایات ہیں، ان کی تفصیلات تو اکثر و بیشتر منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہیں جھنڈے اور بینر اتارنے کی شکایات ہیں، تو کہیں امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے ایک بڑی دلچسپ خبر یہ آئی ہے کہ وہاں ایک ادارے کے دو جعلی افسر ووٹروں کو ہراساں کر کے ایک خاص امیدوار کے حق میں رائے دینے پر مجبور کر رہے تھے، بعض کو ’’گرفتار‘‘ کر کے ’’افسر‘‘ کے روبرو پیش کرنے کے لئے بھی لے جایا گیا،اگلے روز ووٹروں نے ان دونوں افسروں کو پکڑ کر بٹھا لیا تو وہ مُکر گئے کہ وہ افسر ہیں، البتہ اپنے دوست امیدوار کے حق میں ووٹ ضرور مانگ رہے تھے۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان انتخابات میں کنویسنگ کے کیسے کیسے انقلابی طریقے رواج پا رہے ہیں اور ووٹروں کو کس کس طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسی ضلع کے ایک نامور امیدوار نے بڑے فخر سے اپنے دوستوں کو بتایا کہ اس مرتبہ الیکشن لڑنے کا مزہ آ رہا ہے،کیونکہ اُنہیں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اُنہیں ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں اُن کا نام بتائیں تاکہ اُنہیں تھانے بُلا کر اُن کی خدمت کی جا سکے۔ نامعلوم ٹیلی فون کالوں کے ذریعے کنویسنگ کی جانب ہم پہلے بھی اِن کالموں میں توجہ دِلا چکے ہیں۔

سینیٹ کے ارکان کے خطاب سے بھی یہ شکایت جھلکتی ہے ہر جگہ ایک ہی شکایت ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) زیر عتاب ہے تو سندھ میں پیپلزپارٹی خصوصی ہدف ہے اس طرح کراچی شہر کے حلقوں میں بھی مخصوص امیدواروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ نگران حکومتوں کی نگرانی میں ہو رہا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دھاندلی ہی کرانی ہے اور ووٹروں کو ہراساں کر کے مخصوص جماعتوں اور مخصوص امیدواروں کی حمایت پر آمادہ کرنا ہے تو اس کے لئے اتنے تکلفات کی کیا ضرورت تھی،اس حجاب کو ہٹا کیوں نہیں دیا جاتا اور من پسند امیدواروں کے حق میں کھل کھلا کر بات کیوں نہیں کی جاتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ایک حالیہ فیصلے، ریمارکس اور اب بار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بعد عدالتوں کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ججوں سے رابطے کئے جا رہے ہیں، من پسند فیصلوں کے لئے کہا جا رہا ہے اور اس کے لئے ترغیبات بھی دی جا رہی ہیں،غالباً یہی وجہ تھی کہ راجہ ظفر الحق نے سینیٹ کے فلور پر کہا کہ یورپی یونین کا ایک وفد اُن سے ملاقات کے لئے آیا جہاں ایک صحافی نے کہا ’’سُنا ہے فیصلہ شاپنگ بیگ میں آیا تھا‘‘۔

راجہ ظفر الحق نے نگران حکومتوں کے نظام کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس نظام کے خاتمے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔ راجہ صاحب یہ تجویز اس مکے کے مترادف ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعد از جنگ یاد آئے تو اُسے اپنے مُنہ پرمار لینا چاہئے۔ اِس تجویز کی منظوری کا بہترین وقت وہ تھا جب اٹھارھویں آئینی ترمیم منظور کرائی جا رہی تھی، جس کے ذریعے آئین کی متعدد دفعات بدل دی گئیں،لیکن اِس جانب یا تو کسی کی توجہ نہ گئی یا مصلحتاً اس سے چشم پوشی کی گئی، ایسی باتیں مسلم لیگ(ن) کو اس وقت سوچنی چاہئے تھیں جب اس کی حکومت تھی، اس نظام کی ’’فیوض و برکات‘‘ سے ارکانِ اسمبلی کو آگاہ کر کے اُنہیں قائل کرنا چاہئے تھا کہ نگران حکومتوں کا یہ نظام مُلک کے لئے بہت مضر ہے،کیونکہ اس کے تحت ایسے لوگ اعلیٰ مناصب پر فائز ہو جاتے ہیں، جو انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ ور نہیں ہوتے،اب کی بار تو نگران حکمران خود ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اہلیت سے کوسوں دور ہیں، جس انداز میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب کئے جاتے ہیں اور جس طرح بعض مخصوص لوگوں کی لاٹری نکل آتی ہے وہ بذاتِ خود محلِ نظر ہے۔اس سسٹم کا بنیادی مقصد تو انتخابات کو متنازع ہونے سے بچانا تھا،لیکن بدقسمتی سے نگران حکومت کے اپنے کارنامے ہی انتخابات کو متنازع بنانے کے لئے کافی ہیں،جو کچھ انتخابات سے پہلے ہو رہا ہے وہ اگر پولنگ والے دن بھی ہوتا ہے اور ووٹ کا تقدس مجروح ہوتا ہے تو سوال پیدا ہو گا کہ ایسے انتخابات کو متنازع ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے، 25جولائی سے پہلے پہلے اگر کچھ اقدامات ہو جائیں اور ہوتے ہوئے نظر بھی آ جائیں تو بہتر، ورنہ انتخابات کے بعد ایک نئے سیاسی طوفان کے مقابلے کی تیاری ابھی سے کر لینی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ